موضوع:خواتین اور نیکی کی دعوت
اللہ پاک کا فرمان ہے:
وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (پ10،التوبۃ:71)
ترجمہ:اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں،بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
تفسیر:
اللہ پاک نے مومنوں کے اوصاف،ان کے اچھے اعمال اور ان کے اس اجر و ثواب کو بیان فرمایا جو اس نے دنیا و آخرت میں ان کے لئے تیار فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق، آپس میں دینی محبت و الفت رکھنے والے اور ایک دوسرے کے معین و مددگار ہیں۔اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم پر ایمان لانے اور شریعت کی اِتِّباع کرنے کا حکم دیتے ہیں اور شرک و معصیت سے منع کرتے ہیں۔([1])
معلوم ہوا کہ نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا جیسے مردوں کی ذمہ داری ہے ایسے ہی عورتوں کی بھی ذمہ داری ہے۔عورتیں اپنے دائرہ کار میں جہاں برائی دیکھیں وہاں اس سے روکنے کی کوشش کریں،یونہی جہاں نیکی کی بات سمجھا سکتی ہیں وہاں سمجھائیں۔اس کےلئے سب سے اہم مقام تو گھر ہے کہ ماں اپنی اولاد کو بآسانی سمجھا سکتی ہے،پھر بہنیں ایک دوسرے کو سمجھا سکتی ہیں،یونہی رشتے دار خواتین خاندان کی دیگر عورتوں اور لڑکیوں کو نیکی کی دعوت دے سکتی ہیں۔اس سے آگے اسکول و کالج میں پڑھانے والی خواتین اپنی طالبات کو بہت عمدہ انداز میں سمجھا کر ان کی کردار سازی اور اسلامی تربیت کرسکتی ہیں۔مگر افسوس!بعض اوقات خواتین سمجھتی ہیں کہ تبلیغ ِ دین،صرف مردوں کی ذمہ داری ہے اور عورت کا کام صرف گھر چلانا اور اولاد کی تربیت کرنا ہے۔
حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ گھر اور اولاد کی ذمہ داری کے ساتھ نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا بھی عورتوں کی ذمہ داری ہے جیسا کہ علامہ ابنِ نحاس دمشقی لکھتے ہیں:میں کہتا ہوں کہ اللہ پاک کافرمان وَ الْمُؤْمِنٰتُ یہاں اس بات کی دلیل ہے کہ بحالتِ استطاعت عورتوں پر مردوں کی طرح نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا واجب ہے۔([2])
یاد رہے!تبلیغِ دین اُمّتِ محمدیہ کا ایک نمایاں وصف ہے۔ اسی عظیم خوبی کےسبب خالقِ کائنات نے اس اُمّت کو سب سے بہترین اُمّت قرار دیا۔تو جس طرح ہر مسلمان مرد و عورت کا اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا ضروری ہے،اسی طرح اپنے گھر والوں اور دیگر مسلمانوں کو بھی طاقت و توفیق کے مطابق حکمتِ عملی سے گناہوں سے روکنا لازم ہے۔ارشادِ الٰہی ہے:
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ-
(پ04،ال عمرٰن:110)
ترجمہ:(اے مسلمانو!) تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں (کی ہدایت ) کے لئے ظاہر کی گئی،تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
تاریخ میں صحابیات و صالحات کے تبلیغِ دین کے بے شمار روشن واقعات موجود ہیں،جو آج کی عورتوں کے لئے بہترین نمونہ ہیں۔عورتوں کو چاہیے کہ صحابیاتِ طیبات کی پیروی کرتے ہوئے تبلیغِ دین کا جذبہ زندہ رکھیں۔چنانچہ ترغیب کے لئے دو واقعات پیشِ خدمت ہیں:
حضرت اسماء بنتِ ابو بکر اور تبلیغِ دین:
جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبدُ اللہ بن زبیر کو شہید کر دیا تو وہ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت اسماء بنتِ ابو بکر صدیق کے پاس آیا اور آپ کے بیٹے پر الزامات لگانے لگا۔اس موقع پر آپ نے نہایت جرأت اور بے خوفی کے ساتھ ظالم کے سامنے حق بات بیان کی اور فرمایا:تو جھوٹ کہتا ہے،میرا بیٹا والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا،کثرت سے روزے رکھنے والا اور عبادت گزار تھا۔ پھر فرمایا:نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ہمیں خبر دی تھی کہ قبیلۂ ثقیف سے دو بڑے جھوٹے ظاہر ہوں گے اور دوسرا پہلے سے زیادہ تباہی مچانے والا ہوگا۔([3]) یوں حضرت اسماء نے ایک ظالم حکمران کے سامنے حق گوئی،نیکی کی دعوت اور باطل کی تردید کا عظیم نمونہ پیش فرمایا۔
