موضوع:اعتقادات و توہمات (قسط نمبر3)
پیری مریدی:
کسی پیرِ کامل کے ہاتھ پر توبہ کرتے ہوئے آئندہ گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال اختیار کرنے کا عہد کرنا بیعت کہلاتا ہے،جسے عام طور پر پیری مریدی کہا جاتا ہے۔اسلامی معاشرے میں ابتدا ہی سے یہ سلسلہ جاری ہے اور مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنی باطنی اصلاح کے لیے اولیائے کاملین سے وابستہ رہی ہے۔یہ محض ایک رسم نہیں بلکہ نفس کی پاکیزگی اور اللہ پاک کی پہچان حاصل کرنے کا مبارک ذریعہ ہے۔
پیری مریدی(بیعت) کا ثبوت قرآن و سنت دونوں سے ملتا ہے؛چنانچہ قرآن میں ہے:
یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ- (پ 15،بنی اسرائیل:71)
ترجمہ:یاد کروجس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنالینا چاہیے تاکہ حشر اچھوں کے ساتھ ہو۔اس آیت میں تقلید اور بیعت،مریدی سب کا ثبوت ہے۔([1]) اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں صحابۂ کرام کا حضور کے دستِ مبارک پر مختلف امور جیسے اطاعت،نیکی اور دین پر بیعت کرنا ثابت ہے۔اس سے بیعت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔البتہ!بیعت کا اصل مقصد کسی کامل،متقی اور باعمل شیخ کی صحبت میں رہ کر اپنے باطن کی اصلاح کرنا،نیکیوں سے محبت پیدا کرنا اور گناہوں سے نفرت اختیار کرنا ہے،کیونکہ نیک صحبت دل کی پاکیزگی اور اعمال کی درستی کا اہم ذریعہ بنتی ہے۔
پیری مریدی کا غلط معیار:
بیعت کا اصل مقصد اخروی فوائد و منافع کا حصول ہے،تاہم ضمناً دنیاوی معاملات میں بھی اس کی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں،مگر بدقسمتی سے فی زمانہ بیشتر لوگوں نے پیری مُریدی جیسے اہم منصب کو محض حصولِ دنیا کا ہی ذریعہ بنا لیا ہے۔لوگ پیرِ کامل کا معیار یہ سمجھتے ہیں کہ پیر تعویذات یا عملیات میں ماہر ہو جو ہر دنیوی مشکل حل کر دیا کرے۔اگرچہ پیرِ کامل کی برکت سے بہت سارے دنیوی مسائل بھی حل ہوتے ہیں،تاہم اسی چیز کو پیرِ کامل کا مِعیار سمجھ لینا اور جہاں کوئی مسئلہ حل نہ ہوا وہاں پیر صاحب کے کامل ہونے میں شکوک و شبہات میں پڑ جانا سراسر جہالت و بیوقوفی ہے،لہٰذا مرید ہوتے وقت مرشد کامل کی حقیقی پہچان اور مرید ہونے کے مقاصد کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بیعت لینے اور مسندِ ارشاد پر بیٹھنے کے لیے چار شرطیں ضروری ہیں:ایک یہ کہ سنی صحیح العقیدہ ہو،دوسری شرط ضروری علم کا ہونا، تیسری یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا،چوتھی اجازت صحیح متصل ہو۔ جس شخص میں ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط نہ ہوتو اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہئے۔([2])حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب مرید ہونا ہو تو اچھی طرح تفتیش کر لیں،ورنہ اگر(کسی ایسے کو پیر بنا لیا جو) بد مذہب ہوا تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔([3])
پیری مریدی کا کاروبار:
آج کل بعض لوگوں نے پیری مریدی جیسے مقدس سلسلے کو محض آمدنی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔بیعت کروانے، وظائف دینے اور تعویذات فراہم کرنے کے باقاعدہ معاوضے مقرر کیے جاتے ہیں۔بڑے بڑے آستانے قائم کرکے مریدوں سے مختلف حیلوں بہانوں سے رقم وصول کی جاتی ہے۔کبھی خاص فیضان اور کبھی مشکلات کے حل کے نام پر بھاری نذرانے لیے جاتے ہیں،حالانکہ حقیقی روحانیت کا تعلق اخلاص،تقویٰ اور اتباعِ شریعت سے ہے،نہ کہ مال و دولت سے۔ایسے نام نہاد پیروں کا اکثر ظاہری و باطنی حال شریعت کے خلاف ہوتا ہے۔نہ ان کے عقائد درست ہوتے ہیں،نہ عبادات کی پابندی۔بعض تو نماز تک کے پابند نہیں ہوتے اور کھلے عام فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں۔داڑھی منڈوانا، عورتوں سے بے پردگی میں ملاقاتیں کرنا،تنہائی میں بیعت لینا اور دم کے نام پر غیر شرعی حرکات کرنا بھی بعض جعلی پیروں میں عام ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے لوگ روحانیت کے نہیں بلکہ شیطان کے راستے پر ہوتے ہیں،اس لیے ان سے بچنا ضروری ہے۔
