موضوع:شرح قصیدۂ معراجیہ (قسط 14)
57
زبانیں سوکھی دکھا کے موجیں تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیں
بھنور کو یہ ضعفِ تشنگی تھا کہ حلقے آنکھوں میں پڑگئے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:موجیں:لہریں۔بھنور:پانی کا چکر۔ ضعفِ تشنگی۔پیاس کی کمزوری۔حلقے:دائرے۔
مفہومِ شعر:سوکھی زبانیں دکھا کے خود لہریں تڑپ رہی تھیں کہ انہیں پانی پلایا جائے اور بھنور کو بھی پیاس کی وجہ سے اتنی کمزوری ہو گئی تھی کہ آنکھوں کے گرد حلقے پڑ چکے تھے۔
شرح:قصیدۂ معراجیہ میں اعلیٰ حضرت کے تخیل پہ قربان! آپ فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دیدار کی طلب میں دریائے وحدت کی موجیں بھی اپنی سوکھی زبان دکھا کر تڑپ رہی تھیں اور چاہتی تھیں کہ انہیں وصل کے پانی سے سیراب کیا جائے،جبکہ بھنور کو بھی پیاس کی وجہ سے اتنی کمزوری ہوگئی تھی کہ گویا آنکھوں کے گرد حلقے پڑ چکے تھے۔ ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسانی عقل بےبسی کا شکار تھی کہ اس کی سوچ کی لہریں خود پیاسی تھیں اور بھنور جو خود انتہائی طاقتور ہوتا ہے اور ڈبو دیتا ہے وہ شدتِ پیاس سے اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ گویا اس کی آنکھوں میں حلقے پڑگئے تھے۔
یہ کلام شاعری کا ایک شاہکار ہے جس کی مثل بہت مشکل ہے کہ خود موجوں کا پیاسا ہونا یا بھنور کا پیاسا ہونا یہ کسی چیز کی طلب یا شدت کو بیان کرنے کا ایک انداز ہے۔
58
وہی ہے اول وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اسی کے جلوے اسی سے ملنے اسی سے اس کی طرف گئے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:باطن:چھپا ہوا۔ظاہر:واضح۔
مفہومِ شعر:اللہ پاک ہی اول وآخر ہے اور وہی باطن وظاہر بھی ہے۔چونکہ حضور اللہ پاک کا جلوۂ خاص ہیں تو یوں کہنا بہتر ہو گا کہ شبِ معراج اسی کا جلوہ اسی سے ملنے اس کی طرف گیا تھا۔
شرح:حضور اللہ پاک کے جلوۂ خاص اور اس کا مظہرِ اتم ہیں،لہٰذا اللہ پاک کی بہت ساری صفات ایسی ہیں جو آپ کو بھی عطا کی گئی ہیں،جیسا کہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (اول وآخر اور ظاہر وباطن) یہ چاروں صفات اللہ پاک کی ہیں اور اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بھی یہ صفات عطا فرمائی ہیں۔آپ تمام مخلوق میں سب سے اول ہیں،بعثت کے لحاظ سے سب سے آخر،ظاہر اس طرح کہ آپ کا نور ہر چیز سے عیاں ہے،نیز اپنے معجزات و کمالات کے لحاظ سے ظاہر وباہر ہیں اور اپنی حقیقت کے لحاظ سے باطن ہیں۔([1])اور یہ بات ایک حدیث پاک میں بھی مروی ہے،چنانچہ ایک مرتبہ فرشتوں کے سردار حضرت جبریلِ امین علیہ السَلام بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور یوں سلام کیا:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاظاہِرُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابَاطِنُ اے نبی ظاہِر!آپ پر سلام ہو،اے نبی باطِن!آپ پر سلام ہو۔ اس پر پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اے جبریل!یہ صفات تو اللہ پاک کی ہیں،اسی کو لائق ہیں،میری یہ صفات کیسے ہو سکتی ہیں؟حضرت جبریلِ امین نے عرض کی:اللہ پاک نے آپ کو ان صفات سے فضیلت دی،آپ کو سارے نبیوں اور رسولوں پر خصوصیت بخشی،اپنے نام اور صفت سے آپ کا نام اور وصف نکالا ہے۔(اے پیارے محبوب!) اللہ پاک نے آپ کا نام اوّل رکھا، کیونکہ آپ پیدائش کے اعتبار سے سب انبیائے کرام سے اوّل یعنی پہلے ہیں(کہ سب سے پہلے آپ کا نور مبارک پیدا کیا گیا) اللہ پاک نے آپ کا نام آخر بھی رکھا کیونکہ آپ سب انبیائے کرام کے زمانے سے آخر میں تشریف لانے والے اور آخری امت کے آخری نبی ہیں۔اسی طرح اللہ پاک نے آپ کا نام باطِن رکھا، کیونکہ اللہ پاک نے اپنے نام کے ساتھ آپ کا نام سرخ نور سے عرش کے پائے پر آپ کے والد حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے 2 ہزارسال پہلے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لکھ دیا۔اسی طرح اللہ پاک نے آپ کا نام ظاہر بھی رکھا کیونکہ اس نے آپ کو تمام دینوں پرغلبہ عطا فرمایا اور آپ کی شریعت و فضیلت کو تمام آسمان و زمین والوں پر ظاہِرفرما دیا۔([2])
59
کمانِ امکاں کے جھوٹے نقطو تم اول آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:پھیر:چکر۔محیط:دائرہ۔
مفہومِ شعر:اے کمانِ امکان کے جھوٹے نقطو!تم ابھی تک اول آخر کے چکر میں پھنسے ہوئے ہو،ذرا دائرے کی چال سے تو پوچھو کہ کہاں سے شروع ہوا اور کہاں ختم ہوا!
