ڈسپلن کی اہمیت (قسط:04)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:ڈسپلن کی اہمیت(قسط:4)

ڈسپلن یعنی نظم و ضبط کی انسانی زندگی میں کس قدر اہمیت ہے، اس کے لئے اتنا کہنا کافی ہو گا کہ اس کے بغیر کسی بھی منظم معاشرے کا وجود ناممکن ہے، بلکہ غور کیا جائے تو کائنات کا ذرہ ذرہ کسی قدرتی نظام کا پابند ہے، جیسا کہ چاند،سورج، ستارے اور دن رات اللہ کریم کے بنائے ہوئے نظام کے تحت ہی چل رہے ہیں۔چنانچہ،

اس اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو ایک تعلیمی ادارے کے لیے بھی نظم  و ضبط انتہائی ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر منظم ادارے کے قیام و بقا کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں، کچھ حدود و قیودات اور پابندیاں ہوتی ہیں، جن کا مقصد ادارے سے وابستہ افراد میں نظم و ضبط پیدا کرنا اور انہیں ترقی و ترویج کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔

یہ اصول و ضوابط صرف اس تعلیمی ادارے کے اسٹاف سے ہی تعلق نہیں رکھتے بلکہ ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کے لئے بھی کچھ اصول و قوانین بنائے جاتے ہیں تاکہ وہ ادارے کی نیک نامی کا سبب بنیں، ان کی شخصیت میں نکھار پیدا ہو، ان کی زندگی با مقصد بن جائے اور وہ جس مقصد کے تحت آئے ہیں اس میں کامیاب و کامران ہو کر ملک و ملت کا نام روشن کریں۔

تعلیمی ادارہ مادرِ علمی کی حیثیت رکھتا ہے۔انسان کے اندر یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ جس جگہ کچھ وقت گزار لے اس جگہ سے مانوس ہو جاتا ہے۔لہٰذا وہ ادارہ جس میں طلبہ و طالبات کو دین و دنیا کی بھلائی سکھائی جاتی ہے، اس ادارے کے اصول و قوانین کی پاسداری کرنا اور اس ادارے سے محبت کرنا طلبہ و طالبات پر لازم ہے۔

نظم و ضبط کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں اصول و قوانین کی پابندی کا ماحول نہ ہو وہاں بے چینی اور افراتفری کا سماں ہوتا ہے جو ادارے سے وابستہ افراد کی زندگیوں پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔جبکہ نظم و ضبط کی پابندی ایک پرسکون اور خوشگوار ماحول کو جنم دیتی اور اسٹوڈنٹس (طلبہ و طالبات)کے اعلیٰ تعلیمی کردار کی تعمیر کرتی ہے۔مگر بعض نادان اسٹوڈنٹس جو ادارے کے ساتھ مخلص نہیں ہوتے ان کے نزدیک ادارے کے نظم و  ضبط کی کوئی Value ہی نہیں ہوتی، ادارے والے اپنی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح یہ طلبہ و طالبات سدھر جائیں،اپنی اس بری روش کو ختم کر کے ادارے کے ڈسپلن کی پابندی کریں اور اپنی تعلیم مکمل کر کے معاشرے کے سدھار میں اپنا کردار ادا کریں، مگر افسوس!ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، نہ ان کی ذات پر کسی کی نصیحت کا کوئی اثر ہوتا ہے،ان کی اس بری عادت کا دیگر طلبہ و طالبات پر بھی بہت برا  اثر پڑتا ہے اور ادارے کی بدنامی الگ ہوتی ہے۔الغرض وہ اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی کے وار کر کے اپنا مستقبل داؤ پر لگا لیتے ہیں، بالآخر ان کی حرکتوں سے تنگ آ کر ادارہ ان سے معذرت کر لیتا ہے، یوں وہ علم کی برکتوں سے محروم ہو کر اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے اور اپنے کئے پر ساری زندگی پچھتاتے رہتے ہیں۔چنانچہ

 مدارس و جامعات میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کی راہ نمائی کے لئے یہاں چند ایسی اہم باتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ڈسپلن اور نظم و ضبط کے قیام کے لئے انتہائی ضروری ہیں اور ان کا خیال رکھنے سے طلبہ و طالبات کامیابی و کامرانی کو اپنے نام کر سکتے ہیں۔

ٹیچرز کی نقلیں اتارنا یا نامناسب القاب رکھنا:

پچھلی قسط میں اس حوالے سے کچھ باتیں اگرچہ ذکر ہو چکی ہیں، مگر یہاں مزید کچھ باتیں پیشِ خدمت ہیں۔یاد رکھئے!کسی بھی تعلیمی ادارے کا یہ بنیادی اصول ہوتا ہے کہ وہاں زیرِ تعلیم ہر فرد اپنے ٹیچر کا ادب کرے، مگر بعض ایسے  اسٹوڈنٹس بھی ادارے کو جوائن کرتے ہیں جو ٹیچر کی اہمیت اور ان کے مقام  و مرتبے کو سمجھنے سے غافل ہوتے ہیں اور ان کے نزدیک ٹیچرز کی کوئی خاص ویلیو نہیں ہوتی، لہٰذا  ایسے شرارتی قسم کے اسٹوڈنٹس ادارے کے اصول و قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف پیٹھ پیچھے اپنے ٹیچرز کی بری نیت سے نقلیں اتارتے بلکہ انہیں نا مناسب القابات سے بھی یاد کرتے ہیں۔

ٹیچرز کی نقلیں اتارنے کی چند مثالیں:

پاؤں سے معذور ٹیچر کی طرح لنگڑا کر چلنا، اگر ٹیچر کی ہکلانے کی عادت ہے تو انہی کے اسٹائل میں ہکلا کر بولنا،اگر ان کے چلنے میں کوئی مسئلہ ہے تو اسی طرح چلنا، ان کے ڈانٹنے کے انداز میں کسی کو ڈانٹنا وغیرہ۔

ٹیچرز کے نا مناسب القاب رکھنے کی مثالیں:

بونی،ٹھگنی، لمبی،ضدی،بھدی،بد صورت،موٹی،کالی کلوٹی، چاپلوس، متکبرہ، کھڑوس، خشک یا اکھڑ مزاج، جلّاد ، بہری، گونگی، بھینگی،  توتلی وغیرہ۔

ادارے کے افراد پر نکتہ چینی:

ادارے سے متعلق افراد خواہ ٹیچرز ہوں یا انتظامیہ ان کی عزت و تکریم بھی کامیابی کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ جو طلبہ و طالبات ادارے کے نظام یا انتظامیہ پر بلا وجہ تنقید کرتے ہیں، بلا وجہ ان سے الجھتے ہیں اور بد تمیزی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ایسے اسٹوڈنٹس عِلمِ دین کی حقیقی روح کو ہرگز نہیں پا سکتے، بلکہ ناکام و نامراد ہی رہ جاتے ہیں۔

ادارے کی طرف سے مخصوص رعایتیں نہ ملنے کا شکوہ:

عموماً ہر ادارے کی انتظامیہ کی بھر پور کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنی طاقت و حیثیت کے مطابق ادارے میں ضروریات و سہولیات کا انتظام کیا جائے تاکہ پڑھنے و پڑھانے والوں کو کسی بھی قسم کی آزمائش کا سامنا نہ ہو اور وہ خلوصِ دل کے ساتھ عِلمِ دین سیکھنے سکھانے  کا تسلسل جاری رکھ سکیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض اسٹوڈنٹس آسائشوں اور سہولت پسندی کے اس قدر شوقین ہوتے ہیں کہ ادارے کے اصول و قواعد کو سمجھنے کی بجائے اپنی من مانی اور اضافی آسائشیں یا سہولیات دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، مثلاً لیٹ آنے، چھٹی کرنے، سبق یاد نہ کرنے، جلدی چلے جانے، کلاس سے غائب رہنے وغیرہ پر ان سے پوچھ گچھ نہ کی جائے،ایسوں کو آسائشیں فراہم کرنا اضافی سہولت دینا ادارے کے اختیار و حدود سے باہر ہوتا  ہے، نتیجتاً یہ اسٹوڈنٹس اپنے تعلیمی سفر سے منہ موڑ کر  اپنے لئے حصولِ علم کے دروازے بند کر لیتے ہیں۔

ایسے اسٹوڈنٹس کو سمجھنا چاہیے کہ دین قربانی کا تقاضا کرتا ہے اور علمِ دین کی عظیم دولت سمیٹنے کے لیے بہت ساری آسائشوں کی قربانی دینی پڑتی ہے جیسا کہ علمائے دین کی سیرت سے ظاہر ہے کہ جنہوں نے حصولِ علمِ دین کی خاطر ایسی ایسی مشکلات اور بھوک پیاس وغیرہ کا سامنا کیا کہ پڑھ اور سن کر عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔ایسے بزرگوں کے واقعات پڑھنے کے لئے  مکتبۃ المدینہ کا رسالہ تذکرۂ امیرِ اہلِ سنت، قسط:4 شوقِ عِلمِ دین ضرور پڑھئے۔دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔

دوسروں کو ادارے کی مخالفت پر ابھارنا،انہیں ادارے کی کمزوریاں بتانا یا پڑھائی چھوڑنے کا ذہن دینا:

بعض شر پسند اسٹوڈنٹس ادارے کے ساتھ مخلص نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف خود بھی علمِ دین کی برکتوں سے محروم رہتے ہیں بلکہ اپنا شر دوسروں تک بھی منتقل کرتے ہیں، یوں کہ کلاس فیلوز یا باہر کے افراد کو ادارے کی مخالفت پر ابھارتے،ادارے کے کمزور پہلوؤں کو ذکر کر کے یا دیگر طلبہ و طالبات کے ذہنوں میں شکوک و شبہات ڈال کر انہیں جامعہ یا مدرسہ چھوڑ کر کہیں اور جا کر پڑھنے کا ذہن دیتے ہیں،مثلاً ہمارے جامعہ یا مدرسے کا نظام بہت خراب ہے، طلبہ و طالبات کو آتا جاتا کچھ نہیں، بس گدھے کی طرح بوجھ لاد دیا جاتا ہے، پینے کو ٹھنڈا میٹھا پانی نہیں ملتا،  کھارا پانی پینا پڑتا ہے، کھانے میں ٹیسٹ نہیں ہوتا، روٹی کچی، جلی ہوئی یا باسی ہوتی ہے، عصری علوم کی تعلیم پر کوئی توجہ نہیں، کسی کو بات کرنے کی تمیز نہیں، صفائی کا نظام درست نہیں، کمروں کی حالت انتہائی خستہ ہے، سفارش کلچر عام ہے، رشتے داروں اور شخصیات کے بچوں کو خصوصی پروٹو کول دیا جاتا ہے، ٹیچرز کو پڑھانا نہیں آتا، بلا وجہ مارا پیٹا جاتا اور عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے، لیٹ آنے یا چھٹی کرنے پر عذر نہیں سنا جاتا، مالِ وقف کا   مس یوز ہوتا ہے، کرپشن کا بازار گرم ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں فلاں مدرسہ یا جامعہ کا نظام بہت بہترین ہے اور وہاں پر ہر طرح کی سہولت موجود ہے، وہ جامعہ یا مدرسہ ہر اعتبار سے اس جامعہ یا مدرسے سے لاکھ درجہ بہتر ہے، لہٰذا میری مانو تو پہلی فرصت میں یہاں اپنا ٹائم ضائع کرنے کے بجائے یا کسی کو یہاں پڑھانے کے بجائے فلاں مدرسے یا جامعہ میں داخلہ لے لو یا دلوا دو وغیرہ۔

یوں وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی علم ِ دین سے دوری اور ادارے کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ان وجوہات کی بنا پر بعض اوقات ادارہ ایسے طلبہ و طالبات سے معذرت کر لیتا ہے یا پھر انہیں اپنی ان بری عادات کی وجہ سے خود ہی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔لہٰذا دینی جامعہ ومدرسے میں زیرِ تعلیم تمام طلبہ و طالبات کو چاہئے کہ وہ کامیابی کے حصول اور روشن مستقبل کو پانے کے لیے ٹیچرز کا ادب لازمی کریں، نظم و ضبط کی پابندی کریں، اپنے جامعہ و مدرسے کے ساتھ مخلص ہو جائیں اور  اپنے تعلیمی ادارے سے محبت و تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں۔ان شاء اللہ عِلمِ دین کی حقیقی برکتیں نصیب ہوں گی۔

ادارے میں صرف ٹائم پاس کرنے یا گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے آنا:

جامعات و مدارس میں زیرِ تعلیم بعض طلبہ و طالبات کے کردار کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ ادارے میں پڑھنے نہیں، بلکہ گھر والوں کے دباؤ میں صرف ٹائم پاس کرنے آتے ہیں، مثلاً کلاس میں بیٹھ کر موبائل استعمال کرتے ہیں، منہ میں ہر وقت کچھ نہ کچھ چباتے رہتے ہیں،دیگر کلاس فیلوز کو اشارے کرتے رہتے ہیں،ٹیچرز کے لیکچرز کو اہمیت نہیں دیتے،خواب و خیالات میں کھوئے رہتے ہیں،ٹیچرز کی غیر حاضری کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ گپیں ہانکنے میں آسانی ہو، جس دن سبق پڑھنے کا دل نہ چاہے تو ٹیچر ز سے فضول سوال کرتے یا انہیں ادھر ادھر کی باتوں میں الجھانے کی کوشش کرتے ہیں،اگر اس میں ناکامی ہو جائے تو جلدی چھٹی لے کر گھر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

الغرض ان کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ کلاس میں پڑھائی کے علاوہ سب کچھ ہوتا رہے اور وقت بھی گزر جائے۔ یوں وہ پڑھائی کے مقاصد کو بھول کر گویا خود ہی ناکامی و نامرادی کو آگے بڑھ کر گلے لگاتے اور علمِ دین  سے محروم ہونے والوں کی فہرست میں اپنا نام بھی  شامل کروا لیتے ہیں۔ اللہ پاک ایسوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

(جاری ہے۔۔۔)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلزیزمان بہاولپور


Share