(نیک عمل نمبر 26)
جب بندے کو اس بات کا علم ہو جائے کہ گناہ کا نقصان بہت بڑا ہے اور وہ اس کے اور اس کے رب کے درمیان رکاوٹ ہے تو وہ اس گناہ پر شرمندہ ہو کر اس بات کا ارادہ کر لیتا ہے کہ گناہ چھوڑ دے گا، آئندہ نہ کرے گا اور جو پہلے کئے ان کی وجہ سے اعمال میں جو کمی واقع ہوئی اسے بھی پورا کرنے کی کوشش کرے گا تو بندے کی اس کیفیت کو توبہ کہتے ہیں۔([1]) مگر افسوس!نفسا نفسی کے اس دور میں ہر طرف گناہوں کی بھرمار ہے اور خود کو ان گناہوں سے بچانا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔بعض گناہ تو معاشرے میں اس طرح رچ بس چکے ہیں کہ کوئی انہیں گناہ ہی نہیں سمجھتا۔چنانچہ خواتین کو گناہوں بھری زندگی سے منہ موڑ کر رب کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی ترغیب دلانے کے لئے نیک اعمال کے رسالے میں سوال نمبر 26 کچھ یوں مذکور ہے:کیا آپ نے مَعاذَ اللہ گناہ ہو جانے کی صورت میں فورًا توبہ کی؟(کاش!روزانہ کم از کم70بار استغفار مثلاً 70بار استغفر اللہ پڑھنا نصیب ہو جائے)
یعنی اگر کبھی مَعاذَ اللہ گناہ ہو جائے تو اللہ پاک کی بارگاہ میں فوراً توبہ کر لینی چاہیے۔کیونکہ توبہ کا معنیٰ ہے:رجوع کرنا۔اگر یہ اللہ پاک کی صفت ہو تو اس کے معنیٰ ہوتے ہیں: اِرادۂ عذاب سے(اپنی شان کے لائق)رجوع فرمالینا۔اگر یہ بندے کی صفت ہو(یعنی یہ کہا جائے کہ بندے نے توبہ کی)تو اس کے معنیٰ ہوئے ہیں:گناہ سے اطاعت کی طرف، غفلت سے ذکر کی طرف،غَیبت(یعنی غیر حاضری) سے حضور(یعنی حاضری) کی طرف لوٹ جانا(یعنی پلٹ آنا)۔توبہ صحیح یہ ہے کہ بندہ پچھلے گناہوں پر شرمندہ ہو، آئندہ نہ کرنے کا عہد کر ے اور جس قدر ہو سکے اسی قدر پچھلے گناہوں کا بدلہ کر دے،نمازیں (رہتی ) ہوں تو قضا کرے، کسی کا قرض رہ گیا ہے تو ادا کر دے۔ حضرت جنیدِ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:توبہ کا کمال یہ ہے کہ دل لذتِ گناہ بلکہ گناہ بھول جائے(یعنی دوبارہ اس گناہ کے کرنے کا خیال بھی دِل میں نہ آئے)۔([2])جبکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:توبہ کے معنی ہیں نافرمانی سے باز آنا،جس کی معصیت (نافرمانی)کی ہے اس سے عہدِ اطاعت کی تجدید کر کے اسے راضی کرنا اور نصِّ قطعی قرآن سے ثابت ہوا کہ اللہ پاک کا ہر گناہ گار حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا گناہ گار ہے۔([3])
نیز خیال رہے کہ توبہ کے ارادے سے گناہ کرنا کفر ہے کہ چلو گناہ میں حرج ہی کیا ہے ، کل توبہ کر لیں گے۔یہ توبہ نہیں بلکہ شریعت کا مذاق اڑانا ہے اور خدا پر امن(یعنی نڈر ہونا)،یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔([4])
اللہ پاک نے توبہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۳۱) (پ18،النور:31)
ترجمہ: اور اے مسلمانو!تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔یعنی جو کامیابی چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ توبہ کرے۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔([6])
حضرت جعفر بن حرب رحمۃ اللہ علیہ بہت مالدار تھے، اسی کے بل بوتے پر بادشاہ کے وزیر بھی بن گئے اور لوگوں پر ظلم وستم ڈھانا شروع کر دیا۔ایک دن آپ نے کسی کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا:
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّۙ-(پ27، الحدید:16)
