موضوع:نجومیوں کے پاس جانا کیسا؟(قسط2)
فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:اللہ پاک جب بھی آسمان سے کوئی برکت نازل فرماتا ہے تو لوگوں کی ایک جماعت اس کے سبب کافر ہو جاتی ہے۔کیونکہ بارش تو اللہ پاک نازل فرماتا ہے مگر وہ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلا ں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی۔([1]) جبکہ ایک روایت میں ہے:لوگوں میں سے بعض شکر کرنے والے اور بعض کفر کرنے والے ہیں۔(بعض) کہتے ہیں:یہ اللہ پاک کی رحمت ہے اور بعض کہتے ہیں:ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے صدقہ کیا گیا ہے۔([2])نیز ایک روایت کے مطابق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:میرے بندوں میں سے جس نے کہا کہ ہم پر اللہ پاک کے فضل و رحمت کے سبب بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں(کی تاثیر) کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی تو وہ میرا انکار کرنے والا اور ستاروں پر ایمان رکھنے والا ہے۔([3])
شرح حدیث:
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے عِلمِ نجوم کا حصہ حاصل کیا اس نے جادو کا حصہ حاصل کیا، جس نے اسے بڑھایا اتنا ہی اسے بڑھایا۔([4]) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس علم کو جادو سے تشبیہ دینا اس کی انتہائی ذلت کے اظہار کے لیے ہے یعنی عِلمِ نجوم جادو کی طرح بُرا ہے۔جادو کفر ہے یا قریبِ کفر۔([5])مذکورہ تمام روایات کا تعلق بھی عِلمِ نجوم ہی سے ہے، کیونکہ ستاروں کا علم عِلمِ نجوم کہلاتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ جب ستاروں کے بارے میں گفتگو ہو تو رک جاؤ۔([6]) یعنی اس علم کے ذکر پر ہمیں رُکنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ انسان اسباب پر بھروسا کرنے میں دلچسپی لیتا ہے خواہ وہ اسباب ظاہری ہوں یا خیالی اور شاید اسی وجہ سے وہ مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب یعنی اللہ پاک سے غافل ہو جاتا ہے۔([7])
نجوم یعنی ستاروں کی باتیں بتانے والے کو نجومی کہتے ہیں، کیونکہ اس کا تعلق جس علم سے ہے اس میں ستاروں وغیرہ کے ذریعے مستقبل میں ہونے والے واقعات کے بارے میں پتہ لگایا جاتا ہے اور چونکہ کہانت میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے، لہٰذا یہ علم بھی ممنوع ہے۔اس علم کی تعریف اردو لغت میں کچھ یوں بیان کی گئی ہے کہ وہ علم جس میں ستاروں کی چال، انسانوں اور حالات و واقعات پر ان کے سعد و نحس یعنی اچھے و بُرے اثرات سے بحث کی جاتی ہے۔([8])
علمائے کرام فرماتے ہیں:ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی، سے یہ مراد لے کہ ستارہ ہی بارش پیدا کرنے والا ہے تو وہ کافر ہے۔لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں ستارہ صرف بارش نازل ہونے کی علامت ہے جبکہ بارش نازل کرنے والا اللہ پاک ہی ہے تو وہ اگرچہ کافر نہیں لیکن ایسا کہنا مکروہ ہے کیونکہ یہ جملہ کفریہ الفاظ میں سے ہے۔([9])
