حضورﷺ کی روزوں سے محبت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضور کی روزوں سے محبت

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 30ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں)

بنتِ       محمد افضل

(طالبہ:درجہ ٔثانیہ، جامعۃ المدینہ گرلز معراجکے، سیالکوٹ)

اسلام میں اکثر اعمال کسی نہ کسی روح پرور واقعے کی یاد  تازہ کرتے ہیں مثلاً صفا و مروہ کے درمیان حاجیوں کی سعی حضرت ہاجرہ رضی اللہ ُعنہا کی یادگار ہے۔آپ اپنے شہزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے پانی تلاش کرنے کے لئے ان دونوں پہاڑوں  کے درمیان سات بار چلی اور دوڑی تھیں، اللہ پاک کو حضرت ہاجرہ  رضی اللہ ُعنہا کی یہ ادا پسند آ گئی، لہٰذا اللہ پاک نے اسی ادائے ہاجرہ کو باقی رکھتے ہوئے حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں کے لئے صفا و مروہ کی سعی واجب فرما دی۔اسی طرح ماہِ رمضان المبارک میں کچھ دن حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے غارِ حِرا میں گزارے تھے، اس دوران آپ دن کو کھانے سے پرہیز کرتے اور رات کو ذِکرُ اللہ میں مشغول رہتے تو اللہ پاک نے اُن دنوں کی یاد تازہ کرنے کے لئے روزے فرض کئے تاکہ اس کے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنت قائم رہے۔([1])

اللہ پاک کا فرمان ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳)

(پ2،البقرۃ:183)

ترجمہ:اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ ساتھ نفل روزے بھی رکھا کرتے تھے۔ایک روایت میں ہے:رمضان کے بعد سب سے افضل شعبان کے روزے ہیں،تعظیمِ رمضان کے لئے۔([2])بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ ُعنہا فرماتی ہیں:رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے بلکہ پورے شعبان ہی کے روزے رکھ لیتے اور فرمایا کرتے:اپنی طاقت کے مطابق عمل کرو کہ اللہ پاک اس وقت تک اپنا فضل نہیں روکتا جب تک تم اُکتا نہ جاؤ۔([3])

شارحِ بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریفُ الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:مراد یہ کہ شعبان میں اکثر دنوں میں روزہ رکھتے تھے اسے تغلیباً(غلبے اور زیادہ ہونے کے لحاظ سے)کُل (پورے مہینے کے روزے رکھنے)سے  تعبیر کر دیا ہے جیسے کہتے ہیں:فلاں نے پوری رات عبادت کی۔جبکہ اس نے رات میں کھانا بھی کھایا ہو اور ضروریات سے فراغت بھی کی ہو۔([4])

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ ُعنہا فرماتی ہیں: رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔میں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! کیا سب مہینوں میں آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ شعبان کے روزے رکھنا ہے؟ارشاد فرمایا:اللہ پاک اس سال مرنے والی ہر جان کو لکھ دیتا ہے اور مجھے پسند ہے کہ جب میرا وقتِ رخصت آئے اور میں روزہ دار ہوں۔([5])

حضرت عبدُ اللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ نے اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ ُعنہا کو فرماتے ہوئے سنا  کہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا پسندیدہ مہینا شَعبانُ الْمُعَظَّم تھا کہ اس میں روزے رکھا کرتے، پھر اسے رمضان المبارک سے ملا دیتے۔([6])نیز سیدہ حفصہ رضی اللہ ُعنہا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم چار چیزیں نہ چھوڑتے تھے:(1)عاشورہ کا روزہ(2)عشرۂ ذو الحجہ کے  روزے(3)ہر مہینے میں 3 روزے اور(4)فجر(کے فرض)سے پہلے دو رکعتیں۔([7])

