اہم نوٹ!ان صفحات میں ماہنامہ خواتین کے 49ویں تحریری مقابلے میں موصول ہونے والے 271مضامین کی تفصیل یہ ہے:
|
عنوان |
تعداد |
عنوان |
تعداد |
عنوان |
تعداد |
|
حضور کی اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت |
74 |
ادائیگیِ قرض میں تاخیر مت کیجئے |
92 |
نوجوان نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار |
105 |
مضمون بھیجنے والیوں کے نام
حضور کی اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت:
پنجاب:فیصل آباد:بنت ڈاکٹر محمد شہباز۔حیدر آباد:لطیف آباد 8:بنت سید جاوید اقبال۔راولپنڈی:ایس ایس ماڈل ٹاؤن:بنت مقصود۔ سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت مظہر جلیل،ہمشیرہ دانیال۔تلواڑہ مغلاں:بنت مطہر محمود،بنت شاہد،ہمشیرہ زین،بنت وسیم علی،بنت شمس،بنت توصیف انجم،بنت مختار خان، بنت اسلم، بنت ناصر محمود،بنت محمد آصف،بنت نصیر احمد،ہمشیرہ غلام عباس،ہمشیرہ محمد حسن،بنت رفیق،بنت ندیم،بنت خالد حسین۔شفیع کا بھٹہ:ہمشیرہ محمد حسین،بنت محمد اشفاق،بنت عرفان،بنت محمد شاہد،بنت سید عاشق حسین،بنت عارف،بنت محمد اشفاق،بنت رحمت،بنت طارق محمود،بنت عبدالقادر،بنت محمد جعفر حسین۔گلبہار:بنت نصیر احمد،بنت عمران، بنت ریاض،بنت ذو الفقار۔مظفرپورہ:بنت محمد طارق،بنت محمد یاسر،بنت محمد شہباز،بنت رمضان،بنت محمد محمود،بنت محمد اجمل،ام سلمی۔معراج کے:بنت ریاض احمد، بنت محمد افضل بھٹی،بنت محمد بوٹا،بنت محمد آصف۔میانہ پورہ:بنت الیاس،اخت حمزہ عمران،بنت منور،بنت قمر شہزاد،بنت سہیل،بنت جمیل،بنت اعظم مبین،بنت مقصود حسین،بنت عتیق،بنت مخدوم حسین،بنت طارق حسین۔نندپور:بنت محمد الیاس،بنت ہدایت اللہ،بنت محمد رمضان احمد،بنت خالد محمود،بنت محمد صدیق،بنت افتخار احمد،بنت عبد الستار۔ نواں پنڈ:آرائیاں:بنت محمد منیر،بنت اختر،بنت اکبر علی ناگرہ،بنت اسلام۔فیصل آباد:سمندری:بنت جاوید ۔کراچی:بنت عابد حسین۔گجرات:سراجا منیرا: بنت محمد طارق۔ گجرات:کنگ سہالی:بنت زبیر احمد۔گوجر خان:بنت ظہیر احمد قاضی۔گوجرانوالہ: کامونکی:بنت رمضان ۔ملتان: نیل کوٹ:بنت غلام حسین۔
ادائیگیِ قرض میں تاخیر مت کیجئے:
خوشاب:جوہر آباد:بنت محمد امیر۔راولپنڈی:ایس ایس ماڈل ٹاؤن:بنت مقصود۔ساہیوال:طارق بن زیاد:بنت شفقت علی۔سرگودھا:104 چک: بنت محمد منیر۔سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت سید رضوان علی،بنت محمد رفیق،بنت محمد منیر،بنت ابو طالب حسین،بنت ناظم،بنت لیاقت علی،ہمشیرہ محمد احمد،بنت شمشاد علی،بنت اصغر علی۔ تلواڑہ مغلاں:بنت محمد جمیل،بنت بشارت علی،بنت جاوید آصف،بنت ندیم احمد،بنت محمد اسلم،بنت شبیر احمد،بنت عمر،بنت محمد شکور،بنت نعیم،بنت محمد انور،اخت عبدالاحد،بنت سائیں ملنگا،خوشبوئے مدینہ،ہمشیرہ ابراہیم،ہمشیرہ خرم ،بنت لطیف،بنت انور۔شفیع کا بھٹہ:ہمشیرہ محمد منیب،بنت عارف،بنت محمد سلیم،بنت کاشف شیراز،بنت عرفان،بنت محمد اکرام،بنت ہمایوں،ہمشیرہ عمر جٹ،بنت محمد نواز،بنت محمد شاہد،ہمشیرہ نوید علی،بنت محمد اصغر مغل،بنت دلاور حسین،بنت عبد الرزاق،بنت شمس۔گلبہار:بنت محمد شہباز،بنت محمد ارشد،بنت عمران،بنت محمد شہباز،بنت علی احمد۔مظفرپورہ:بنت محمد طارق،بنت محمد شہباز،بنت لیاقت علی،بنت اعجاز،بنت حافظ محمد شبیر،بنت محمد محمود احمد ،ام سلمی،بنت جاوید۔ معراج کے:بنت طاہر حسین۔