حرمین طیبین کے حقوق
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


اہم نوٹ:ان صفحات میں ماہنامہ خواتین کے 30ویں تحریری مقابلے میں موصول ہونے والے258مضامین کی تفصیل یہ ہے:

عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

حضورکی روزوں سے محبت

81

غلطی پر اڑ جانا

87

حرمین طیبین  کے حقوق

90

مضمون بھیجنے والیوں کے نام

حضور کی روزوں سے محبت:

خوشاب:جوہر آباد:بنت محمد شبیر۔سرائے عالمگیر:پوران:بنت ذو الفقار علی۔سیالکوٹ:اگوکی:بنت شاہد رمضان، بنت محمد جاوید، بنت نسیم حیات۔تلواڑہ مغلاں:بنت اسلم، بنت اظہر حسین، بنت طارق، بنت عارف حسین، بنت عاصم شہزاد، بنت فیصل مجید، بنت فیصل، بنت محمد ارشد، بنت محمد لطیف، بنت مطیع الرحمن، بنت منیر، بنت وسیم علی، خوشبوئے مدینہ۔شفیع کا بھٹہ:بنت عرفان، بنت محمد امین، بنت محمد سلیم، بنت محمد نذیر چوہدری، ہمشیرہ محمد آصف، بنت اشفاق احمد، بنت امجد فاروق، بنت امجد، بنت جعفر، بنت جہانگیر، بنت خلیل احمد، بنت راشد محمود، بنت سرمد، بنت شمس پرویز، بنت عبد المجید، بنت عثمان علی، بنت فرید علی، بنت لیاقت، بنت محمد اشرف، بنت محمد اصغر مغل، بنت محمد جان، بنت محمد شبیر، بنت محمد شکیل، بنت ممتاز، بنت ناصر علی، بنت ندیم، بنت کاشف، بنت افضال احمد، بنت انعام اللہ بٹ، بنت ذو الفقار، بنت غلام حیدر، بنت محمد ریاض، بنت محمد شبیر، بنت محمد امجد، بنت ناہید۔مظفر پورہ:بنت غلام میراں، بنت محمد نواز۔معراج کے:بنت محمد شفیق، بنت رضا حسین، بنت طاہر حسین، بنت محمد افضل، بنت نور حسین۔نند پور:بنت افتخار احمد، بنت الیاس، بنت خالد محمود، بنت رمضان احمد، بنت سلیم، بنت صدیق، بنت طیب، بنت عبد الستار، بنت محمد شکیل احمد، بنت محمد شکیل، بنت محمد عارف، بنت محمد ندیم، بنت وارث علی، بنت ہدایت اللہ۔پاکپورہ:بنت سید ابرار حسین۔گلبہار:ام معبد۔ملتان:قادر پوراں:بنت محمد اسحاق۔کراچی:دھوراجی:بنت شہزاد احمد۔گجرات:کنگ سہالی:بنت  محمد ریاض، بنت اشرف چشتی، بنت پرنس افضال احمد۔

حرمین طیبین کے حقوق:

اٹک:حضرو:بنت محمد ایوب۔خوشاب:جوہر آباد:بنت امتیاز حسین،بنت غلام محمد منتخب۔راولپنڈی:صدر:بنت وسیم۔سرائے عالمگیر:بنت عبد الرحمن۔سیالکوٹ:اگوکی:بنت محمد قیصر۔تلواڑہ مغلاں:بنت اشفاق، بنت اللہ دتہ، بنت جنید رضا، بنت رزاق احمد، بنت محمد شکور، بنت جاوید، بنت ناصر محمود۔شفیع کا بھٹہ:ہمشیرہ احمد، بنت اویس، بنت سعید، بنت عرفان، بنت محمد خالد، بنت محمد سجاد، بنت محمد ناصر، بنت محمد یعقوب، ہمشیرہ محمد حسین، بنت محمد عارف، بنت محمد خلیل، بنت محمد طارق، بنت اورنگزیب، ام کلثوم، بنت اصغر، بنت افتخار احمد، بنت راشد، بنت سلیمان، بنت شمس، بنت شہباز احمد، بنت صغیر احمد، بنت طارق محمود، بنت طارق نذیر، بنت ظہیر احمد، بنت عارف محمود، بنت عبد الماجد، بنت فضل الٰہی، بنت محمد آصف، بنت محمد احسن، بنت محمد اشرف، بنت محمد اکرم، بنت محمد سجاد، بنت محمد عرفان، بنت محمد ندیم، بنت محمد وسیم، بنت محمد گلزار، بنت محمد یعقوب، بنت محمد یوسف، بنت نعیم، بنت نوید احمد، بنت محمد اکرم، ہمشیرہ احمد، ہمشیرہ بلال حبیب، ہمشیرہ حامد مغل، ہمشیرہ حیدر علی، ہمشیرہ محمد اسماعیل، ہمشیرہ محمد جواد، بنت رفاقت حسین۔مظفر پورہ:بنت محمد نواز۔معراج کے:بنت غلام قمر، بنت لیاقت علی، بنت محمد ذو الفقار۔نند پور:بنت الیاس، بنت رمضان احمد، بنت سلیم، بنت شکیل احمد، بنت شکیل، بنت محمد صدیق، بنت محمد عارف، بنت محمد ندیم، بنت وارث علی۔پاکپورہ:بنت معراج، بنت میاں محمد یوسف قمر۔گلبہار:ام مشکوۃ ، ام ہانی، بنت امیر حیدر، بنت حاجی شہباز، بنت خالد، بنت رضوان احمد، بنت سجاد، بنت شمس پرویز، بنت ظہور الٰہی، بنت فیاض، بنت محمد رشید، بنت منیر۔فیصل آباد:جھمرہ سٹی:بنت محمد انور۔دیال گڑھ:بنت ہدایت اللہ۔

