موضوع:بارات(قسط:1 )
آتش بازی و فائرنگ:
بارات کے موقع پر رائج خرافات میں سے ایک آتش بازی و فائرنگ بھی ہے،موجودہ دور میں جب بارات آتی ہے تو لڑکے والے ساتھ ہی آتش بازی کا سامان لائے ہوتے ہیں جس میں زیادہ تر آتشی انار(ایک قسم کی آتش بازی کا پٹاخہ جس میں آگ کی شعائیں ہوتی ہیں) ہوتا ہے جو کہ انٹری کے وقت دروازے پر ہی جلایا جاتا ہے اور بھی مختلف قسم کے بم پٹاخوں کے ذریعے آتش بازی کی جاتی ہے۔حالانکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آتشبازی جس طرح شادیوں میں رائج ہے،بیشک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں تضییع مال(یعنی مال کو ضائع کرنا) ہے۔قرآنِ مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کا بھائی فرمایا۔مزید شیخ عبد الحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بری بدعات میں سے یہ اعمال ہیں جو ہندوستان کے زیادہ تر شہروں میں متعارف اور رائج ہیں جیسے آگ کے ساتھ کھیلنا اور تماشا کرنے کیلئے جمع ہونا اور گندھک جلانا (آتش بازی کرنا) وغیرہ۔([1]) بعض جگہوں پر آتش بازی کے بجائے فائرنگ کی جاتی ہے جو کہ قانونی طور پر بھی منع ہے اور اس کی وجہ سے بعض اوقات لوگوں کو اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔خیال رہے کہ کسی مسلمان کے جان و مال یا عزّت کو نقصان پہنچانا حرام و گناہ ہے۔([2]) اکثر ایسے واقعات دیکھنے سننے میں آئے ہیں کہ ہوائی فائرنگ کی وجہ سے فلاں کا بچہ انتقال کر گیا وغیرہ وغیرہ، کیونکہ ہوا میں بلندی کی جانب جانے والی گولی جب واپس زمین کی طرف آتی ہے تو وہ بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔اگر گولی سے کوئی نقصان نہ ہو تب بھی تیز آواز کے سبب بزرگ اور مریض متاثر ہوتے ہیں، پھر اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔لہٰذا اتنے سارے خدشات کا تقاضا ہے کہ اس رواج کا خاتمہ کیا جائے۔
مہمانوں پر پھول نچھاور کرنا:
بارات کا استقبال کرتے ہوئے پھول نچھاور کیے جاتے ہیں، شادىوں مىں دولہا دلہن پر پھول برسانا اسراف نہیں، کیونکہ اس پر عرف ہے۔پھول نچھاور کرنے کو گُل پاشی کہتے ہیں۔دولہا دلہن پر گُل پاشی کرنا شرعى طور پر ناجائز نہیں، اس لیے کہ گل پاشی سے خوشبو پھىلتى ہے اور ماحول میں ایک کشش اور رونق پیدا ہوتی ہے تو یوں اس کا کچھ نہ کچھ فائدہ اور مقصد ہے۔اب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گل پاشی کرنے سے پھول پاؤں تلے آئیں گے حالانکہ یہ پھول سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پسینے سے پیدا ہوئے ہیں لہٰذا گلاب کے پھولوں کی بے ادبی ہو گی تو ىہ ایک عوامی تصور ہے۔ بعض روایات میں یہ ہے کہ گلاب کا پھول سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے مبارک پسینے سے پیدا ہوا ہے لیکن محدثین نے ایسی روایات پر بڑی جرح اور بڑا کلام کىا ہے اور اکثر محدثین کے نزدیک یہ روایات من گھڑت ہیں۔بالفرض اگر یہ مان بھى لیا جائے کہ پھول بننے کا سبب سرکار کا پسینا ہے تب بھی شاید یہ گل پاشی کے ناجائز ہونے کی وجہ نہ بن سکے۔البتہ!اگر اس موقع پر پھول نچھاور کرنے کے لیے بے پردہ لڑکیاں جمع ہوں اور بے پردگى کے ماحول میں پھول نچھاور کیے جا رہے ہوں تو یقیناً بے پردگی کو روکا جائے گا۔([3]) ایسی صورت میں جواز بھی نہ ہو گا۔لہٰذا مردوں کا اسقبال مرد اور عورتوں کا عورتیں ہی کریں تو زیادہ بہتر ہے اور انتظامات بھی مخلوط نہ کیے جائیں۔
بارات پر پیسہ لٹانا:
بعض جگہوں پر بارات پر پیسے، نوٹ لٹائے جاتے ہیں، یہ منع ہے، جیسا کہ فتاویٰ رضویہ میں ہے:بہت علما نے روپوں پیسوں کا لٹانا جس طرح دلہن دولہا کی نچھاور میں معمول ہے منع فرمایا کہ روپے پیسے کو اللہ نے خلق کی حاجت روائی کے لیے بنایا ہے تو اسے پھینکنا نہ چاہیے۔([4])
