موضوع:قرض کی ادائیگی میں جلدی کیجئے
روایت ہے کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے،مگر ان چھ چیزوں میں نہیں:(1)نماز کا وقت ہوجائے تو نماز ادا کرنے میں(2)مہمان آجائے تو اس کی مہمان نوازی میں(3)مرنے والے کے کفن دفن میں(4)بچی کے بالغ ہونے پر اس کی شادی میں(4)قرض کی ادائیگی کا وقت آجائے تو ادا کرنے میں اور(5) گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کرنے میں۔([1])
انسانی زندگی باہمی تعاون پر قائم ہے۔ہر انسان کو زندگی کے مختلف مراحل میں دوسروں کی مدد اور وسائل کی ضرورت پیش آتی ہے۔انہی ضروریات میں ایک اہم معاملہ قرض کا بھی ہے۔تقریباً ہر انسان کبھی نہ کبھی کسی مجبوری یا ضرورت کے تحت قرض لیتا ہے۔شریعت نے جہاں ضرورت مند کی مدد کے طور پر قرض دینے کی ترغیب دی ہے،وہیں قرض لینے والوں کو بھی اس کی بروقت ادائیگی کا پابند بنایا ہے۔افسوس!آج بہت سے لوگ قرض لیتے وقت تو بڑے وعدے کرتے ہیں،مگر جب واپس کرنے کا وقت آتا ہے تو بہانے اور ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔بہت کم لوگ وعدے کے مطابق خوش دلی سے قرض ادا کرتے ہیں۔اکثر صورتوں میں قرض خواہ تقاضا کرتے کرتے تھک جاتا ہے،یہاں تک کہ کبھی وہ مجبوری میں خاموش ہوجاتا ہے اور کبھی اپنا حق لینے کے لیے سختی پر مجبور ہوتا ہے۔
اسلام نے صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں تاخیر کو ظلم قرار دیا ہے۔چنانچہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔([2])جب صرف تاخیر کرنا ظلم ہے تو قرض لے کر واپس نہ کرنا کس قدر سنگین جرم ہوگا!اسی لیے احادیثِ مبارکہ میں ایسوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا:جس نے لوگوں کا مال واپس نہ کرنے کی نیت سے لیا،پھر اسی حالت میں مرگیا کہ قرض ادا نہ کیا،وہ اللہ پاک سے چور کی حیثیت سے ملے گا۔([3])
قرض کی ادائیگی میں غفلت کے دنیوی نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔سب سے پہلے لوگوں کے دلوں سے انسان کی عزت اور اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔بعض اوقات قرض خواہ خود سخت پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔مثال کے طور پر کسی شخص نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے رقم جمع کی ہو،پھر کسی ضرورت مند کی مدد کے جذبے سے وہ رقم قرض دے دے،اس امید پر کہ وقت پر واپس مل جائے گی۔اب اگر قرض لینے والا بروقت ادائیگی نہ کرے تو اندازہ کیجیے کہ اس مجبور انسان پر کیا گزرے گی!
اچھی نیت سےقرض لینے والوں کی غیبی مدد:
البتہ!اگر کوئی شخص قرض ادا کرنے کی نیت سے لے مگر بعد میں کسی مجبوری کی وجہ سے ادا نہ کر پائے تو اللہ پاک اس کی اچھی نیت کی برکت سے اس کے لیے آسانی کے اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں ہے:جس نے ادائیگی کی نیت سے لوگوں کا مال لیا تو اللہ پاک اس کی طرف سے ادا فرما دے گا اور جس نے نقصان پہنچانے کی نیت سے لیا تو اللہ پاک اسے ہلاک فرما دے گا۔([4])یہ حدیث اچھی اور بری نیت کے اثرات کو واضح کرتی ہے۔جو شخص انشراحِ صدر کے ساتھ(قرض)ادا کرنا چاہے گا اللہ پاک اس کی مدد فرمائے گا تاکہ وہ آخرت کے مواخذہ(پکڑ)سے بچ سکے اور جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اس توفیق سے محروم رکھتا ہے اور قرض ادا نہ کرنے کے وبال میں گرفتار رہتا ہے۔([5])