میانہ پورہ:بنت الیاس،اخت حمزہ عمران،بنت منور،بنت سہیل،بنت جمیل،بنت اعظم مبین،بنت مقصود حسین،بنت عتیق،بنت مخدوم حسین،بنت طارق حسین۔نند پور:بنت محمد الیاس،بنت ہدایت اللہ،بنت محمد رمضان احمد،بنت خالد محمود،بنت محمد صدیق،بنت افتخار احمد،بنت عبد الستار۔نواں پنڈ:آرائیاں:ہمشیرہ احمد رضا، بنت اختر،بنت سوداگر حسین،بنت مبشر حسین، ہمشیرہ عدنان فاروق۔عیسی خیل:میانوالی حکور:بنت گل نواز۔فیصل آباد:چباں:بنت ارشد ۔سمندری:بنت جاوید۔ کراچی:بنت رحمت علی، بنت شاکر،بنت غلام جیلانی،بنت عطاء اللہ،بنت سرفراز نواز۔گوجرانوالہ: کامونکی:بنت رمضان۔لاہور: گلبرگ ٹاؤن:بنت سلطان۔نواب شاہ:بنت آصف اقبال۔عرب: بحرین:بنت مقصود ۔
نوجوان نسل کی تباہی میں میڈیا کا کردار:
پاکپتن شریف:بنت بشیر احمد،پنجاب:چاچڑاں شریف:بنت اجمل۔حیدر آباد:لطیف آباد 8:بنت سکندر خاور،ہمشیرہ سید قوسین حیدر۔ خانیوال:کوہی والا:بنت واجد۔راولپنڈی:ایس ایس ماڈل ٹاؤن:بنت مقصود۔ساہیوال:طارق بن زیاد کالونی:بنت شفقت علی۔سیالکوٹ: پاکپورہ: ہمشیرہ دانیال،بنت نوید حسین، بنت اصغر،بنت سید ابرار حسین مدنیہ۔تلواڑہ مغلاں:بنت جاوید سرور،بنت عارف حسین،بنت عبد الستار،بنت رزاق احمد،بنت اعجاز احمد،بنت شفیق،بنت جاوید،بنت جاوید آصف،بنت فیصل مجید،بنت رضا،بنت محمد اکرم،بنت احمد رضا،بنت محمد اسلام،بنت محمد عاصم شہزاد،بنت جواد،بنت مدثر اقبال،بنت محمد خلیل تبسم،بنت غلام مصطفی،بنت ارشد، بنت محمد جنید،بنت ذو الفقار بیگ،بنت اظہر حسین،بنت محمد آصف،بنت محمد شہباز،بنت محمود احمد،بنت عدنان یوسف،بنت محمد ارشد۔ شفیع کا بھٹہ:بنت آصف اقبال، بنت ندیم جاوید،بنت عبدالرزاق،بنت عثمان علی،بنت سعید،بنت عرفان،بنت کرامت علی،بنت اشفاق احمد،بنت محمد شریف،ہمشیرہ حضر علی، بنت سرور،بنت محمد امین،بنت محمد سلیم، بنت محمد جان،بنت جہانگیر۔گلبہار:بنت ریاض،بنت فیاض احمد،بنت رمضان۔مظفرپورہ:بنت محمد طارق،بنت عمران،بنت محمد شہباز، بنت محمد عمران،بنت عرفان، بنت محمد اعظم، بنت نعیم،ہمشیرہ محمد احمد،بنت امجد پرویز وڑائچ،ام سلمی،بنت ارشد علی۔معراج کے:بنت منیر حسین۔میانہ پورہ:بنت الیاس، اخت حمزہ عمران،بنت منور،بنت قمر شہزاد،بنت سہیل،بنت جمیل،بنت اعظم مبین،بنت مقصود حسین،بنت عتیق،بنت مخدوم حسین،بنت طارق حسین۔نندپور:بنت محمد الیاس،بنت افتخار احمد،بنت محمد عارف، بنت محمد صدیق، بنت عبد الستار۔نواں پنڈ:آرائیاں:بنت اختر،بنت محمد زمان۔فیصل آباد: بنت ڈاکٹر محمد شہباز ،بنت شفقت۔جڑانوالہ:بنت لطیف۔سمندری:بنت جاوید، بنت محمد اقبال۔فیض پورہ: 30چک:ام ملحان۔کراچی:بنت ارشاد احمد،بنت محمد سلیم،بنت اسماعیل(فیضانِ رضا)،بنت اسماعیل(فیضانِ عطار)،بنت شبیر،بنت عطاء اللہ۔کیٹل کالونی: مہوش۔ کوئٹہ: بنت احمد دین۔ گجرات: کنگ سہالی:بنت محمد اکمل شکیل۔گوجرانوالہ: کامونکی:بنت رمضان ۔لاہور:ای ون جوہر ٹاؤن:بنت منصور۔گلبرگ ٹاؤن:بنت سلطان۔
محترمہ بنتِ محمد اقبال عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)
(طالبہ:درجہ دورۂ حدیث سمندری فیصل آباد)
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز نے جہاں زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں،وہیں کئی خرابیاں بھی جنم دی ہیں۔ ہر چیز کی طرح اس کے بھی اچھے اور برے دونوں پہلو ہیں،مگر افسوس!نوجوان نسل اس کے منفی اثرات سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔ذیل میں سوشل میڈیا کے چند منفی اثرات ملاحظہ ہوں:
دنیوی نقصانات:
*سوشل میڈیا ذہنی دباؤ،بے چینی،نیند کی کمی اور خاندانی تعلقات میں کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔نیز آن لائن خریداری یا مختلف قسم کی دھوکا دہی کے ذریعے مالی نقصان کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔*مصنوعی ذہانت(AI)کے ذریعے حقیقت سے ملتی جلتی جعلی تصاویر تیار کی جا سکتی ہیں۔ ان کو غلط سیاق و سباق میں استعمال کرکے لوگوں کو گمراہ کرنا، شہرت کو نقصان پہنچانا یا معاشرتی انتشار پیدا کرنا ممکن ہے۔ اس لیے ایسی تصاویر کی تصدیق اور معتبر ذرائع پر اعتماد ضروری ہے۔*سوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا ایک بڑا سبب ہے اور وقت کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے دنیاوی معاملات ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ دینی فرائض میں بھی کوتاہیاں پیدا ہوتی ہیں۔اسلام میں وقت کی قدر و اہمیت بہت زیادہ بیان کی گئی ہے۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے:اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے دن سے لے کر بڑھاپے میں وفات تک اللہ پاک کی اطاعت میں مشغول رہے تو پھر بھی وہ قیامت میں اس عمل کو کم سمجھے گا اور تمنا کرے گا کہ دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ مزید نیکیاں کر کے اجر و ثواب کما سکے ۔ ([1])
دینی نقصانات:
سوشل میڈیا آخرت کے نقصانات کا بھی سبب بن رہا ہے، مثلاً: تہمت و بہتان تراشی جیسے کبیرہ گناہوں میں مبتلا ہونا،عقائد و اعمال میں خرابی پیدا ہونا،علمِ دین کی کمی کے باعث صحیح اور غلط میں فرق نہ کر پانا۔اس سے نوجوان نسل کا ذہن منتشر ہو جاتا ہے اور ایمان،جو مسلمان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،اس کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا کے نقصانات سے بچنے کے لیے چند مفید تجاویز پیشِ خدمت ہیں:*سوشل میڈیا کا استعمال ایک مقررہ وقت تک محدود رکھا جائے تاکہ وقت کا ضیاع نہ ہو۔*اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے اسے مثبت کاموں میں استعمال کیا جائے، جیسے نئی زبان سیکھنا،قرآنِ کریم کی درست تعلیم حاصل کرنا، آن لائن کلاسز و لیکچرز سننا اور مفید دینی کتب کا مطالعہ کرنا۔ * رشتہ داروں اور دوستوں سے اچھے تعلقات قائم رکھنے کے لیے بھی اس کا مثبت استعمال کیا جائے۔*غیر ضروری اکاؤنٹس اور پیجز بنانے سے بچا جائے۔صرف تحقیق شدہ اور درست معلومات ہی آگے شیئر کی جائیں،افواہوں یا بغیر تصدیق باتوں کو پھیلانے سے بچا جائے۔*بہتر یہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کی پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کرکے دین کی تبلیغ میں حصہ لیا جائے، کیونکہ اچھی بات پھیلانا صدقہ ہے اور بعض اوقات صدقۂ جاریہ بھی بن جاتا ہے۔*یوں سوشل میڈیا نیکی کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن غلط استعمال کی صورت میں گناہِ جاریہ کا سبب بھی بنتا ہے۔
اللہ کریم ہمیں سوشل میڈیا کے درست استعمال کے ذریعے اسے ثواب جاریہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بجاہ ِخاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


Comments