موضوع:حضور کی اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 49ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)
محترمہ بنتِ محمد شاہد عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)
(طالبہ:درجۂ رابعہ فیضانِ ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ)
پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے تمام صحابہ کرام سے ہی بہت زیادہ محبت فرماتے تھے مگر بیعتِ رضوان والوں سے خصوصی محبت فرماتے تھے۔یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے جان کی بازی لگانے کا عہد کیا۔اسی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے بیعتِ رضوان والے جانثار صحابہ سے بہت محبت فرماتے تھے۔یہاں تک کہ آپ نے نے ان کو جنت کی بشارت عطا فرمائی۔حضرت اُمِّ مبشر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جن لوگوں نے(حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔([1])اس کے علاوہ ان صحابہ کرام کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ ان کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ(۱۸) (پ 26،الفتح:18)
ترجمہ: بیشک اللہ ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے تمہاری بیعت کررہے تھے تو اللہ کووہ معلوم تھا جو ان کے دلوں میں تھا تو اس نے ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے اصحابِ بیعتِ رضوان کو خاص طور پر اپنی رضا سے نوازا۔بیعت ِرضوان میں شرکت کرنے والے سارے ہی مخلص مومن ہیں کیونکہ اللہ پاک نے انہیں کسی تخصیص کے بغیر مومن فرمایا۔بیعت کرنے والے تمام حضرات سے اللہ پاک خاص طور پر راضی ہوچکا ہے۔
اس خصوصی رضا کا سبب یہی بیعت ہے کہ ارشاد ہوا
اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ (پ 26،الفتح:18)
ترجمہ:جب وہ تمہاری بیعت کررہے تھے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اصحابِ بیعتِ رضوان کے ساتھ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت کی مثال یہ بھی ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ان کے لیے دعا فرماتے،ان کی قربانیوں کو یاد رکھتے اور ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔
اس بیعت میں محبت کی انتہا تھی کہ حضور نے حضرت عثمان کی غیرموجودگی میں ان کی نمائندگی خود فرمائی،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنے وفادار صحابہ سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔یہ محبت کی وہ معراج ہے جہاں اور کوئی نہ پہنچ سکا،آپ نے ان صحابہ کرام کے لیے دائمی جنت کی ضمانت دی۔یہ حضور کی محبت ہی کا نتیجہ تھا کہ ان کے جاں نثاروں کو اللہ پاک نے اپنی رضا کا سند یافتہ بنا دیا۔
بیعتِ رضوان میں شامل تمام 1400 صحابہ کرام نے جان ہتھیلی پر رکھ کر حضور کے ہاتھ پر عہد کیا تھا۔آپ نے ان کے اس ایثار،وفاداری اور محبت کی وجہ سے ان کے فضائل کو امت پر واضح فرمایا،الغرض بیعتِ رضوان کے صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جاں نثار اور وفادار تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے ان وفاداروں سے سب سے زیادہ محبت فرماتے تھے۔یہ بیعت ان کی بے مثال محبت،اطاعت اور وفاداری کا ثبوت ہے۔بیعتِ رضوان عشقِ رسول،جذبۂ شہادت اور نظم و ضبط کا ایک ایسا عظیم نمونہ ہے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اللہ کریم ہم سب کو اصحابِ بیعتِ رضوان کا فیضان نصیب فرمائے،ہمیں اور ہماری نسلوں کو صحابہ کرام کا مدح خواں بنائے رکھے۔ اٰمِیْن بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
محترمہ بنتِ ریاض عطاریہ
(طالبہ:درجۂ ثالثہ فیضانِ ام عطار گلبہار سیالکوٹ)
اسلامی تاریخ میں بیعتِ رضوان ایک عظیم اور بابرکت واقعہ ہے جو 6 ہجری میں صلحِ حدیبیہ کے موقع پر ایک درخت کے نیچے پیش آیا۔اس بیعت میں صحابہ کرام نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہاتھ پر جان کی بازی لگانے کا وعدہ کیا۔جس میں تقریباً 1400 صحابہ کرام شامل تھے۔یہ وہ خوش نصیب صحابہ کرام ہیں جن سے اللہ پاک اور اس کے رسول راضی ہوئے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اصحابِ بیعتِ رضوان سے بے حد محبت فرماتے اور ان کی تعظیم فرماتے تھے۔چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت کے متعلق روایات پیش خدمت ہیں:
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار:
جب صلحِ حدیبیہ کے موقع پر یہ غلط خبر مشہور ہوئی کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ کرام سے بیعت لی۔اس موقع پر حضور نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا:یہ عثمان کی بیعت ہے۔([2])اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے بہت محبت فرماتے تھے۔
اصحابِ بیعتِ رضوان کو مغفرت کی بشارت:
یوں تو تمام صحابہ ہی قطعی جنتی اور اہلِ مغفرت ہیں،کیونکہ اللہ پاک نے ان تمام سے جنت کا وعدہ فرمالیا ہے،لیکن خصوصیت کے ساتھ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جن کو جنت کی بشارت اور دوزخ سے نجات کی خوشخبری عنایت فرمائی ان میں اصحابِ بیعتِ رضوان بھی شامل ہیں،جیسا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اصحاب بیعتِ رضوان کے بارے میں ارشاد فرمایا:درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے ان شاء اللہ کوئی بھی آگ ( جہنم) میں داخل نہیں ہوگا۔([3])
سب سے بہتر!
بخاری شریف میں حضرت جابر بن عبدُ اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اصحابِ بیعتِ رضوان سے ارشاد فرمایا:تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔ ([4]) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ کرام کی جماعت جو کہ پہلے ہی امت کے بہترین لوگ ہیں،ان میں سے بھی اصحابِ بیعتِ رضوان کو بہترین امت قرار دیا جو کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت کو ظاہر کرتی ہے۔
الغرض مذکور بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اصحابِ بیعتِ رضوان سے کس قدر محبت فرماتے تھے اور محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ جس سے محبت کی جائے اس کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ان اصحاب کی بہت عزت فرماتے تھے اور اپنی امت کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔بیعتِ رضوان میں شریک صحابہ کرام کو اللہ پاک کی رضا حاصل ہوئی اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے حد محبت نصیب ہوئی۔ان کا مقام امت میں بہت بلند ہے ،میں بھی چاہیے کہ ہم ان سے محبت کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان صحابہ کرام کا خوب فیض نصیب فرمائے۔آمین
[1] مسلم،ص 1041،حدیث:6404
[2] ترمذی،5/392،حدیث:3722
[3] مسلم،ص 1041،حدیث:6404
[4] بخاری،3/69،حدیث:4154ملخصاً
Comments