غلطی پر اڑ جانا:

بہاولپور:شاہدرہ:بنت فلک شیر، بنت نذیر احمد۔خوشاب:جوہر آباد:بنت اشرف، بنت شوکت علی، بنت غلام محمد، بنت محمد شبیر۔ راولپنڈی:صدر:بنت الیاس۔سرائے عالمگیر:پوران:بنت ذو الفقار علی۔سیالکوٹ:اگوکی:بنت احسان اللہ، بنت تنویر۔تلواڑہ مغلاں:اخت الاحد، بنت سخاوت علی۔شفیع کا بھٹہ:بنت رضاء الحق، بنت رمضان، بنت غلام رسول، بنت محمد بابر، بنت محمد ذو الفقار، بنت کرامت علی، ہمشیرہ زین علی ، بنت اشرف، بنت اشفاق احمد، بنت اعجاز احمد، بنت امجد پرویز، بنت انتظار حسین، بنت بشیر احمد، بنت تنویر، بنت جاوید اقبال، بنت خالد حسن، بنت خالد پرویز، بنت خوشی محمد، بنت رزاق بٹ، بنت ساجد، بنت سید آصف حسنین شاہ، بنت سید عاشق حسین شاہ، بنت شبیر احمد، بنت طاہر ، بنت عارف محمود، بنت عبد الرزاق، بنت عبد القادر، بنت عتیق، بنت غلام مصطفےٰ، بنت محمد اشرف، بنت محمد اشفاق بھٹی، بنت محمد اقبال، بنت محمد بوٹا، بنت محمد جمیل، بنت محمد حبیب،بنت محمد رمضان، بنت محمد سلیم، بنت محمد شفیق، بنت محمد شمس پرویز، بنت محمد شمس، بنت محمد شکیل، بنت محمد عابد، بنت محمد عمران، بنت محمد یوسف، بنت نواز،بنت ہمایوں، بنت اعجاز احمد، ہمشیرہ احسان الٰہی، ہمشیرہ اسامہ بن امین، ہمشیرہ حسن کریمی، ہمشیرہ عبد القدوس، ہمشیرہ عمر جٹ، ہمشیرہ محمد منیب، ہمشیرہ میر حمزہ، بنت غفور، بنت محمد طاہر۔مظفر  پورہ:بنت آصف محمود۔نند پور:بنت افتخار احمد، بنت الیاس، بنت رمضان احمد، بنت سلیم، بنت محمد شکیل احمد، بنت محمد شکیل، بنت محمد صدیق، بنت محمد عارف، بنت محمد ندیم، بنت وارث علی۔گلبہار:ام ہانی، بنت رشید احمد، بنت طارق، بنت غلام حیدر۔فیصل آباد:چباں:بنت ارشد محمود۔لاہور:مغل پورہ:بنت عبد المجید۔کراچی:فیڈرل بی ایریا:زوجہ افضال نضیر۔ گجرات: سوک کلاں:بنت شہباز حسین۔

حرمین طیبین کے حقوق

بنتِ غلام محمد

(طالبہ:جامعۃالمدینہ گرلز جوہرآبادتحصیل و ضلع خوشاب)

حرمین طیبین وہ مقدس جگہیں ہیں جہاں ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنی مبارک زندگی گزاری۔یقیناً یہ وہ جگہیں ہیں جہاں حاضری کے لیے ہر عاشق کا دل بے قرار رہتا ہے۔جب وہاں حاضری کے لیے تڑپ ہوتی ہے تو وہاں کے کچھ حقوق بھی ہیں جن کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے، ان میں سے چند حقوق پیشِ خدمت ہیں:

(1)تعظیم:

حرمِ مدینہ:

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب حرمِ مدینہ آئے بہتر یہ کہ پیادہ(پیدل) ہو لو، روتے، سر جھکائے، آنکھیں نیچی کیے، درود شریف کی اور کثرت کرو اور ہوسکے تو ننگے پاؤں چلو۔([1])