عمل سے دوری:
بعض لوگ پیر سے وابستگی کے بعد خود کو اعمالِ شریعت سے بے نیاز سمجھنے لگتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ صرف پیر کی نسبت ہی نجات کے لیے کافی ہے،حالانکہ یہ غلط سوچ ہے۔بے شک پیرِ کامل کی صحبت ہدایت اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے،مگر شریعت کی پابندی ہر مسلمان پر لازم رہتی ہے۔حقیقی پیر وہی ہے جو انسان کو نماز،عبادات اور نیکیوں کی طرف لے جائے اور اللہ پاک سے مضبوط تعلق قائم کرے،نہ کہ شریعت سے دور کرے۔
عورتوں کے لیے بھی بیعت روحانی اصلاح اور اللہ پاک کی قربت کا ذریعہ ہے،تاہم ان کی بیعت کا طریقہ مردوں سے مختلف رکھا گیا ہے۔شریعت نے پردے اور حیا کی حفاظت کے لیے غیرمحرم مرد سے ہاتھ ملانے سے منع فرمایا ہے،اسی لیے حضور عورتوں سے زبانی بیعت لیتے تھے اور آپ کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ سے نہیں لگا۔([4])معلوم ہوا کہ بیعت میں شرعی حدود کی پابندی ضروری ہے۔ نیز بیعت کے لیے ہاتھ میں ہاتھ دینا یا پیر کا سامنے موجود ہونا شرط نہیں،بلکہ خط یا کسی واسطے سے بھی بیعت کی جاسکتی ہے۔
بعض عورتیں یہ سمجھ لیتی ہیں کہ بیعت کے بعد پیر سے پردے کے احکام ختم ہوجاتے ہیں،حالانکہ یہ غلط فہمی ہے۔صرف مرید ہونے سے پیر محرم نہیں بن جاتا،بلکہ اس کے ساتھ بھی وہی پردے کے احکام ہیں جو دوسرے نامحرم مردوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔لہٰذا غیرمحرم پیر سے بےتکلفی،بلا ضرورت میل جول یا پردے میں کوتاہی شرعاً نا جائز ہے۔بیعت کا مقصد اصلاحِ نفس اور دین پر عمل ہے،نہ کہ شرعی حدود میں نرمی پیدا کرنا۔
بعض لوگ اپنے گھروں یا دکانوں میں پیر صاحب،والدین یا بزرگانِ دین کی تصاویر بطورِ برکت لٹکاتے ہیں،بلکہ آج کل اولیائے کرام کی فرضی اور خود ساختہ تصاویر کے فریم بھی عام ملتے ہیں۔ حالانکہ یہ طریقہ شرعاً درست نہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی جاندار کی تصویر،خواہ کسی پیر،بزرگ یا عام شخص کی ہو،گھر میں لٹکانا نا جائز ہے۔حضور نے فرمایا:فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔([5]) لہٰذا ایسی چیزوں سے بچتے ہوئے برکت حاصل کرنے کے لیے نیک اعمال اور سنتوں پر عمل کرنا چاہیے۔
اطاعت و عقیدتِ مرشد میں اعتدال اپنائیے:
مرشد سے محبت، عقیدتِ اور اطاعت ضرور ہونی چاہیے،مگر اس میں اعتدال بھی ضروری ہے۔بعض لوگ اپنے پیر کی محبت میں اس قدر غلو کر جاتے ہیں کہ ان کے ہر قول و فعل کو درست سمجھتے ہیں،یہاں تک کہ اگر کوئی بات شریعت کے خلاف ہو تب بھی اس کی تاویلیں کرنے لگتے ہیں۔حالانکہ اسلام میں خطا سے پاک ہونے کا مقام صرف انبیائے کرام کو حاصل ہے۔کوئی پیر یا بزرگ شریعت سے بالاتر نہیں ہو سکتا ۔
شریعتِ اسلامیہ ہر مسلمان کے لیے اصل معیار ہے،اس لیے اگر کسی مرشد کی طرف سے قرآن وسنت کے خلاف کوئی حکم دیا جائے تو اس کی پیروی جائز نہیں۔حقیقی پیر وہی ہے جو انسان کو دین، تقویٰ اور شریعت پر چلنے کی ترغیب دے،نہ کہ دین سے دور کرے۔ لہٰذا پیری مریدی میں توازن ضروری ہے؛نہ اتنی بے اعتدالی ہو کہ شریعت ہی فراموش ہوجائے اور نہ ایسی بے ادبی کہ اولیائے کرام کی شان میں گستاخی ہو۔مرشد کا احترام شریعت کے دائرے میں رہ کر ہی کرنا چاہیے،کیونکہ یہی اعتدال انسان کو صحیح روحانیت اور اللہ پاک کے قرب تک پہنچاتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں اعتدال،بصیرت اور درست فہم عطا فرمائے اور ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں شریعت کے تابع رکھے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* طالبہ فیضان آن لائن اکیڈمی گرلز عرب،بحرین
[1] تفسیر نور العرفان،ص 461 ملتقطاً
[2] فتاویٰ رضویہ،21/ 492،491 ملتقطاً
[3] بہارِ شریعت،1/277،حصہ:1
[4] بخاری،3/350،حدیث:4891
[5] بخاری،3/19،حدیث:4002
Comments