عِلمِ نجوم کی اقسام:
رَدُّ المحتار میں ہے:عِلمِ نجوم فی نفسہٖ برا نہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں: حسابی اور استدلالی۔
حسابی:
یہ حق ہے۔اس کا بیان اللہ پاک نے یوں فرمایا ہے:
اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪(۵) (پ27،الرحمن:5)
ترجمہ:سورج اور چاند حساب سے ہیں۔یعنی سورج اور چاند کے ذریعے وقتوں، زندگی کی مُدّتوں اور عمروں کا حساب کیا جاتا ہے۔اگر رات، دن، سورج اور چاند نہ ہوتے تو کوئی بھی نہ جانتا کہ کسی چیز کا حساب کیسے کیا جائے گا۔([10])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
استدلالی:
یعنی ستاروں کے چلنے اور افلاک کے حرکت کرنے سے اللہ پاک کی قضا و تدبیر کے مطابق پیدا ہونے والے امور پر استدلال کرنا، یہ بھی جائز ہے جیسا کہ طبیب کا نبض کے ذریعے صحت و بیماری پر استدلال کرنا۔اس کی اتنی مقدار حاصل کرنے میں حرج نہیں جس سے اوقاتِ نماز اور قبلہ کی پہچان ہو سکے۔لیکن اس مقدار سے زائد سیکھنا حرام ہے۔([11])
ممنوع علمِ نجوم وہ ہے جس کا جاننے والا زمانۂ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات جاننے کا دعویٰ کرتا ہے جیسے بارش کا آنا، برف باری ہونا، ہوا چلنا اور چیزوں کی قیمتوں کا تبدیل ہونا وغیرہ۔نجومی گمان کرتے ہیں کہ وہ ایک زمانے میں ستاروں کے چلتے ہوئے ایک دوسرے سے ملنے، جدا ہونے اور ظاہر ہونے کے ذریعے ان باتوں کا ادراک کر لیتے ہیں۔حالانکہ اللہ پاک نے اس علم کو اپنے ساتھ خاص کر رکھا ہے اور اس کے علاوہ(اپنے اندازہ سے)کوئی نہیں جان سکتا۔لہٰذا جس نے مذکورہ ذرائع سے اس کے جاننے کا دعویٰ کیا وہ فاسق ہے بلکہ اکثر اوقات یہ علم کفر کی طرف لے جاتا ہے۔البتہ!جو یہ کہے کہ ستاروں کے یوں ایک دوسرے سے ملنے اور جدا ہونے کو اللہ پاک نے مذکورہ چیزوں (ہوا، بارش وغیرہ)کے وقوع پر اپنی جاری عادت کی علامت بنایا ہے مگر کبھی ایسا نہیں بھی ہوتا تو ایسا کہنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔اسی طرح علمِ نجوم کی مدد سے مشاہدہ کے ذریعے سمجھی جانے والی باتوں کی خبر دینا جن کے ذریعے زوال کا وقت اور قبلہ کی سمت معلوم کی جاتی ہے اور پتا چلتا ہے کہ کتنا وقت گزر چکا ہے اور کتنا باقی ہے تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں بلکہ یہ فرضِ کفایہ ہے۔([12])
اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ کواکبِ فلکی(یعنی آسمانی ستاروں)کے اثراتِ سعد و نحس ( اچھے اور منحوس اثرات)پر عقیدت(یعنی بھروسا)رکھنا کیسا ہے؟ تو آپ نے فرمایا:مسلمان مُطِیع(فرمانبردار مسلمان) پر کوئی چیز نَحْس(منحوس)نہیں اور کافروں کے لئے کچھ سَعْد (اچھا)نہیں اور مسلمان عاصی(گناہگار مسلمان)کے لئے اس کا اسلام سَعْد ہے۔طاعت(عبادت)بشرطِ قبول سَعْد(نیک بختی) ہے۔ معصیت بجائے خود نَحْس ہے اگر رحمت و شفاعت اس کی نحوست سے بچا لیں بلکہ نحوست کو سعادت کر دیں،
فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ- (پ19،الفرقان:70)
(ترجمہ:یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی بُرائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیتا ہے۔)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
بلکہ کبھی گناہ یوں سعادت ہو جاتا ہے کہ بندہ اس پر خائف و ترساں و تائب و کوشاں رہتا ہے، وہ دھل گیا اور بہت سی حَسَنات( نیکیاں) مل گئیں، باقی کَواکب میں کوئی سعادت و نحوست نہیں اگر ان کو خود مُؤَثِّر(اثر کرنے والا) جانے شرک ہے اور ان سے مدد مانگے تو حرام ہے، ورنہ ان کی رعایت ضرور خلافِ تَوَکُّل ہے۔([13]) فتاویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ 463 پر فرماتے ہیں:(نجومیوں کا) اُمور غیب پر احکام لگانا، سعد و نحس کے خرخشے اٹھانا، زائچہ کے راہ پر چلنا چلانا، اوتاد اربع، طالع رابع، عاشر، سابع پر نظر رکھنا، زائلہ مائلہ کو جانچنا پرکھنا، شرعاً ہجر(ممنوع)ہے اور اعتقاد کے ساتھ ہو تو قطعاً کفر۔([14])
بہارِ شریعت میں ہے:قمر در عقرب یعنی چاند جب بُرجِ عقرب میں ہوتا ہے تو سفر کرنے کو بُرا جانتے ہیں اور نجومی اسے منحوس بتاتے ہیں اور جب بُرجِ اسد میں ہوتا ہے تو کپڑے قطع کرانے(کٹوانے)اور سلوانے کو بُرا جانتے ہیں۔ ایسی باتوں کو ہر گز نہ مانا جائے،یہ باتیں خلافِ شرع اور نجومیوں کے ڈھکوسلے ہیں۔نجوم کی اس قسم کی باتیں جن میں ستاروں کی تاثیرات بتائی جاتی ہیں کہ فلاں ستارہ طلوع کریگا تو فلاں بات ہو گی، یہ بھی خلافِ شرع ہے۔اس طرح نچھتروں کا حساب کہ فلاں نچھتر سے بارش ہو گی یہ بھی غلط ہے، حدیث میں اس پر سختی سے انکار فرمایا۔([15])ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:شعبدہ بازی،سحر(جادو)،کہانت اور منطق کے علم کا وہ حصہ جس سے ضلالت و گمراہی پیدا ہو ان سب کا حاصل کرنا حرام ہے اسی طرح علمِ تَنْجِیْم(علمِ نُجوم) بھی ہے کہ اگر اس علم سے مقصود یہ ہو کہ اس کے ذریعہ سے ماہ و سال، اوقاتِ صلوٰۃ و سمتوں اور موسموں کی اقسام کا حال معلوم کیا جائے اور زکوٰۃ و حج کے اوقات کو جانا جائے تو مضائقہ نہیں یہ جائز ہے اور اگر علمِ تَنْجِیْم(علمِ نُجوم) سے مقصود یہ ہو کہ اس کے ذریعہ سے آنے والے حوادث کو معلوم کیا جائے اور غیبی امور بتانے کے لئے استعمال کیا جائے اور ستاروں کی گردش کے دنیا پر اثرات ظاہر کرنے کے لئے حاصل کیا جائے تو حرام ہے۔عِلمِ نجوم اگرچہ آسمانی علم ہے جو حضرت ادریس علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور وہ ان کا معجزہ تھا، اس میں ظَنّ و تخمین(گمان و اندازے)یا حسابیات کو دخل نہ تھا، وہ ایک روحانی قوت تھی جو من جانبِ اﷲ(اللہ پاک کی طرف سے)عطا کی گئی تھی وہ علم باقی نہیں رہا بعد میں لوگوں نے ظَنّ و تخمین(گمان و اندازے)اور حسابیات سے کام لینا شروع کردیا اور ستاروں کے اثرات کو مُؤثِّر بالذَّات مان لیا جو اسلام کے قطعاً(بالکل)منافی ہے۔([16])
