موضوع:خیرات کا ثواب
اُمُّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم كا فرمانِ عاليشان ہے:جب عورت اپنے گھر کے کھانے سے کچھ خیرات کرے بشرطیکہ بربادی کی نیت نہ ہو تو اسے خیرات کرنے کا ثواب ہو گا،خاوند کو کمانے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اسی کے برابر ثواب ملے گا ان میں سے کسی کا ثواب دوسرے کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا۔([1])
شرحِ حدیث:
اگرچہ حدیثِ پاک میں کھانے کی خیرات کا ذکر ہے مگر اس میں تمام وہ معمولی چیزیں داخل ہیں جن کے خیرات کرنے کی خاوند کی طرف سے عادۃً اجازت ہوتی ہے جیسے پھٹا پرانا کپڑا،ٹوٹا جوتا وغیرہ اور کھانے میں بھی عام کھانا روٹی سالن داخل ہے جس کی خیرات کرنے سے خاوند کی طرف سے ناراضی نہیں ہوتی۔اگر خاوند نے کوئی خاص حلوہ یا معجون اپنے گھر کے خرچ کے لیے بہت روپیہ خرچ کر کے تیار کی ہے تو اس میں سے خیرات کی عورت کو اجازت نہیں۔
مرقات نے فرمایا:یہاں خرچ کرنے میں بچوں پر خرچ، مہمانوں کی خاطر تواضع پر خرچ،بھکاری فقیر پر خرچ سب ہی شامل ہے مگر شرط یہ ہی ہے کہ مال برباد کرنے کی نیت نہ ہو بلکہ حصولِ ثواب کا ارادہ ہو اور اتنا ہی خرچ کرلے جتنے خرچ کر دینے کی عادت ہوتی ہے۔([2])
عورت شوہر کے گھر کی نگہبان ہے:
عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران و نگہبان ہے۔شوہر کے گھر اور مال و اسباب وغیرہ کی حفاظت کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں۔اسی طرح شوہر کے مال سے بغیر اجازت صدقہ و خیرات کرنا بھی جائز نہیں لیکن اگر شوہر کی طرف سے اجازت ہو یا اتنی معمولی چیز خیرات کی کہ جس کا خیرات کرنا شوہر کو ناگوار نہیں ہو گا تو عورت کے لیے ایسا کرنا جائز و ثواب کا کام ہے۔
یاد رہے!اجازت صراحتاً بھی ہو سکتی ہے اور دلالۃً بھی۔ علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:مالک کی طرف سے اس کے مال سے صدقہ و خیرات کرنے کی اجازت ہونا ضروری ہے۔اگر مالک کی اجازت نہ ہو تو ان تینوں میں سے کسی کو بھی(اس کے مال سے صدقہ و خیرات کرنا)جائز نہیں،بلکہ غیر کے مال میں بغیر اس کے مالک کی اجازت کے تصرف کرنے کا گناہ ان پر ہو گا۔اب اجازت کی دو قسمیں ہیں:(1)صریح اجازت:یعنی خرچ اور صدقہ کرنے کی صراحۃً (واضح الفاظ میں)اجازت ہو۔(2)عُرفی اجازت:یعنی ایسی اجازت جو عرف و رواج کی وجہ سے سمجھی جاتی ہے(یعنی دلالۃً اجازت)جیسے کسی مانگنے والے کو روٹی کا ٹکڑایا اس طرح کی کوئی معمولی چیز دینا جس پر عادت جاری ہو اور عرفاً یہ معلوم ہو کہ شوہر یا مالک اس پر راضی ہے۔ایسی صورت میں(مالک کی) اجازت حاصل سمجھی جائے گی اگرچہ وہ زبان سے کچھ نہ بولے۔یہ حکم اس صورت میں ہے جب رواج کی بنیاد پر شوہر کی رضامندی کا علم ہو اور یہ معلوم ہو کہ اس کا دل بھی عام لوگوں کی طرح ایسے معمولی صدقے پر خوش اور راضی ہوتا ہے۔لیکن اگر عرف و رواج واضح نہ ہو اور اس کی رضامندی میں شک ہو،یا وہ کنجوس طبیعت کا ہو کہ ایسی چھوٹی چیز دینے میں بھی کنجوسی کرتا ہو اور یہ بات اس کے حال سے معلوم ہو یا اس کا شبہ ہو تو پھر بیوی یا کسی اور کے لیے اس کے مال سے صدقہ کرنا جائز نہیں ہے جب تک وہ واضح طور پر اجازت نہ دے دے۔([3])