  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:پیر اور جمعرات کو اعمال پیش ہوتے ہیں، لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس وقت پیش ہو کہ میں روزہ دار ہوں۔([8])  حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پیر کے روزے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا:اسی میں میری ولادت ہوئی اور اسی میں مجھ پر وحی نازل ہوئی۔([9])    حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ  اللہ کے پیارے نبی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ بشارت نشان ہے:جو بدھ اور جمعرات کے روزے رکھے اس کے لئے جہنم سے آزادی لکھ دی جاتی ہے۔([10])اللہ پاک کے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پیر اور جمعرات کو روزے رکھا کرتے تھے، اس کے بارے میں عرض کی گئی تو فرمایا:ان دونوں دنوں میں اللہ پاک ہر مسلمان کی مغفرت فرما دیتا ہے مگر وہ دو  شخص جنہوں نے آپس میں  جدائی کر لی ہے ان کے متعلق فرشتوں سے فرماتا ہے:انہیں چھوڑ دو!یہاں تک کہ صُلح کر لیں۔([11])

بنتِ        اشرف چشتی

(طالبہ:درجۂ خامسہ، جامعۃ المدینہ گرلز کنگ سہالی گجرات)

ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم روزوں سے بہت محبت فرماتے تھے، اس لیے آپ خود بھی روزے رکھتے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلاتے تھے۔چنانچہ اُمُّ المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ ُعنہا سے مروی ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم چار چیزیں نہ چھوڑتے تھے:(1)عاشورہ کا روزہ(2) عشرۂ ذو الحجہ کے روزے(3)ہر مہینے میں تین روزے اور (4)فجر(کے فرض)سے پہلے دو رکعتیں۔([12]) اسی طرح ایک حدیث میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایامِ بیض میں بغیر روزہ کے نہ ہوتے،نہ سفر میں نہ حضر میں۔([13])حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  اپنا یومِ ولادت بھی روزہ رکھ کر مناتے تھے۔جیسا کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:اسی میں میری ولادت ہوئی اور اسی میں مجھ پر وحی نازل ہوئی۔([14]) اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ ُعنہا سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص خیال رکھتے تھے۔([15])

آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی روزوں سے محبت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ آپ یہ پسند کیا کرتے کہ اعمال پیش ہوتے وقت بھی روزہ دار ہوں جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:پیر اور جمعرات کو اعمال پیش ہوتے ہیں تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس وقت پیش ہو کہ میں روزہ دار ہوں۔([16])آپ اسی محبت کی وجہ سے نہ صرف خود روزے رکھتے بلکہ دوسروں کو اس کی ترغیب بھی دلاتے تھے، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے:جس نے رمضان، شوال،بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھا وہ داخلِ جنت ہو گا۔([17])

ذکر کی گئی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو روزوں سے بہت محبت تھی اور یہ آپ کی محبوب ترین عبادت تھی۔ہمیں بھی اپنے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اس محبوب ترین عبادت سے محبت رکھنی چائیے اور خوب روزے رکھنے چاہئیں۔اللہ پاک ہمیں بھی روزوں سے محبت نصیب فرمائے۔آمین



[1]  فیضانِ رمضان،ص73

[2] شعب الایمان،3/377،حديث:3819

[3] بخاری، 1/648، حديث:1970

[4] نزہۃ القاری،3/ 377

[5] مسند  ابی یعلی،4/ 277، حدیث:4890

[6] ابوداود،2/476،حدیث:2431

[7] نسائی،ص395،حديث: 2413

[8] ترمذى،2/187،حديث:747

[9] مسلم،ص455،حديث:2750

[10] مسند ابی یعلی،5/115،حديث:5610

[11] ابن ماجہ،2/344، حديث:1740

[12] نسائی، ص395، حديث:2413

[13] نسائی، 386، حدیث:2342

[14] مسلم، ص455،  حديث:2750

[15] ترمذی، 2/186، حدیث:745

[16] ترمذی، 2/187، حدیث: 747

[17] سنن کبریٰ للنسائی، 2/147، حدیث:2778


Share