63نیک اعمال (نیک عمل نمبر42)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


63 نیک اعمال

(نیک عمل نمبر 42)

حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کفارِ عرب اپنے ہر کام کو اپنے باطل معبودوں کے نام سے شروع کرتے تھے۔لہٰذا ضروری ہوا کہ مسلمان اپنے ہر کام کو اللہ کے نام سے شروع کرے تاکہ کفار کی مخالفت ظاہر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کا ہر کام غیر مسلموں کے خلاف ہونا چاہیے،ان سے محبت و مشابہت بہت بری چیز ہے۔([1]) چنانچہ ہمیں کفار کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے ہر کام کا آغاز اللہ پاک کے نام سے یعنی بسم اللہ پڑھ کر کرنا چاہئے جیسا کہ قرآنِ پاک کی شروعات بسم اللہ شریف سے ہوئی،جس کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ پاک کے بندے اس کی پیروی کرتے ہوئے ہر اچھے کام کی شروعات بسم اللہ شریف سے کریں۔([2])

حدیثِ مبارک میں بھی اچھے اور اہم کام کی شروعات بسم اللہ شریف سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔بلکہ ایک روایت میں ہے کہ جو بھی اہم کام بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع نہیں کیا جاتا وہ ادھورا رہ جاتا ہے۔([3])

امام فخرُ الدین رازی لکھتے ہیں:بسم اللہ الرحمن الرحیم کے 19 حروف ہیں اور دوزخ پر عذاب دینے والے فرشتے بھی  اُنیس،پس امید ہے کہ اس کے ایک ایک حرف کی برکت سے ایک ایک فرشتے کا عذاب دور ہو جائے۔دوسری خوبی یہ ہے کہ دن رات میں 24 گھنٹے ہیں جن میں سے پانچ گھنٹے پانچ نمازوں نے گھیر لئے اور 19 گھنٹوں کے لیے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے اُنیس حروف عطا فرمائے گئے۔پس جو بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ورد کرتا رہے ان شاء اللہ اس کا ہر گھنٹہ عبادت میں شمار ہو گا اور ہر گھنٹے کے گناہ معاف ہوں گے۔([4])  اسی مبارک تعلیم کو عام کرنے اور خصوصاً اسلامی بہنوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں ہر جائز کام اللہ پاک کے نام سے شروع کرنے کی عادی بنانے کے لیے امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ  نے اسلامی بہنوں کی اصلاح و تربیت کے لیے 63 نیک اعمال کا جو رسالہ عطا فرمایا،اس میں نیک عمل نمبر 42 کچھ یوں ہے:کیا آج آپ نے ہر جائز و عزت والے کام سے پہلے بسم اللہ پڑھی؟ (کم از کم تین بار پڑھنے والی کا عمل مان لیا جائے گا۔)

اس رسالے کا اگرچہ ہر ہر نیک عمل اعمالِ صالحہ کی طرف راغب کرنے اور آخرت کی تیاری کا ذہن دیتا ہے،مگر یہ نیک عمل نمبر 42ہمیں ہر جائز اور نیک کام سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھنے کی عادت بنانے کے لئے دیا گیا ہے تاکہ ہمارے تمام معاملات رحمت،برکت اور حفاظتِ الٰہی کے سائے میں رہیں۔

اگرچہ ہر جائز کام سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھنا ایک چھوٹا سا عمل معلوم ہوتا ہے مگر یہ چھوٹا سا محسوس ہونے والا عمل انسان کی پوری زندگی کو عبادت بنا دیتا ہے۔اس کی برکت سے ہر کام سے پہلے اللہ پاک کی حفاظت،رحمت اور برکت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔بسم اللہ شریف میں دو عظیم صفات ہیں: رَحمٰن یعنی بہت مہربان اور رَحیم یعنی رحمت والا۔یعنی بندہ ہر کام اللہ پاک کی رحمت کے سائے میں کرتا ہے۔جب ہم کوئی بھی کام بسم اللہ شریف سے شروع کرتی ہیں تو گویا ہم اپنا کام اللہ پاک کے حوالے کر دیتی ہیں اور ہمارے اس کام میں اللہ پاک کی مدد شاملِ حال ہو جاتی ہے،دل سے خوف و گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے،شیطان دور ہو جاتا ہے اور نقصان نہیں پہنچاتا نیز  کام خیر و برکت سے شروع ہو کر بہتر انجام تک پہنچتا ہے۔