شرح:واقعۂ معراج کو اعلیٰ حضرت نے مختلف زاویوں سے سمجھایا ہے،اب ایک انتہائی مشکل علم جيومیٹری کے ذریعے واقعۂ معراج کو ثابت کررہے ہیں،جو آپ کی غیرمعمولی ذہانت و فطانت كی علامت ہے،جب دائرہ بنایا جاتا ہے تو بننے کے بعد یہ پتا نہیں چلتا کہ یہ دائرہ کہاں سے شروع ہوا اور کہاں ختم،نیز یہ سیدھی طرف سے کھینچا گیا ہے یا الٹی طرف سے!تو اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: اے کمانِ امکان(یہاں کمانِ امکاں سے مراد دائرہ ہے۔([3])) کے جھوٹے نقطو!تم ابھی تک اول وآخر کے چکر میں پڑے ہوئے ہو تمہیں یہی نہیں پتا کہ نقطۂ اول کون ہے اور آخر کون؟ذرا دائرے کی چال سے ہی پوچھ لو کہ حضور کدھر سے آئے اور کدھر گئے تھے!یعنی سفرِ معراج بھی اسی دائرے کی طرح تھا کہ کوئی یہ جان نہ سکا کہ یہ سفر کہاں سے شروع ہوا اور کیسے ختم ہوا!
60
ادھر سے تھیں نذر شہ نمازیں ادھر سے انعامِ خسروی میں
سلام و رحمت کے ہار گندھ کر گلوئے پر نور میں پڑے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:خسروی:بادشاہی۔گندھ کر:پرو کر۔ گلوئے پرنور:پرنور گلا۔
مفہومِ شعر:اِدھر(یعنی حضور کی جانب سے) بارگاہِ الٰہی میں نماز، عبادات اور حمد وتسبیحات کے نذرانے پیش کیے جارہے تھے اور اُدھر(یعنی بارگاہِ الٰہی سے)درود و سلام کے ہار رحمت کی لڑیوں میں پرو کر حضور کے نورانی گلے میں پہنائے جارہے تھے۔
شرح:یہ شعر اس مضمون کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ جب حضور نے عرض کیا:اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَ الصَّلَوٰۃُ وَ الطَّیِّبَاتُ(یعنی میری تمام مالی اور بدنی عبادتیں تیرے لیے بطور تحفہ حاضر ہیں تو) ارشاد ہوا:اَلسَّلامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللہ وَ بَرَکَاتُہُ (یعنی اے نبی!ہر قسم کی سلامتی اور رحمت و برکت اپنے پروردگار کی جانب سے بطور تحفہ قبول کریں۔)جب حضور نے بابِ رحمت کھلا دیکھا تو اپنی گنہگار اُمّت یاد آ گئی اور اللہ پاک کے حضور عرض کی: اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلیٰ عِبَادِ اللہ الصَّالِحِیْنَ(یعنی اے اللہ!تیری تمام سلامتیاں اور رحمتیں ہم سب پر اور تمام نیک بندوں پر ہوں۔)ان دونوں قسموں کے کلاموں کو نمازی ادا کرکے اﷲ کی توحید حضور کی رسالت کی گواہی دیتا ہے۔([4]) دنیا کا دستور ہے کہ جب کوئی اپنے محبوب سے ملنے جاتا ہے تو تحفے تحائف کا سلسلہ ہوتا ہے،قربان جائیے اس ملاقات پر کہ جہاں اتنے پیارے تحائف سے نوازا جا رہا ہے،معراج کی رات حضور کو اللہ پاک کی بارگاہ سے آپ کی امت کے لیے نماز کا تحفہ بھی عطا ہوا۔ چونکہ یہ تحفہ اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ تھا ،اسی لیے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اسے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔ ([5])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ڈبل ایم اے (اردو،مطالعہ پاکستان)
گوجرہ منڈی بہاؤ الدین
[1] مدارج النبوت،1/2ملخصاً
[2] شرح الشفا،1/515 ملخصاً
[3] شرح حدائق بخشش،10/407
[4] مراۃ المناجیح،2/88
[5] نسائی،ص 644،حدیث:3946 ملخصاً
Comments