برائی سے نہ روکنا
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:بُرائی سے نہ روکنا(قسط:1)

اللہ پاک کا فرمان ہے:

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ(۷۸) (پ6، المائدۃ:79،78)

ترجمہ:بنی اسرائیل میں سے کفر کرنے والوں پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پر سے لعنت کی گئی۔یہ لعنت اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ سرکشی کرتے رہتے تھے۔وہ ایک دوسرے کو کسی بُرے کام سے منع نہ کرتے تھے جو وہ کیا کرتے تھے۔بیشک یہ بہت ہی برے کام کرتے تھے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفاسیر:

علمائے کرام نے مذکورہ آیتِ مبارکہ کی مختلف تفاسیر بیان کی ہیں، چند پیشِ خدمت ہیں:

1۔بنی اسرائیل پر ہر زبان میں لعنت کی گئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں اُن پر تورات میں لعنت کی گئی، حضرت داود علیہ السلام کے زمانے میں اُن پر زبور میں  لعنت کی گئی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں اُن پر انجیل میں لعنت کی گئی اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانے میں اُن پر قرآنِ پاک میں لعنت کی گئی۔([1])

2۔بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے اپنے کسی بھائی کو گناہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے سختی سے منع کیا اور جب دوسرے دن اسے گناہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے اس گناہ سے منع نہ کیا بلکہ اس کے ساتھ میل جول اور کھانے پینے میں مشغول ہو گیا  تو اللہ پاک نے ان لوگوں کے دلوں کو ایک دوسرے کی طرح کر دیا(یعنی نیک لوگوں کے دلوں  کوبھی گناہ گاروں کے دل کی طرح سیاہ کر دیا)اور ان  پر ان کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبانوں سے لعنت کی۔پھر آپ نے فرمایا:اس ذات کی قسم!جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور بُرائی سےمنع کرتے رہنا اور ضرور بُرائی کرنے والے کے ہاتھوں کو پکڑ  لینا  اور اسے حق پر عمل کرنے کے لیے مجبور کر دینا ورنہ اللہ پاک تمہارے دلوں کو بھی ایک دوسرے کی طرح کر دے گا اور تم پربھی اسی طرح لعنت کرےگا جس طرح ان پرلعنت کی۔([2])

3۔حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے پڑوسیوں کو تعلیم نہیں دیتے، انہیں فقہ نہیں سکھاتے، انہیں نہیں سمجھاتے، نہ ان کو نیکی کا حکم کرتے ہیں اور نہ ہی بُرائی سے روکتے ہیں! ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو نہ اپنے پڑوسیوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور نہ ان سے سمجھ حاصل کرتے ہیں! اس ذات کی قسم! جس کے قبضے میں میری جان ہے! تم ضرور اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دو یا ان سے سیکھو یا ان سے سمجھ حاصل کرو ورنہ دنیا میں ہی میں انہیں جلدی سزا دوں گا۔پھر آپ منبر سے اتر کر اپنے گھر تشریف لے گئے۔صحابہ کرام ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ اس کلام سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو بعض صحابہ نے عرض کی:ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ اس کلام سے اشعری مراد ہیں۔چنانچہ اشعریوں کی ایک جماعت نے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:مسلمانوں کی ایک جماعت کا ذکر آپ نے بھلائی کے ساتھ جبکہ ہمارا ذکر بُرائی کے ساتھ کیا ہے! ہمارا کیا قصور ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دو، ان کو دین سمجھاؤ، ان کو نیکی کا حکم دو اور بُرائی سے روکو ورنہ میں تمہیں دنیا میں ہی جلد سزا دوں گا۔انہوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!ہمیں ایک سال کی مہلت دیجئے،ایک سال میں ہم انہیں تعلیم نہ دیں اور وہ نہ سیکھیں تو ہم کو ایک اور سال کی مہلت دیجئے تو  رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے یہ آیت پڑھی۔([3])