بچوں کو بھی بسم اللہ شریف پڑھنے کی عادت ڈالئے:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک قبر کے قریب سے گزرے تو عذاب ہو رہا تھا۔کچھ وقفہ کے بعد پھر گزرے تو ملاحظہ فرمایا کہ اس قبر میں نور ہی نور ہے اور وہاں رحمتِ الٰہی کی بارش ہو رہی ہے۔آپ علیہ السلام بہت حیران ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کہ مجھے اس کا بھیدبتایا جائے۔ارشاد ہوا:اے عیسیٰ! یہ شخص سخت گناہ گار ہونے کے سبب عذاب میں گرفتار تھا، لیکن بوقتِ انتقال اس کی بیوی اُمّید سے تھی،اس کے لڑکا پیدا ہوا اور آج اس کو مکتب بھیجا گیا،استاد نے اس کو بسم اللہ پڑھائی، مجھے حیا آئی کہ میں اس شخص کو زمین کے اندر عذابِ دوں جس کا بچہ زمین کے اوپر میرا نام لے رہا ہے۔([5])

بسم اللہ شریف کی برکتیں حاصل کرنے کا اہم طریقہ یہ ہے کہ ہم اس نیک عمل کی عادی بن جائیں اور اپنا ہر نیک و جائز کام بسم اللہ شریف سے شروع کریں تاکہ اس کے فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔حضور جب معراج پر تشریف لے گئے تو آپ نے جنت کی سیر کے دوران چار نہریں دیکھیں: پانی،دودھ،شراب (طہور) اور شہد کی۔

حضرت جبریلِ امین سے پوچھا کہ یہ نہریں کہاں سے آ رہی اور جا رہی ہیں؟انہوں نے نہروں کے آنے سے متعلق لاعلمی کا  اظہار کیا تو دوسرا فرشتہ بولا:میں ان چاروں کا سر چشمہ دکھاتا ہوں۔وہ آپ کو ایسے مقام پر لایا جہاں ایک درخت تھا جس کے نیچے ایک عمارت بنی ہوئی تھی،دروازے پر تالا لٹک رہا تھا اور چاروں نہریں اس کے نیچے بہہ رہی تھیں۔آپ نے فرمایا: دروازہ کھولو!تو فرشتے نے عرض کی:اس کی چابی تو آپ کے پاس ہے یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم۔آپ نے بسم اللہ شریف پڑھ کر تالے کو چھوا تو دروازہ کھل گیا۔

آپ نے دیکھا کہ اس عمارت میں چار ستون ہیں،ہر ستون پر بسم اللہ شریف لکھی ہوئی ہے اور بسم اللہ کے(میم)سے پانی جاری ہے،اللہ کے(ہ)سے دودھ جاری ہے،رحمان کی (میم) سے شراب (طہور) اور رحیم کی(میم)سے شہد۔اندر سے آواز آئی:اے محبوب!آپ کی امت میں سے جو شخص بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے،وہ ان چاروں کا مستحق ہو گا۔([6])

ہم سب ان انعاماتِ ربانی کی حق دار ہو سکتی ہیں  اگر اپنے مرشدِ کامل کے عطا کردہ اس نیک عمل کے مطابق اپنے ہر نیک اور جائز کام کی شروعات بسم اللہ شریف سے کریں،بلاشبہ بسم اللہ شریف بیماری میں شفا یابی عطا فرماتی ہے،عذاب سے نجات دلاتی،جان و ایمان کی حفاظت کرتی اور دعاؤں کو رد ہونے سے بچاتی ہے۔ بسم اللہ شریف ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ ہمارا وجود اللہ پاک کا مَرہونِ مِنّت ہے اور ہمارا ہر عمل اللہ پاک کی مشیت و ارادے کا پابند ہے۔بسم اللہ شریف آئینۂ رحمت بھی ہے اور شفقت بھی۔الغرض!بسم اللہ شریف ہمارا تخت و تاج ہے،اسی میں پوشیدہ ہمارا کل اور آج ہے اور ہر صاحبِ ایمان اس کا محتاج ہے۔

گر تو چاہے امن و امان                       تسمیہ کو بنالے حرز جاں

اللہ پاک ہمیں ہر جائز اور نیک کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنے والے اس نیک عمل پر استقامت عطا فرمائے اور اس کی برکتوں سے مالا مال فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم



[1] تفسیر نعیمی،1/29 ملتقطاً

[2] حاشیہ صاوی،1/15 ملخصاً

[3] جامع صغیر،ص391،حدیث:6284-فیضان سنت( جلد اول)،ص1

[4] تفسیر کبیر،1/156-فیضان سنت(جلد اول)،ص55

[5] تفسیر کبیر،1/ 155ملخصاً-فیضان سنت(جلد اول)،ص55

[6]تفسیر روح البیان،1/ 9ملخصاً-تفسیر نعیمی،1/ 35


Share