حضرت عائشہ صدیقہ اور تبلیغِ دین:
ابو سلمہ بن عبد الرحمن ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس کسی گھر کا جھگڑا لے کر حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا:اے ابو سلمہ!زمین چھوڑ دو کیونکہ حضور نے فرمایا ہے کہ جو ایک بالشت بھر زمین بھی ظلماً لے لے تو اللہ پاک قیامت کے دن وہ حصہ اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق بنا کر ڈالے گا۔([4])معلوم ہوا کہ صحابیات و صالحات نہ صرف خود احکامِ شریعت پر عمل کرتی تھیں بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کی ترغیب دیتی اور ظلم و گناہ سے روکتی تھیں۔
تبلیغِ دین کی ضرورت کیوں؟
فی زمانہ دین کی تبلیغ،نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے کیونکہ آج کے دور میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت بے عملی کا شکار ہے۔نیکیاں کرنا نفس کے لئے بے حد دشوار جبکہ گناہ کرنا بہت آسان ہو چکا ہے،مسجدوں کی ویرانی،سینما گھروں اور ڈرامہ گاہوں کی رونق دین کا درد رکھنے والیوں کو رُلا دیتی ہے۔ڈش انٹینا اور کیبل کے ذریعے ٹی وی اور انٹر نیٹ کا غلط استعمال کرنے والوں نے گویا اپنی آنکھوں سے حیا دھو ڈالی ہے،ضروریات کی تکمیل اور سہولیات کے حصول کی حد سے زیادہ جدو جہد نے مسلمانوں کی بھاری تعداد کو آخرت کی فکر سے غافل کر دیا ہے۔ گالی دینا،تہمت لگانا،بد گمانی کرنا،غیبت کرنا،چغلی کھانا،لوگوں کے عیب جاننے کی ٹوہ میں رہنا،لوگوں کے عیب اچھالنا،جھوٹ بولنا،جھوٹے وعدے کرنا،کسی کا مالِ ناحق کھانا،خون بہانا،کسی کو شرعی اجازت کے بغیر تکلیف دینا،کسی کا قرض دبالینا،کسی کی چیز وقتی طور پر لے کر واپس نہ کرنا،مسلمانوں کو برے القاب سے پکارنا،کسی کی چیز اسے ناگوار گزرنے کے باوجود اجازت کے بغیر استعمال کرنا،شراب پینا،جوا کھیلنا،چوری و بدکاری کرنا،فلمیں ڈرامے دیکھنا،گانے باجے سننا،سود اور رشوت کا لین دین کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور انہیں ستانا،امانت میں خیانت کرنا،بد نگاہی کرنا،عورتوں کا مردوں اور مردوں کا عورتوں کی نقالی کرنا، بے پردگی،غرور،تکبر،حسد،ریا کاری،اپنے دل میں کسی مسلمان کا بغض و کینہ رکھنا،غصہ آجانے پر شریعت کی حد توڑ ڈالنا، گناہوں کی حرص،حُب ِجاہ،بخل اور خود پسندی وغیرہ معاملات بڑی بے باکی کے ساتھ کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ بظاہر نیک نظر آنے والی کسی خاتون کے قریب جائیں تو وہ بھی بسا اوقات عقیدے کی خرابی،زبان کی بے احتیاطی،بد نگاہی اور بد اخلاقی وغیرہ کی آفتوں میں مبتلا نظر آتی ہے۔لہٰذا مرد ہو یا عورت ہر ایک پر دین کی تبلیغ بقدرِ طاقت ضروری ہے۔جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:تم میں سے جو کوئی بُرائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے منع کرے،اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو دل سے بُرا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔([5]) اللہ پاک ہمیں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کی عظیم سعادت نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معاونہ دار الافتاء اہلِ سنت دھوراجی کراچی
[1] تفسیر خازن،2/260،259ملتقطاً 7
[2] تنبیہ الغافلین عن اعمال الجاھلین،ص20
[3] طبقات ابن سعد،8/200
[4] مسند امام احمد،43/281،حدیث:26224
[5] مسلم،ص49،حدیث:177

Comments