4۔بنی اسرائیل نے دن کے اول حصے میں 43  نبیوں کو شہید کیا،پھر اللہ پاک کے 112 بندے اٹھے،انہوں نے ان کو نیکی کا حکم دیا اور بُرائی سے روکا تو دن کے آخری حصے میں بنی اسرائیل نے ان سب کو بھی قتل کر دیا۔تو اللہ پاک نے انہی لوگوں کا(اس آیتِ کریمہ میں)ذکر فرمایا ہے۔([4])

5۔اللہ پاک عام لوگوں کو خاص لوگوں کے عمل کی وجہ سے عذاب نہیں فرماتا یہاں تک کہ وہ بُرائی کو اپنے درمیان دیکھیں  حالانکہ وہ اس بُرائی کو روکنے پر قادر ہیں۔جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ پاک عام و خاص سب کو عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔([5])

6۔حدیثِ پاک کی مشہور کتاب سننِ ابی داود کی حدیثِ پاک میں ہے:پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں داخل ہوئی وہ یہ تھی کہ ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا:اے فلاں! اللہ پاک سے ڈر اور تو جو بُرے کام کرتا ہے اسے چھوڑ دے کیونکہ یہ تیرے لیے حلال نہیں۔پھر دوسرے دن اسے اسی حالت میں پاتا تو اس بُرائی سے منع نہ کرتا بلکہ اس کے ساتھ کھانے پینے اور بیٹھنے میں شریک ہو جاتا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ پاک نے ان کے دل آپس میں ایک دوسرے کے موافق کر دیے۔پھر حضور نے مذکورہ چند آیات ِ مبارکہ تلاوت فرمائیں اور ارشاد فرمایا: خبردار! خدا کی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور بُرائی سے منع کرو گے اور ظالم کے ہاتھ پکڑ کر اسے حق کی طرف مائل کرو گے اور اسے حق پر ہی روکے رکھو گے، ورنہ اللہ پاک تم سب کے دل ایک دوسرے کے موافق کر دے گا اور پھر تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح بنی اسرائیل پر لعنت کی۔([6])جبکہ ترمذی شریف میں الفاظ یہ ہیں کہ جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علما نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے، پھر وہ علما بھی اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کے معاملات میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے تو اللہ پاک نے ان کے دل آپس میں خلط ملط کر دیے اور  اس نے حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی زبان سے ان پر لعنت اتاری  اس لیے کہ وہ نافرمان اور سرکش تھے۔([7])

7۔علامہ علی قاری  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب بنی اسرائیل بدکاری، ہفتے کے دن شکار کرنے اور دیگر گناہوں میں مبتلا ہوئے تو پہلے ان کے علما نے انہیں روکا، مگر جب وہ لوگ باز نہ آئے اور اپنے علما کی بات مانی نہ ممنوع چیزوں کو چھوڑا تو وہ علما بھی اپنی قوم کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگ گئے اور ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہو گئے تو اللہ پاک نے ان کے دل آپس میں خلط ملط کر دیے۔ابنُ الملک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:گناہگاروں کی نحوست کے سبب اللہ پاک نے ان لوگوں کے دل بھی سیاہ کر دیے جنہوں نے گناہ نہیں کیے تھے تو ان سب کے دل  سخت، حق اور بھلائی قبول کرنے یا نافرمانیوں اور آپس کے میل جول کے سبب اللہ پاک کی رحمت سے دور ہو گئے اور پھر اللہ پاک نے ان تمام نافرمانوں اور ان کے ساتھیوں پر حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبان سے لعنت فرمائی اور ان پر یہ لعنت گناہ کرنے، میل جول رکھنے، گناہوں کو حلال سمجھ کر کفر کی حد تک تجاوز کرنے، گناہوں پر رضا مند ہونے اور گناہ کرنے والوں کو اچھا سمجھنے کے سبب سے تھی۔([8])

8۔حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی امّت کے اربابِ اختیار اور علما کو مُتَنَبِّہ(خبردار)کیا کہ تمہیں اس(بنی اسرائیل کے)طریقہ کار  سے بچنا ہو گا اور  بُرائی  کا ارتکاب کرنے والوں کا ہاتھ روکنا ہوگا،منافقت و مُدَاہَنَت سے کام لینے کے بجائے غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کرنا اور اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر سے متعلق اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ہو گا۔ظالم کا ہاتھ روک کر اسے راہِ حق پر لانا ہو گا، ورنہ تم بھی بنی اسرائیل کی طرح لعنت کے مستحق ہو جاؤ گے۔([9])