اچھی نیت سے قرض لینے والے کے حق میں فرشتے بھی دعا کرتے ہیں۔امام محمد بن محمد غزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو قرض لیتے وقت ادائیگی کی نیت رکھتا ہے اللہ پاک اس پر فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو اس کی حفاظت کرتے اور اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اس کا قرض ادا ہوجائے۔پھر اگر قرض دار ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود قرض خواہ کی اجازت کے بغیر تاخیر کرے تو وہ گنہگار اور ظالم ہے۔یہاں تک کہ اس کے ذمے مسلسل گناہ لکھا جاتا رہتا ہے۔ادائیگی کی قدرت صرف نقد رقم ہی سے نہیں ہوتی بلکہ اگر گھر کا سامان، فرنیچر یا دیگر چیزیں فروخت کرکے قرض ادا کیا جاسکتا ہو تو ایسا کرنا بھی ضروری ہے۔([6])
قرض کی ادائیگی کے آداب:
حضرت عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھ سے 40 ہزار درہم کا قرضہ لیا،آپ کے پاس مال آیا تو آپ نے مجھے وہ واپس کردیا اور فرمایا:اللہ پاک تمہارے اہل و مال میں برکت فرمائے،قرض کی جزا ہی شکریہ اور قرض ادا کرنا ہے۔ ([7])
ضرورت کے وقت مدد کرنے والا انسان یقیناً محسن ہوتا ہے اور محسن کا شکریہ ادا کرنا اخلاقی ذمہ داری ہے۔لہٰذا قرض لینے والی کو چاہیے کہ بروقت اور خوش دلی سے قرض ادا کرے اور قرض خواہ کا شکریہ بھی ادا کرے کہ اس نے اعتماد کرتے ہوئے اس کی ضرورت پوری کی۔اگر نقد رقم موجود نہ ہو تو حتی الامکان گھر کا سامان،جیسے فرنیچر یا فریج وغیرہ فروخت کرکے قرض ادا کرے تاکہ عزت،اعتماد اور زبان کی سچائی برقرار رہے۔یاد رکھیے!ادائیگی کی قدرت ہونے کے باوجود بلا اجازت تاخیر کرنا گناہ ہے۔
مت دبا قرضہ کسی کا نابَکار
روئے گی دوزخ میں ورنہ زار زار
بروقت قرض ادا کرنے کے فوائد:
قرض کو وقت پر بلکہ ممکن ہو تو مقررہ وقت سے پہلے ادا کرنا نہایت عمدہ اخلاق کی علامت ہے۔اسلام نے قرض کی ادائیگی میں جلدی کرنے کی ترغیب دی ہے،کیونکہ جب تک انسان کے ذمے قرض باقی رہتا ہے اس کی روح بھی بے سکون رہتی ہے۔ایک روایت میں ہے:مومن کی روح اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادا کردیا جائے۔([8]) اس لیے بروقت ادائیگی روح کے سکون اور خلاصی کا سبب بنتی ہے۔قرض انسان کے لیے ذہنی بوجھ بھی ہوتا ہے جو رات کی نیند اور دن کا سکون چھین لیتا ہے۔جلد ادائیگی انسان کو پریشانی اور ذہنی دباؤ سے نجات دیتی ہے۔مزید یہ کہ جو خوش اسلوبی سے قرض واپس کرے لوگوں میں اس کی عزت بڑھ جاتی ہے اور آئندہ ضرورت پڑنے پر لوگ بھی اس کی مدد کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔مختصر یہ کہ بروقت قرض ادا کرنا اللہ پاک کی رضا،معاشرتی عزت اور قلبی سکون حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
قرض اُتارنے کا وظیفہ:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ حضور نے ایک دعا سکھائی اور فرمایا کہ اسے روزانہ پڑھا کرو،اگر تم پر زمین بھر سونا بھی قرض ہو تو اللہ پاک اسے ادا فرما دے گا۔([9]) اور وہ دعا یہ تھی:
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِیَدِكَ الْخَیْرُ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ تُوْلِجُ الَّیْلَ فِي النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّیْلِ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَ الْاخِــرَةِ وَ رَحِیْمَہُمَا تُعْطِیْ مِنْہُمَا مَنْ تَشَآءُ وَتَمْنَعُ مِنْہُمَا مَنْ تَشَآءُ اِقْضِ عَنِّیْ دَیْنِیْ۔
اللہ پاک ہمیں اس حالت میں موت عطا فرمائے کہ ہم تمام حقوق سے بری ہوں،کسی کا کوئی حق یا قرض ہمارے ذمے باقی نہ ہو۔ اٰمِیْن بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین (کراچی سطح)،
رکن انٹرنیشنل افیئرز ڈیپارٹمنٹ
[1] الروض الفائق،ص86
[2] بخاری،2/109،حدیث:2400
[3] معجم اوسط،1/501،حدیث:1851
[4] بخاری،2/105،حدیث:2387
[5] نزہۃ القاری،3/635
[6] کیمیائے سعادت،1/336ملخصاً
[7] نسائی،ص753،حدیث:4692
[8] ترمذی،2/341،حدیث:1080
[9] تفسیر قرطبی،الجزء الرابع،2/42
Comments