دولہے کو نوٹوں کا ہار پہنانا کیسا؟
بارات کے وقت یہ بھی رائج ہے کہ دولہے کو نوٹوں اور کہیں پھولوں کا ہار پہنایا جاتا ہے، پھولوں کا ہار پہنانے میں تو کوئی حرج نہیں البتہ!شادی ہو یا کوئی بھی خوشی کا موقع نوٹوں کا ہار پہننا پہنانا منع ہے،پہننے اور پہنانے والے دونوں اس عمل کی وجہ سے گناہ گار ہوتے ہیں، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس بُری رسم سے بچیں اور بغیر نوٹوں والے ہار پہنائیں کہ ان کا استعمال جائز ہے۔فتاویٰ مرکزِ تربیتِ افتا میں ہے:نوٹوں کا ہار پہنانے کی رسم منع ہے اس لیے ان سے بچیں۔([5]) لہٰذا نوٹوں کے ہار کی جگہ پھولوں کے ہار یا پھر دیگر نقلی ہار پہنائے جائیں۔
ڈھول بجانا اور ناچنا:
بارات میں رائج خرافات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بارات کے ساتھ بینڈ باجے والوں کو بھی لے کر جایا جاتا ہے، دولہے کے پہنچنے پر خوب شہنائی بجاتے اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہیں۔شہنائی یہ موسیقی کا ایک مخصوص ساز ہے جو اکثر شادی بیاہ کے موقع پر بجایا جاتا ہے۔ہندوستان میں خاص کر شہنائی کی آواز نیک شگون سمجھی جاتی ہے۔اگر کہیں بینڈ باجے اور شہنائی نہ ہو تو کم از کم وہاں ڈیک پر میوزک ضرور لگایا ہوتا ہے۔
شادی بیاہ یا اس کے علاوہ کسی بھی موقع پر کھیل کود کے طور پر ڈھول بجانا، گانے گانا، ڈیک وغیرہ پر میوزک چلانا، آتش بازی کرنا اور اجنبی مردوں عورتوں کا اختلاط سخت ناجائز و حرام اور اللہ پاک کی شدید نافرمانی والے کام ہیں۔نکاح اور ولیمہ نہ صرف سنت ہے، بلکہ انسان کے فطری تقاضوں کی تکمیل کے لیے اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ بہت بڑی نعمت بھی ہے، اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ نکاح اور شادی کے تمام تر معاملات کو اسلامی طریقہ کار کے مطابق سرانجام دیں اور ہر اس چیز سے بچیں جس سے اسلام نے منع کیا ہے۔افسوس!آج کل نکاح اور شادی کے موقع پر غیر شرعی و غیر اخلاقی رسمیں اور پابندیاں دن بدن بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں،گویا انہیں گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا، حالانکہ یہ تمام کام سخت ناجائز و حرام ہیں اور یہ بات بھی یاد رہے کہ فی زمانہ گھریلو لڑائی جھگڑوں اور طلاق کی دن بدن بڑھتی ہوئی شرح کا ایک سبب ان گناہوں کی نحوست بھی ہے،لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ شادی کے موقع پر ہونے والی غیر شرعی و غیر اخلاقی رسموں اور پابندیوں کو ختم کریں اور علمائے کرام سے شرعی رہنمائی لے کر تقریب کے تمام تر معاملات سر انجام دیں،تاکہ نکاح جیسی عظیم سنت کی حقیقی برکتیں حاصل ہو سکیں۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجوانا، ناچ کرانا حرام ہے۔([6]) یاد رہے!گناہ کے کام میں نہ کچھ بھلائی ہے اور نہ اس میں کوئی نیک شگون ہے۔
سمدھ ملاوہ:
کچھ لوگوں کے ہاں بارات کی آمد پر لڑکی والوں کی طرف سے سمدھ ملاوہ کے نام سے رسم ہوتی ہے، اس رسم میں لڑکی اور لڑکے والوں کی طرف سے کوئی ایک ایک بزرگ آپس میں گلے ملتے ہیں۔لڑکے والوں کی طرف سے جو بزرگ ہوتے ہیں ان کو لڑکی والوں کی طرف سے سوٹ کے ساتھ شال اور اپنی حیثیت کے مطابق پیسے وغیرہ سمدھ ملاوہ کے طور پر دیئے جاتے ہیں۔یہ تحفہ ہے اور تحفہ دینے میں کوئی حرج نہیں، اس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔
(جاری ہے۔۔)
[1]…فتاویٰ رضویہ،23/280،279ملتقطاً
[2]… مسلم،ص1064،حدیث:6541 ماخوذاً
[3]… دولہا پر پھول نچھاور کرنا کیسا،ص2،1
[4]… فتاویٰ رضویہ،24/521
[5]… فتاویٰ مرکزِ تربیت افتاء، 2/379
[6]… فتاویٰ رضویہ، 23/98
Comments