9۔تفسیر خزائن العرفان میں ہے:باشندگانِ اِیلہ نے جب حد سے تجاوز کیا اور سنیچر(ہفتے) کے روز شکار ترک کرنے کا جو حکم تھا اس کی مخالفت کی تو حضرت داؤد علیہ السلام نے ان پر لعنت کی اور ان کے حق میں بددعا فرمائی تو وہ بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کر دیئے گئے اور اصحابِ مائدہ نے جب نازل شدہ خوان کی نعمتیں کھانے کے بعد کفر کیا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کے حق میں بد دعا کی تو وہ خنزیر اور بندر ہو گئے اور ان کی تعداد پانچ ہزار تھی۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہود اپنے آبا (باپ دادا)پر فخر کیا کرتے تھے اور کہتے تھے:ہم انبیا کی اولاد ہیں۔اس آیت میں انہیں بتایا گیا کہ ان انبیا نے ان پر لعنت کی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام نے ان پر لعنت کی ہے۔ایک قول یہ ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام نے سیدِ عالَم،محمدِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جلوہ افروزی کی بشارت(خوشخبری) دی اور حضور پر ایمان نہ لانے اور کفر کرنے والوں پر لعنت کی۔آیت سے معلوم ہوا کہ نہی منکر یعنی بُرائی سے لوگوں کو روکنا واجب اور بدی(بُرائی) کو منع کرنے سے باز رہنا سخت گناہ ہے۔([10])یاد رہے! ان پانچ ہزار مسخ شدہ افراد کی تعداد میں بچے اور عورتیں شامل نہیں ہیں یہ صرف مردوں کی تعداد ہے۔([11])

حاصل کلام:

تفسیر نور العرفان میں ہے:بزرگوں کی بد دعا بڑی خطرناک ہے اور ہمیشہ عذابِ الٰہی  اللہ والوں کی بد دعا سے آیا۔نیز بُرائی سے روکنا اچھائی کا حکم کرنا واجب ہے تبلیغ بند ہونے پر عذابِ الٰہی آنے کا اندیشہ ہے۔([12])

تفسیر ِحسنات میں ہے:آیہ کریمہ سے ثابت ہوا کہ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (بُرائی سے روکنا) واجب ہے اورمنکَرَات(بُرائیوں)سے روکنے سے باز رہنا مُدَاہَنَت فی الدین ہے اور یہ سخت گناہ ہے۔([13])

مداہنت کے لغوی معنی نرمی کے ہیں۔ناجائز اور گناہ والے کام ملاحظہ کرنے کے بعد(روکنے پر قادر ہونے کے باوجود )اسے نہ روکنا اور دینی معاملے کی مدد و نصرت میں کمزوری و کم ہمتی کا مظاہرہ کرنا مُدَاہَنَت کہلاتا ہے یا کسی بھی دنیوی مفاد کی خاطر دینی معاملے میں نرمی یا خاموشی اختیار کرنا مُدَاہَنَت ہے۔([14]) مُدَاہَنَت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔([15])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلز فیضانِ اُمِّ عطار

گلبہار سیالکوٹ



[1] تفسیر طبری،4 /656،رقم:12305

[2]  تفسیر طبری،4 /657،رقم:12309

[3] تفسیر در منثور،3/125

[4] تفسیر در منثور،3/126

[5] تفسیر در منثور،3/127

[6] ابوداود،4/163،حدیث:4336،4337

[7] ترمذی،5 /36، حدیث:3058

[8] مرقاۃ المفاتیح،8/881،880، تحت الحدیث:5148

[9]  مراۃ المناجیح،6/ 513مکتبہ اسلامیہ

10تفسیر خزائن العرفان، ص232

11 تفسیر حسنات،2/226

12 تفسیر نور العرفان،ص192

13تفسیر حسنات،2/226

14حدیقہ ندیہ،2/154

15حدیقہ ندیہ،2/155


Share