ادائیگیِ قرض میں تاخیر مت کیجئے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:ادائیگیِ قرض میں تاخیر مت کیجئے

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 49ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)

محترمہ بنتِ انور عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)

(طالبہ:دورۂ حدیث تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ)

قرض ہمارے معاشرے میں پایا جانے والا بہت عام معاملہ ہے شاید ہی کوئی انسان ہو گا جسے کبھی قرض کے لین دین کی ضرورت نہ پڑی ہو سب ہی ضرورتًا قرض لیتے یا دیتے ہیں۔ قرض کی بنیاد پر جہاں دوسرے کی مدد ہوتی ہے وہیں معاشرے میں بڑے فسادات بھی ہوجاتے ہیں؛لڑائی جھگڑے،عزتیں اچھالنا،بلکہ بعض اوقات قتل تک بات پہنچ جاتی ہے،اسی لیے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔قرض اور باہمی لین دین کے اصول بیان کرتے ہوئے قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ- (پ 3،البقرۃ:282)

ترجمہ:اے ایمان والو!جب تم ایک مقرر مدت تک کسی قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔

ہمیں چاہیے کہ جب بھی کسی سے قرض لیں تو واپس لوٹانے کا وقت لازمی مقرر کرلیں،اگر بالفرض کسی سبب سے انتظام نہ ہوسکے تو قرض خواہ سے مل کر عذر پیش کرکے مہلت لے لی جائے۔لیکن ہمارے ہاں بعض لوگ رقم ہونے کے باوجود دھکے کھلاتے رہتے ہیں کہ صبح لے لینا،شام کو لے لینا، فلاں وقت آجانا الغرض کسی طرح ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھیے!بلاوجہ قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا گناہ ہے، جب تک قرض نہ لوٹا دیا جائے گناہ کا سلسلہ جاری رہے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:انسان  کی روح اپنے قرض کے سبب لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے۔ ([1]) یقیناً سمجھ دار وہی ہے جو اپنے دل میں اللہ کریم کا خوف پیدا کرے اور اپنی طاقت کے مطابق قرض کی ادائیگی پر استطاعت کی صورت میں اپنی موت سے پہلے ہی جلد از جلد ادائیگی کر دے، نیز اگر قرض کہیں لکھا ہو یا موت سے پہلے مرنے والی وصیت کر جائے تو ورثا کو چاہیے قرض ادا کرکے اس کی اخروی بخشش کا سامان کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو اس حال میں مرے کہ وہ غرور،خیانت اور قرض سے پاک و صاف ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔([2]) لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جتنا قرض ہم پر ہے جیتے جی حساب لگا کر چکا دیں کیونکہ قرض سے پاک ہوکر دنیا سے جانا دخولِ جنت کا ذریعہ ہے۔

یاد رکھیے!قرض لینا گناہ نہیں ہے،البتہ!زندگی کا یہ اصول بنا لینا چاہیے کہ قرض صرف اس وقت لیں جب کوئی اور سبب نہ بچے،پھر اتنا ہی لیں جتنی ضرورت ہو اور لوٹانے کا پکا ارادہ بھی ہو۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد ہے:جس نے ادا کرنے کی نیت سے قرض لیا تو اللہ پاک اس کی طرف سے قرض ادا فرمائے گا۔ ([3])

قرض کے متعلق اچھی عادات:

*قرض خواہ کو تکلیف نہ دیجیے بلکہ خود اس کے پاس جاکر قرض لوٹائیے۔*جب رقم کا انتظام ہوجائے تو مقررہ تاریخ کا انتظار مت کیجیے فورًا ہی قرض لوٹا آئیے۔*اگر قرض خواہ ڈرائے دھمکائے،جلی کٹی سنائے تو الجھنے کے بجائے اسے معاف کر دیجیے۔

اللہ کریم ہمیں حقوق العباد ادا کرنے اور دوسروں کے ساتھ نرمی و شفقت سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

محترمہ بنتِ طاہر حسین عطاریہ

(طالبہ:درجۂ ثالثہ معراج کے سیالکوٹ)