ترجمہ:کیا ایمان والوں کیلئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جھک جائیں جو نازل ہوا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ سن کر آپ نے ایک چیخ ماری اور کہا:اے میرے رب!کیوں نہیں!آپ بار بار یہی کہتے جاتے اور روتے جاتے۔پھر اپنی سواری سے اتر کر اپنے کپڑے اتارے اور دریائے دِجلہ میں داخل ہو کر چھپ گئے اور اس وقت تک نہ نکلے جب تک کہ لوگوں سے ظلماً لیا گیا مال واپس نہ کر دیا اور بچ جانے والا مال صدقہ نہ کر دیا گیا۔ایک شخص جو آپ کے حالات کو جانتا تھا، دریائے دجِلہ کے قریب سے گزرا تو آپ کو پانی میں کھڑے ہوئے پایا۔چنانچہ اس نے آپ کو ایک قمیض اور تہبند بھجوایا۔آپ نے ان کپڑوں سے اپنا بدن ڈھانپا اور پانی سے باہر نکل آئے۔اس کے بعد آپ علم حاصل کرنے اور عبادت میں مصروف ہو گئے، یہاں تک کہ انتقال کر گئے۔([7])
جب کہا عصیاں سے میں نے سخت لا چاروں میں ہوں
جن کے پلے کچھ نہیں ان خریداروں میں ہوں
تیری رحمت کے لئے شامل گناہگاروں میں ہوں
بول اٹھی رحمت نہ گھبرا میں مددگاروں میں ہوں
ہم سر سے پاؤں تک گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ہمارا ہر لمحہ گناہوں بھرا ہے۔اگر ہم گناہوں سے توبہ کرنے کی عادت ڈال لیں تو رب کی رضا حاصل ہوگی کیونکہ اللہ پاک کی رحمت بہت وسیع ہے اور ہم گناہ گاروں کے لیے رحمت کے دروازے کھلے ہیں،بس ہمیں گناہوں پر شرمندگی اختیار کرنی ہے۔جب ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم روزانہ 70بار توبہ و استغفار کرتے تھے([8]) تو کیا ہم روزانہ توبہ و اِستغفار کرنے کی عادت بنا کر اپنے رب کو راضی نہیں کر سکتیں؟ کاش!ہم بھی اپنے گناہوں پر شرمندگی ہوں تاکہ ہم توبہ کرکے اپنے رب کو راضی کرسکیں۔
افسوس گھٹتی جا رہی ہے روز زندگی
پر میں دبی ہی جاتی ہوں عصیاں کے بار میں
کر مغفرت میری تیری رحمت کے سامنے
میرے گناہ یا خدا ہیں کس شمار میں
اللہ کریم کی بارگاہ میں فوراً سے پہلے توبہ کر لینی چاہیے۔ بے شک اللہ بہت توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(۲۲۲) (پ2،البقرۃ:222)
ترجمہ:بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یقیناً زندگی کا کوئی بھروسا نہیں،نجانے کب کہاں اور کس حالت میں موت آجائے!اگر معاذ اللہ توبہ کئے بغیر موت آ گئی تو قبر میں سخت شرمندگی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جس طرح گناہوں سے توبہ کرنے کے بہت فضائل و برکات ہیں اسی طرح توبہ نہ کرنے والوں کے لیے بھی سخت سزائیں مقرر ہیں۔چنانچہ ہمیں روزانہ توبہ و استغفار کی عادت بنانی چاہئے اور توبہ و استغفار کو اپنے اوپر لازم کرنا چاہیے اور اس نیک عمل کے ساتھ ساتھ باقی تمام نیک اعمال کو اپنا کر اپنی آخرت بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیےنیز ہر انگریزی ماہ کی پہلی تاریخ کو اپنے علاقے میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں ذمہ دار اسلامی بہن کو نیک اعمال کا رسالہ جمع کروانے کا معمول بنانا چاہیے ان شاءاللہ بیڑا پار ہو جائے گا۔
[1] اِحیاء العلوم، 4 /4 ملخصاً
[2] مراٰۃالمناجیح، 3 / 353
[3] فتاویٰ رضویہ، 15/656
[4] تفسیر نور العرفان، ص376ماخوذاً
[5] کیمیائے سعادت، 2/755
[6] ابن ماجہ، 4/491، حدیث:4250
[7] کتاب التوابین، ص163،164
[8] بخاری، 4/ 190، حدیث:6307
Comments