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:تاروں سے اوقات معلوم کرنا اور راستوں و سمتوں کا پتہ لگانا جائز ہے، رب فرماتا ہے:
وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ(۱۶) (پ14،النحل:16)
(ترجمہ:اور لوگ ستاروں سے راستہ پالیتے ہیں۔)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
مگر ان میں بارش وغیرہ کی تاثیریں ماننا اور ان سے غیبی خبریں معلوم کرنا حرام ہے، لہٰذا عِلمِ نجوم باطل ہے، عِلمِ توقیت حق۔([17])حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ رہنمائی حاصل کرنے کی خاطر چاند ستاروں کا علم(یعنی علْمِ نجوم) سیکھنے کو بُرا نہیں جانتے تھے۔([18])
علمِ نجوم کے جائز و ناجائز ہونے کی صورتیں:
اگر کوئی شخص ان حرکاتِ نجوم و فلکیہ کو صرف علامات جانے اور ذہن میں رکھے کہ یہ علامات غلط بھی ثابت ہوتی ہیں، ان کے چلنے اور جگہ تبدیل کرنے کو اللہ پاک کی تدبیر سمجھتے ہوئے ان حرکات سے پیدا ہونے والے اثرات کو اللہ پاک کی طرف سے سمجھے اور اپنے لیے عِلمِ غیب کا دعویٰ نہ کرے، اپنے نکالے ہوئے نتیجے پر خود اعتماد کرے نہ کسی کو یقین دلائے، بلکہ دوسروں کو برابر بتاتا رہے کہ یہ نتیجہ میں نے اپنے علم کے مطابق نکالا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ یہ نتیجہ صحیح ہی ہو، لہٰذا اس پر یقین کرنا درست نہیں،تو ایسی صورت میں اسے استعمال کرنا اس کے ذریعے دوسرے کو جواب دینا جائز ہو گا اور خاص اس صورت میں اس کی مثال نبض دیکھ کر مرض کا اندازہ لگانے جیسی ہو گی۔لیکن فی زمانہ نجومیوں میں یہ شرائط تقریباً مفقود ہوتی ہیں، کوئی حرکاتِ نجوم کو واقعات میں یقینی مُؤثِّر یعنی اثر کرنے والا مانتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والے علم کو واجب و لازم جانتے،اسی پر اعتماد کرتے اور دوسروں کو بھی یقین دلاتے ہیں،نیز ان حرکات کو دیکھ کر کسی وقت، جگہ، چیز کو سعادت یافتہ یا منحوس کہتے ہیں، بلکہ بعض تو ڈھکے چھپے الفاظ میں غیب کا دعویٰ کر رہے ہوتے ہیں، حالانکہ یہ صورتیں ناجائز و حرام اور گناہ کی ہیں، جبکہ بعض تو کفر تک پہنچانے والی ہیں۔([19])
(علمِ نجوم سے متعلق مزید معلومات ان شاء اللہ ماہنامہ خواتین کے اگلے شمارے میں بیان ہوں گی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلز خوشبوئے عطار واہ کینٹ
[1]مسلم،ص56،حدیث:233
[2] مسلم،ص56،حدیث:234
[3] مسلم، ص56، حدیث:231
[4] ابوداود،4/21،حدیث:3905
[5] مراۃ المناجیح،6/273
[6] معجم کبیر،10/198،حدیث:10448
[7] لباب الاحیاء،ص35
[8] اردو لغت،19/ 715
[9] زواجر،2/217
[10] تفسیر قرطبی،الجزء السابع عشر،9/113
[11] رد المحتار، 1/110
[12] زواجر،2/217،216
[13] فتاویٰ رضویہ،21/224،223
[14] فتاویٰ رضویہ،10/463
[15] بہار شریعت،5/659،حصہ:16
[16] بہار شریعت،6/ 1037، حصہ:19ملتقطاً
[17] مراٰة المناجیح،2/503
[18] حلیۃ الاولیاء، 4/251،رقم:5445
[19] فتاویٰ اہلِ سنت غیر مطبوع،فتویٰ نمبرPin-7012

Comments