توکل کی برکات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:توکل کی برکات

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک شخص نے اپنے گھر والوں کی محتاجی دیکھی تو جنگل کی طرف نکل گیا،جب اس کی بیوی نے  یہ معاملہ دیکھا تو وہ چکی کی طرف اٹھی،اسے رکھا،پھر تنور کی طرف گئی اور اسے جھونک دیا،پھر بولی:الٰہی! ہمیں روزی دے تو چکی کا پیالہ بھر گیا۔جب وہ تنور کی طرف گئی تو اسے بھی بھراہوا پایا۔جب شوہر گھر آیا  اور پوچھا کہ کیا تم نے میرے بعد کچھ پایا؟بیوی نے کہا:ہاں۔اپنے رب کی طرف سے۔پھر وہ چکی کی طرف اٹھا۔یہ واقعہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے عرض کیا گیا تو آپ نے فرمایا:اگر وہ شخص اسے نہ اٹھاتا تو چکی قیامت تک گھومتی رہتی۔([1])

شرحِ حدیث:

یہ واقعہ ایک صحابیِ رسول کا ہے جو حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانۂ مبارک میں پیش آیا اور حضور نے اسے کرامت قرار دیتے ہوئے اس کی تصدیق فرمائی۔صحابۂ کرام سب کے سب اللہ پاک کے مقبول بندے اور اولیا ہیں اور ولی کی کرامت نبی کے معجزے کی برکت سے ہوتی ہے۔اس صحابی کا نام معلوم نہ ہو سکا۔

اس صحابی نے جب اپنے گھر والوں کی شدید محتاجی دیکھی تو شرمندگی اور روزی کی تلاش میں جنگل کی طرف نکل گئے۔ان کی اہلیہ نے گھر میں اناج نہ ہونے کے باوجود چکی کا اوپر والا پاٹ رکھ دیا اور تنور جھونک دیا،تاکہ لوگوں کو ان کی محتاجی کا علم نہ ہو۔پھر اللہ پاک سے رزق کی دعا کی۔اللہ پاک کو ان کا توکل اور عزتِ نفس کی حفاظت کا یہ انداز ایسا پسند آیا کہ جب وہ تنور کے پاس پہنچیں تو اسے روٹیوں سے بھرا ہوا پایا،جبکہ چکی بھی غیبی آٹے سے بھر چکی تھی۔جب شوہر واپس آئے اور اپنی اہلیہ سے اس رزق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ یہ ہمارے رب کی طرف سے ہے۔وہ چکی کی طرف گئے تو اسے چلتا ہوا پایا اور اس کا اوپر والا پاٹ اٹھا دیا۔چنانچہ جب حضور کو یہ سارا واقعہ عرض کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ اسے نہ اٹھاتے تو وہ چکی قیامت تک چلتی رہتی۔([2])

اس واقعے سے اللہ پاک کی قدرت،رزقِ غیبی،توکل اور اللہ پاک سے حسنِ ظن کا درس ملتا ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تنگ دستی کے باوجود اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کرنا اور اللہ پاک ہی سے رزق مانگنا باعثِ برکت ہے۔

توکل کی برکات:

مذکورہ روایت میں بیان ہونے والا واقعہ خوارق کے قبیل سے ہے۔دنیا عالَمِ اسباب ہے،تاہم اللہ پاک اپنی قدرتِ کاملہ سے کبھی بغیر ظاہری اسباب کے بھی اپنے بندوں کے لیے رزق اور دیگر امور کا انتظام فرما دیتا ہے۔اسے خوارق کہا جاتا ہے۔ اس واقعے میں بھی میاں بیوی نے اللہ پاک پر کامل توکل کرتے ہوئے اسی سے رزق طلب کیا تو اللہ پاک نے غیب سے ان کے لیے آٹے اور روٹی کا انتظام فرما دیا۔

توکل کا معنی:

توکل کا مفہوم یہ ہے کہ اپنا کام کسی کے سپرد کر کے اس پر اعتماد کرنا۔([3]) جبکہ اللہ پاک پر توکل کا مطلب یہ ہے کہ اسے حقیقی کارساز مانتے ہوئے اپنے معاملات اس کے سپرد کر دیئے جائیں اور اس کی قدرت و رحمت پر کامل یقین رکھا جائے۔([4])

توکل کی فضیلت:

جو لوگ اللہ پاک کی ذات پر کامل یقین اور بھروسا رکھتے ہیں،اللہ پاک ان کی تمام حاجات میں ان کا کفیل ہوتا ہے اور وہ اپنے تمام تر معاملات اللہ پاک کے سپرد کر کے ذہنی طور بھی پُرسکون رہتے ہیں۔

اللہ پاک پر کامل یقین اور بھروسا رکھنے والا شخص اپنے معاملات اللہ پاک کے سپرد کر کے قلبی سکون حاصل کرتا ہے۔اللہ پاک نے توکل کرنے والوں سے اپنی محبت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

فَاِذَا  عَزَمْتَ  فَتَوَكَّلْ  عَلَى  اللّٰهِؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  یُحِبُّ  الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹) (پ4،الِ عمرٰن:159)

ترجمہ:پھر جب کسی بات کا پختہ ارادہ کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بیشک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ایک مقام پر کامل ایمان والوں کے متعلق ارشاد فرمایا:

وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ(۲) (پ9،الانفال:2)

ترجمہ:اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ- ( پ 28،الطلاق: 3)

ترجمہ:اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۹۹) (پ14،النحل:99)

ترجمہ:بیشک اسے ان لوگوں پر کوئی قابو نہیں جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توکل ترکِ اسباب کا نام نہیں:

یاد رکھیے!حقیقی توکل یہ نہیں کہ انسان اسباب کو چھوڑ دے،بلکہ توکل یہ ہے کہ جائز اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پاک کے سپرد کر دیا جائے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی:یا رسولَ اللہ!میں اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ کر؟ارشاد فرمایا:اسے باندھ کر توکل کرو۔([5])

رزق کا ذمہ اللہ پاک نے لیا ہے،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان محنت وکوشش چھوڑ کر بیٹھ جائے۔حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو بھی رزق عطا فرمانے کے باوجود اللہ پاک نے کھجور کے درخت کو ہلانے کا حکم فرمایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندے کو اسباب اختیار کرنے چاہئیں،البتہ! بھروسا اسباب پر نہیں بلکہ مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب اللہ پاک پر ہونا چاہیے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا:اگر تم اللہ پاک پر ایسا توکل کرو جیسا اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو ضرور وہ تمہیں رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں۔([6])

پرندے رزق کی تلاش میں صبح اپنے گھونسلوں سے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ توکل محنت وکوشش چھوڑنے کا نام نہیں،بلکہ کوشش کرتے ہوئے دل کا بھروسا اللہ پاک کی ذات پر رکھنے کا نام ہے۔

رزق نہ رکھیں ساتھ میں پنچھی اور درویش

جن کا رب پر آسرا ان کو رزق ہمیش

ہمارا توکل کیسا ہے؟

ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہمارا توکل بھی حقیقی ہے؟بعض اوقات ہم زبان سے تو اللہ پاک پر بھروسا کرنے کا اظہار کرتی ہیں،لیکن دل میں اپنے معاملات کے بارے میں بے چینی اور پریشانی باقی رہتی ہے۔کبھی رزق کے بارے میں فکرمند ہوتی ہیں،کبھی کسی کام کے نتیجے کے بارے میں اور کبھی کسی مسئلے کے حل کے بارے میں۔

حقیقی توکل یہ ہے کہ جائز اسباب اختیار کرنے کے بعد اپنے معاملات اللہ پاک کے سپرد کر کے دل کو مطمئن رکھا جائے۔ رزق کمانے اور دیگر ضروری کاموں میں مصروف رہا جائے، لیکن اس قدر نہیں کہ نماز اور دیگر حقوقُ اللہ و حقوقُ العباد ہی ضائع ہونے لگیں۔حلال و حرام کی تمیز بھی برقرار رہے اور دل کا اعتماد صرف اللہ پاک کی ذات پر ہو۔

اللہ پاک ہمیں حقیقی توکل کی برکتیں نصیب فرمائے اور ہر حال میں اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز



[1]مسند امام احمد،16/384،حدیث:10658

[2]مراۃ المناجیح،7/126،125 ملخصاً

[3]تفسیر صراط الجنان،2/46

[4]احیاء علوم الدین،4/321 مفہوماً

[5]ترمذی،4/232،حدیث:2525

[6]ترمذی،4/154،حدیث:2351


Share