ایک نیکی میں کئی لوگوں کا شریک ہونا
مذکورہ حدیثِ مبارک میں تین لوگوں کو ثواب کی بشارت عطا فرمائی گئی ہے:(1)شوہر جس نے مال کمایا(2)بیوی جس نے مال خیرات کرنے کا حکم دیا اور(3)خزانچی/عامل جس نے حکم دئیے جانے پر مال خیرات کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک نیکی میں کئی افراد بھی شریک ہوں تو ان سب کو اس کا ثواب ملے گا کیونکہ نیکی کے کام میں مدد کرنا بھی نیکی ہے۔
یاد رہے!یہاں اصلِ ثواب میں تو سب برابر شریک ہوں گے(یعنی سب کو ہی ثواب ملے گا)لیکن مقدارِ ثواب میں فرق ہے۔شوہر نے چونکہ محنت و مشقت سے مال کمایا ہے،لہٰذا اس کا ثواب بیوی اور خزانچی کی نسبت زیادہ ہو گا۔
صدقہ و خیرات کے فوائد
*صدقہ و خیرات کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
*صدقہ بَلاؤں کو ٹالتا ہے۔
*جو مال صدقہ کیا گیا وہ بقا پا جاتا ہے۔
*صدقہ کوتاہیوں کو یوں مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو۔
*صدقہ اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
*صدقہ اللہ پاک کے غضب کو کم کرتا ہے۔
*صدقہ قبر کی گرمی سے بچاتا ہے۔
*صدقہ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے۔
*صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔
*صدقہ جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
عورتیں صدقہ و خیرات کیسے کریں؟
بعض خواتین کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ ہم تو کماتی نہیں ہیں، ہمارے پاس تو پیسے ہی نہیں،ہم کہاں سے صدقہ و خیرات کریں؟ان کے لیے مذکورہ حدیثِ مبارک میں صدقہ و خیرات کرنے کا بہت آسان طریقہ بتا دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر عورت شوہر کی کمائی میں سے(اس کی اجازت کے ساتھ) صدقہ و خیرات کرے تو شوہر کے ساتھ ساتھ وہ بھی ثواب کی حق دار ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ کثیر چیز ہی صدقہ کی جائے بلکہ معمولی سی چیز بھی صدقہ کی جا سکتی ہے،مثلاً:گھر میں بنائے گئے کھانے میں سے کچھ صدقہ کر دیا جائے،پرانے کپڑے،پرانے جوتے یا گھریلو استعمال کی دیگر ایسی پرانی چیزیں جو قابلِ استعمال ہوں وہ کسی مستحق کو دے دی جائیں۔ہم اپنے گھروں کا جائز لیں تو ہمارے گھروں میں اکثر ایسی چیزیں موجود ہوتی ہیں جو بالکل استعمال میں نہیں آتیں اور بسا اوقات پڑی پڑی خراب بھی ہو جاتی ہیں،ایسی چیزوں کو بھی(شوہر کی اجازت سے) کسی مستحق کو دے دیا جائے تو وہ ضائع ہونے سے بھی بچ جائیں گی اور ثواب بھی ملے گا۔
شوہر سے اجازت لینا کب ضروری ہے؟
یہ بھی یاد رہے کہ شوہر سے اجازت لینا اس صورت میں ضروری ہے جب شوہر کے مال سے صدقہ کیا جائے۔البتہ!اگر بیوی اپنے مال سے صدقہ کرے یا اپنی ملکیت میں موجود کوئی چیز بطورِ صدقہ کسی مستحق کو دینا چاہے تو اس کے لیے شوہر کی اجازت لینا ضروری نہیں لیکن باہمی تعلقات کو مضبوط اور خوشگوار رکھنے کے لیے اجازت لے لینا بہتر ہے۔
اللہ پاک ہمیں صدقہ و خیرات کرتی رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز

Comments