حرمِ مکہ:

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس اُمّت کے لوگ(تب تک)ہمیشہ بھلائی پر رہیں گے جب تک  مکے کی تعظیم کا حق ادا کرتے رہیں گے اور جب وہ اس حق کو ضائع کر دیں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔([2])

(2) خون نہ بہانا

حرمِ مدینہ:

نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکے کو حرم بنایا،اسی کے لیے احرام بنایا اور میں مدینے کو حرم بناتا ہوں اس کے گوشوں کے درمیان کو کہ اس میں خون نہ بہایا جائے،نہ اس میں جنگ کے لیے ہتھیار اٹھایا جائے، نہ چارے کے سوا یہاں کا درخت کاٹا جائے۔([3])

حرمِ مکہ:

خانہ کعبہ کی وجہ سے اللہ پاک نے پورے حرم کی حدود کو امن والا بنا دیا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص قتل و جرم کر کے حدودِ حرم میں داخل ہو جائے تو وہاں نہ اس کو قتل کیا جائے گا اور نہ اس پر حد قائم کی جائے گی۔جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اگر میں اپنے والد خَطَّاب کے قاتل کو بھی حرم شریف میں پاؤں تو اس کو ہاتھ نہ لگاؤں یہاں تک کہ وہ وہاں سے باہر آئے۔([4])

(3) صبر کرنا

حرمِ مدینہ:

حضرت ابو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میرا جو اُمّتی مدینے کی سختیوں اور تکالیف پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے لئے گواہی دوں گا۔([5])

حرمِ مکہ:

مکے شریف میں عموماً ماحول کی تبدیلی کی وجہ سے طبیعت کچھ ناراض ہو جاتی ہے۔مکے شریف میں برکتوں والی بیماری کی بھی بڑی فضیلت ہے جیسا کہ حضرت سعید بن جُبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جو مکے میں ایک دن بیمار ہوجائے تو اللہ پاک اسے اس نیک عمل کا ثواب عطا فرماتا ہے جو وہ سات سال سے کررہا ہوتا ہے(لیکن بیماری کی وجہ سے نہ کرسکتا ہو)اور اگر وہ(بیمار) مسافر  ہوتو اسے دُگنا ثواب عطا فرمائے گا۔([6])

(4)محبت کرنا

محبتِ رسول فرض ہے اور ہم اپنے آقا،رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت کرتی ہیں۔صحابیۂ رسول حضرت اُمِّ عَمارہ رضی اللہ ُعنہا کے عشقِ رسول پر ہزار جانیں قربان!کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دشمنوں کے گھیرے میں دیکھ کر جنہوں نے اپنی کمزوری کا خیال کیے بغیر بہادری وجرأت کے وہ جوہر دکھائے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی ہنس دیئے اور خوش ہو کر انہیں اپنی دائمی رفاقت کی وہ خوشخبری سنائی کہ  انہیں زندگی بھر اس پر ناز رہا۔([7])

ہم جس سے محبت کرتی ہیں اس کی محبت ہم سےیہ تقاضا کرتی ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہے ہم بھی اس سے محبت کریں۔حرمین طیبین سے محبت کرنا ان کے حقوق میں سے ہے۔حرمِ مدینہ و حرمِ مکہ سے محبتِ رسول کے متعلق صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ارشادات پڑھئے۔چنانچہ

حرمِ مدینہ:

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کسی سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینے شریف کی دیواروں کو دیکھتے تو محبت کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کرلیتے۔([8])

حرمِ مکہ:

حضرت عبدُ اللہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے حضورِ انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دیکھا کہ آپ مقامِ حَزْوَرَہ کے پاس اپنی اونٹنی پر بیٹھے فرما رہے تھے:اللہ پاک کی قسم!بے شک تو اللہ پاک کی زمین میں بہترین اور اللہ پاک کی زمین میں مجھے زیادہ پیاری ہے۔خدا کی قسم!اگر مجھے اس جگہ سے نہ نکالا جاتا تو میں ہرگز نہ نکلتا۔([9])

اللہ پاک ہمیں حرمین طیبین کی با ادب حاضری نصیب فرمائے اور ان کے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بجاہِ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم



[1] بہارِ شریعت، 2/  1222، حصہ:6 

[2] ابن ماجہ، 3/519، حدیث:3110

[3] مسلم،ص548،حدیث:3336

[4] تفسیرنسفی،ص174

[5] مسلم،ص549، حدیث:3347

[6] اخبارِ مکہ،2/312،رقم:1569

[7] صحابیات و صالحات کے اعلیٰ اوصاف،ص63

[8] بخاری،1/620،حديث:1886

[9] ابن ماجہ،3/518، حدیث:3108


Share