موضوع:بارات(قسط:3)
شادی کے موقع پر دلہن اور دولہے کے لباس سے متعلق ہمارے معاشرے میں مختلف قسم کی رسومات پائی جاتی ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں ایسی ہی رسومات کی شرعی و اخلاقی حیثیت کا مختصر جائزہ پیشِ خدمت ہے:
شادی کی تمام تیاریوں میں سب سے زیادہ جس بات کو اہمیت حاصل ہوتی ہے وہ دلہن کی شادی کے کپڑے ہیں، خواتین کے لیے ان کی شادی کی دیگر چیزوں سمیت جوڑے بھی بہت قیمتی ہوتے ہیں، کیونکہ ان سے خوبصورت یادیں اور جذبات جڑے ہوتے ہیں اور عام طور پر خواتین ان کو بہت حفاظت سے سنبھال کر رکھتی ہیں اور کسی کو استعمال کے لیے بھی دینا گوارا نہیں کرتیں، البتہ!شادی کے موقع پر دلہن جو لباس پہنتی ہے، اس کا اہتمام عموماً لڑکی والوں کی طرف سے ہوتا ہے جو کافی مہنگا بھی ہوتا ہے کیونکہ آج کل Tagging اور Branding کا دور چل پڑا ہے یعنی کام کی جگہ دام اور نام چلنے لگا ہے۔لوگ مہنگے ملبوسات اپنی شادیوں پر تیار کرواتے ہیں اور مہنگے لباس کو اپنی شان شمار کرتے ہیں۔بعض خصوصی طور پر Boutique سے آرڈر پر سلواتے ہیں جن کی قیمت ہزاروں بلکہ لاکھوں میں ہوتی ہے۔درمیانہ طبقہ بھی قیمتی ملبوسات کی طرف ہی رجحان رکھتا ہے۔بات صرف مہنگے ملبوسات کی نہیں بلکہ ان کے محدود استعمال کی بھی ہے کہ شادی میں جو دلہن کا لباس اتنا بھاری اور کام والا ہوتا ہے اس کو بس ایک بار پہن کر الماری کی زینت بنا دیا جاتا ہے اور عام طور پر اس کے بعد اسے دوبارہ پہننے کا موقع بھی نہیں ملتا، لہٰذا فی زمانہ یہ دیکھنے میں بھی آیا ہے کہ*دلہن کی کوئی قریبی خاتون مثلاً بھابھی یا کزن وغیرہ جس کی شادی کا جوڑا استعمال کے قابل ہو تو وہ پہن لیا جاتا ہے، البتہ!یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ جس عورت کی شادی کا جوڑا لیا جا رہا ہے وہ بیوہ نہ ہو، کیونکہ بیوہ کا جوڑا اس موقع پر پہننا برا شگون سمجھا جاتا ہے کہ اس سے دلہن کی زندگی میں معاذ اللہ نحوست ہو گی اور اس کا بھی سہاگ اجڑ جائے گا، حالانکہ یہ سوچ درست نہیں اور اس کا اسلام سے بھی کوئی تعلق نہیں۔
* مہنگا لباس خریدنے کے بجائے دلہن کے لیے بارات کے خوبصورت اور ہیوی ڈریسز کرائے پر حاصل کر لئے جاتے ہیں۔*یا پھر دلہن کے لیے بارات کا Dress لڑکے والوں کی طرف سے آتا ہے۔
بہرحال لباس لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے ہو یا لڑکے والوں کی طرف سے،عارضی طور پر کسی سے لیا ہو یا کرائے پر،اس کا استعمال ہر صورت میں جائز ہے۔البتہ اگر لباس پہننے اور اس کے حصول وغیرہ میں کسی قسم کی شرعی ممانعتوں کا سامنا ہو تو انہیں ضرور دیکھا جائے گا، مثلاً اگر لباس کے حصول کے لئے لڑکی لڑکے یا اس کے گھر والوں کے ساتھ شاپنگ پر جاتی ہے اور یوں نا محرموں کا اجتماع اور بے تکلفانہ انداز بھی ہوتا ہے تو نامحرم سے میل جول وغیرہ کی وجہ سے ایسا کرنے سے منع کیا جائے گا۔
دلہن کے مختلف لباسوں کا جائزہ:
شادیوں میں لہنگے اور ساڑھیاں پہننا بہت عام ہو چکا ہے، بڑے بڑے شاپنگ مالز میں ایسے لہنگے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں جن کی قمیص سینے سے نیچے تک ہوتی ہے اور لہنگا ناف سے شروع ہوتا ہے۔لہٰذا پہننے والی کی کمر اور پیٹ کا کچھ حصہ لازمی ظاہر ہوتا ہے،ایسے لہنگے ہرگز نہ پہنے جائیں۔