حضرت شیبان بن حسن بیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم اور حضرت عبدالواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ جہاد کے لئے نکلے تو راستے میں اچانک ایک گہرا اور کشادہ کنواں آگیا جس میں سے گھٹی گھٹی آوازیں آرہی تھیں۔دونوں میں سے ایک کنوئیں میں اترے تو اندر تخت پر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور اس کے نیچے پانی تھا۔اترنے والے نے اس سے پوچھا:تم انسان ہو یا جن؟ اس نے کہا:انسان ہوں۔پوچھا:کون ہو؟ اس نے کہا:میں انطاکیہ کا باشندہ ہوں اور مر چکا ہوں،مجھ پر قرض تھا جس کی وجہ سے میرے رب نے مجھے یہاں قید کر دیا ہے۔انطاکیہ میں میرا بیٹا ہے جو مجھے یاد کرتا ہے نہ میرا قرض ادا کرتا ہے۔کنوئیں میں جانے والے باہر نکلے اور اپنے ساتھی سے کہا:ہم جہاد بعد میں کریں گے چلو پہلے اس کا قرض ادا کرتے ہیں۔چنانچہ دونوں نے جاکر قرض ادا کیا اور پھر واپس اسی جگہ آئے تو وہاں کنوئیں کا نام و نشان بھی نہ تھا۔شام ہوچکی تھی،لہٰذا دونوں نے وہیں رات گزاری تو ایک شخص ان کے خواب میں آیا اور کہا:اللہ پاک میری طرف سے تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے،جب میرا قرض ادا ہوا تو میرے رب نے مجھے جنت کے فلاں مقام کی طرف منتقل کر دیا۔([4])

معاشرتی زندگی میں انسان کو ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔اسلام محبت،ہمدردی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے،اسی لیے مسلمان اپنے دینی بھائیوں کی جسمانی،اخلاقی اور مالی تعاون کے ذریعے مدد کرتے ہیں،جن میں قرض دینا بھی شامل ہے۔تاہم قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا دنیا و آخرت میں پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے:مومن کی روح اس کے قرض کے سبب لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے قرض ادا کردیا جائے۔([5])  مراۃ المناجیح میں ہے:(مومن کی روح) یا تو فی الحال جنت میں داخل ہونے یا نیکوں کے ساتھ ملنے یا درجات حاصل کرنے سے روکی جاتی ہے۔ادائے قرض کی منتظر رہتی ہے یا قیامت میں قرض کی ادا  تک جنت میں جانے سے روکی جائے گی جب تک کہ قرض کی معافی یا کوئی اور صورت نہ ہو جائے،کتنی ہی صالح نیک ہو جنت میں داخل نہ ہو سکے گی۔اس قرض سے وہ قرض مراد ہے جو انسان بغیر ضرورت کے لے لے اور ادا کرنے میں بلا وجہ ٹال مٹول کرے اور مرتے وقت ادا کے لیے مال نہ چھوڑے۔([6])

معلوم ہوا!قرض بہت بڑا بوجھ ہے۔جو لوگ ادائے قرض میں ٹالَم ٹول کرتے ہیں ان کو بیان کردہ حکایت سے ڈر جانا چاہیے اور قرض خواہ کو اپنے پاس دھکے کھلانے کے بجائے خود اُس کے پاس جاکر شکریہ کے ساتھ اس کاقرض ادا کردینا چاہیے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جھوٹ موٹ آج کل کرتے ہوئے موت آجائے اور قبر میں جان پھنس جائے۔ایک روایت میں ہے:تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہترین ہیں۔([7])

قرض کے متعلق مدنی پھول:

*قرض لے کر واپس نہ کرنا جنت میں داخلے سے روکے جانے کا سبب ہے۔*بغیر ضرورت قرضہ لینے سے بچنا چاہیے کہ اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔* جو قرضہ ضرورت کی بنا پر لے اور واپس کرنے کی نیت بھی ہو تو ایسے مسلمان کی غیبی مدد کی جاتی ہے۔* کوئی مسلمان مقروض فوت ہوجائے تو عزیزوں کو چاہیے کہ فوراً  اُس کا قرضہ ادا کر دیں تاکہ مرحوم کے لئے قبر و حشر کے معاملات میں آسانی ہو۔

اللہ پاک ہمیں موت سے پہلے اپنا قرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجاہِ النبیِ الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم



[1] ترمذی،2/341،حدیث:1081

[2] ترمذی،3/209،حدیث:1579 ملخصاً

[3] بخاری،2/105،حدیث:2387

[4] موسوعہ لابن ابی الدنیا ،6/299،298،حدیث:50

[5] ترمذی،2/341،حدیث:1081

[6] مراۃ المناجیح،4/299

[7] ابن ماجہ،3/149،حدیث:2423


Share