البتہ جو لہنگے تمام اعضائے بدن کو مکمل چھپانے والے ہوں،جن سے بدن کا ابھار اور کوئی حصہ ظاہر نہ ہو تو وہ پہن سکتی ہیں،جیسا کہ مکتبۃ المدینہ کی کتاب زینت کے شرعی احکام میں ہے:فی زمانہ ہمارے ملک پاکستان میں جس قسم کا بڑے سائز کا پورے بدن کو اچھی طرح ڈھانپ دینے والا لہنگا رائج ہے اس طرح کا لہنگا پہننا اور اسے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ لہنگا فی زمانہ شعارِ کفار نہیں رہا، بلکہ مسلم خواتین میں بھی عام و شائع ہوچکا ہے اور لہنگا پہننے سے سترِ عورت بھی ہوجاتا ہے، لہٰذا فی زمانہ لہنگا پہننے میں حرج نہیں ہے۔([1])ساڑھی کے لیے بھی یہی حکم ہے،جیسا کہ فتاویٰ فیضُ الرسول میں ہے:ساڑھی اگر اس طرح پہنی جائے کہ بےپردگی نہ ہو تو جائز اور بے پر دگی ہو تو ناجائز اور نیچے کی جانب کھلے رہنے میں کوئی قباحت(برائی) نہیں ہے اس لئے کہ شریعتِ مطہرہ نے ساڑھی اور تہبند پہن کر نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے اور سیدِ عالم صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلّم ہمیشہ تہبند ہی استعمال فرماتے رہے۔([2])
غرارے، فراک اور میکسی وغیرہ جیسے Tail dresses کا استعمال بھی عام ہوتا جا رہا ہے، لباس خواہ کوئی بھی ہو اگر اس سے سترِ عورت ہو رہا ہو تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں، البتہ!ایسے کسی بھی لباس کے استعمال سے بچنا بہتر ہے جس میں زمین پر پیچھے سے کپڑا کافی مقدار میں لٹک رہا ہو یا گھسٹ رہا ہو۔کیونکہ ایسا لباس جس کا پائنچا یا دامن زمین پر گھسیٹ رہا ہو، پہننا منع ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ اُمُّ المومنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:عورتوں کے لیے کیا حکم ہے؟ارشاد فرمایا:ایک بالشت لٹکائیں!(یعنی آدھی پنڈلی کے نیچے ایک بالشت لٹکائیں)عرض کی:اس سے تو عورتوں کے قدم کھل جائیں گے۔ارشاد فرمایا:ایک ہاتھ لٹکائیں، اس سے زیادہ نہیں۔([3]) لہٰذا دلہن کو اتنے لمبے لباس نہ پہنائے جائیں۔
مزید یہ کہ لباس اتنا تنگ نہ ہو کہ اعضا کا ابھار واضح ہوتا ہو کہ یہ بھی بے ستری ہی ہے۔کیونکہ ایسا دبیز(موٹا)کپڑا جس سے بدن کا رنگ نہ چمکتا ہو مگر بدن سے بالکل ایسا چپکا ہوا ہے کہ دیکھنے سے عضو کی ہیأت معلوم ہوتی ہے،ایسے کپڑے سے نماز ہو جائے گی،مگر اس عضو کی طرف دوسرے کو نگاہ کرنا جائز نہیں اور ایسا کپڑا لوگوں کے سامنے پہننا بھی منع ہے۔([4])
فی زمانہ شادی میں حجاب(سر پر دوپٹہ جسے اسٹالر بھی کہتے ہیں) کا Trend بھی عام ہے، مگر اتنا کہ بعض دلہنیں صرف trend کے طور پر حجاب کر لیتی ہیں کہ سر ڈھانپ لیا مگر سینہ کھلا ہے یہاں تک کہ بعض اعضائے بدن صاف نظر آ رہے ہوتے ہیں، حالانکہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہوجیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز، تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے۔([5])
آج کل تو بعض ایسی بے باک عورتیں بھی دیکھی جاتی ہیں جو دوپٹے کو بھی اس انداز سے اوڑھتی ہیں کہ وہ ستر پوشی کے بجائے الگ ہی قسم کی بے ستری کر رہی ہوتی ہیں۔المیہ یہ ہے کہ ان دنیا داروں کی عقل trend اور فیشن کو تو سمجھ لیتی ہے مگر اللہ و رسول کے احکامات سمجھنے کو تیار نہیں۔اللہ پاک ان کو ہدایت نصیب کرے،یہ سب گناہوں کے کام ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ اگر کسی نے دین میں کوئی برا طریقہ رائج کیا تو اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں کے برابر اس کو بھی گناہ دیا جائے گا اور یقیناً یہ سببِ ہلاکت ہے۔لہٰذا ایسے خلافِ شرع کاموں سے بچنا چاہیے ورنہ جہنم کی آگ برداشت نہ ہو گی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* دفتر ذمہ دار پاک سطح، شعبہ حج و عمرہ کراچی

Comments