موضوع:نکاح کے شرعی اصول
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ہماری راہ نمائی فرماتا ہے۔ازدواجی زندگی بھی انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے،اسی لیے اسلام نے نکاح کے متعلق واضح اور پاکیزہ اصول بیان فرمائے ہیں۔نکاح نہ صرف ایک فطری ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ ہے بلکہ سنتِ انبیا اور اہم عبادت بھی ہے۔قرآنِ کریم میں نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے حکم ارشاد فرمایا گیا ہے:
وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ-اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ- (پ 18، النور:32)
ترجمہ:اور تم میں سے جو بغیر نکاح کے ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہیں ان کے نکاح کردو۔اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت میں شرمگاہوں کی حفاظت کا ایک طریقہ بیان کیا جا رہا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو بغیر نکاح کے ہوں خواہ مرد ہوں یا عورتیں،کنوارے یا غیر کنوارے(یعنی شادی شدہ تھے لیکن پھر طلاق یا ایک کی موت ہو گئی)اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہیں ان کے نکاح کر دو۔([1]) جبکہ آیت کے اس حصے (اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-)سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کی برکت سے تنگ دستی دور ہوجاتی اور فراخ دستی حاصل ہو تی ہے۔جیسا کہ تفسیرِ نسفی میں ہے:آیت میں غنا سے مراد شوہر اور بیوی کے دو رزقوں کا جمع ہو جانا یا نکاح کی برکت سے فراخی حاصل ہونا مراد ہے۔([2]) حدیثِ پاک سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ نکاح کے ذریعے رزق تلاش کرو۔([3])
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:( الْاَیَامٰى سے مراد ہے:)مرد یا عورت کنوارے یا غیر کنوارے،یہ امراستحبابی ہے اور ضرورت کے وقت وجوب کے لیے ہے اگر زنا کا خطرہ ہو۔(الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ سے مراد ہے:)جو نکاح کے لائق ہوں یا نیک وصالح ہوں،نالائقوں کا نکاح نہ کرو جو تمہیں اور اپنی بیویوں کو پریشان کریں۔( اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ- کی تفسیر میں لکھتے ہیں:) معلوم ہوا کہ نکاح غنا کا سبب ہو جاتا ہے کہ اس کے سبب اللہ پاک فقیر کو غنی کر دیتا ہے۔عورت خوش نصیب ہوتی ہے۔([4])
رشتہ منتخب کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟
افسوس!بعض اوقات صرف مال ودولت یا قریبی رشتہ داری کی وجہ سے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی شادی ایسے مردوں سے کر دی جاتی ہے جو ظالم وجابر،شرابی،جواری یا طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔یہ اسلامی تعلیمات سے دوری کے ساتھ ساتھ عورت پر بہت بڑا ظلم بھی ہے۔اس لیے اگر آپ کو اپنی بیٹی یا کسی قریبی رشتہ دار کے نکاح کے معاملے میں فیصلہ کرنا ہو تو صرف مال، خاندان یا ظاہری وجاہت کو معیار نہ بنائیے،بلکہ دین داری، اچھے اخلاق اور کردار کو بھی ضرور پیشِ نظر رکھیے۔ حدیثِ پاک میں ہے:جس نے اپنی بيٹی کا نکاح کسی فاسق سے کيا اس نے قطع رحمی کی۔([5]) حضرت اسماء بنتِ ابو بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں:نکاح کرنا عورت کو کنیز بنانا ہے،لہٰذا غور کر لینا چاہيے کہ وہ اپنی بيٹی کو کہاں بیاہ رہا ہے۔([6]) حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کی:میری ایک ہی بیٹی ہے جس سے میں بہت محبت کرتاہوں،اس کے کئی رشتے آئے ہیں،آپ مجھے کس سے شادی طے کرنے کا مشورہ دیتے ہیں؟ارشاد فرمایا:اس کی ایسے شخص سے شادی کرو جو خوفِ خدا والا ہو،کیونکہ اگر ایسا شخص تمہاری بیٹی سے محبت کرے گا تو اسے عزت دے گا اور اگر نفرت بھی کرے گا تو(خوفِ خدا کی وجہ سے)ظلم نہیں کرے گا۔([7]) چنانچہ لڑکی والوں کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کے لیے نیک،دین دار،درست عقیدے والا،خوش اخلاق اور سخی شخص منتخب کریں اور فاسق و بدکار شخص سے اس کا نکاح نہ کریں کہ اچھا رشتہ صرف دنیاوی آسائش کا نام نہیں،بلکہ ایسا شریکِ حیات جو دین دار اور خوفِ خدا رکھنے والا ہو،وہ ازدواجی زندگی میں اپنی بیوی کے حقوق کی زیادہ حفاظت کرے گا اور اختلاف کی صورت میں بھی ظلم و زیادتی سے بچے گا۔
نکاح کے فوائد:
دینِ اسلام میں نکاح ایک اہم عبادت اور سنتِ انبیا ہے۔نکاح کے ذریعے انسان بہت سے فتنوں اور بے راہ روی سے محفوظ رہتا،نگاہ اور خیالات کی حفاظت ہوتی اور تقویٰ کے حصول میں مدد ملتی ہے۔اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے سکون،محبت اور غم خواری کا ذریعہ بنتے ہیں۔اللہ پاک نے بھی میاں بیوی کے رشتے کو باہمی سکون اور محبت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔نکاح کے عظیم فوائد میں سے ایک نسلِ انسانی کی بقا اور نیک اولاد کا حصول بھی ہے۔اولاد انسان کے لیے خوشی، محبت اور بڑھاپے میں سہارا بننے کا ذریعہ ہے۔مسلمان کے لیے نکاح اور اولاد کے حصول میں یہ نیت بھی ہونی چاہیے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اُمّت میں اضافہ ہو،کیونکہ حضور کو اپنی اُمّت کی کثرت محبوب ہے۔([8])
مناسب رشتے کے لیے کن باتوں کا خیال رکھیں؟
ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا نکاح نیک،اچھے اخلاق اور مناسب کردار رکھنے والے شخص سے ہو اور وہ آئندہ زندگی سکون کے ساتھ گزارے۔اس مقصد کے لیے رشتہ تلاش کرتے وقت صرف ظاہری حسن یا مال ودولت کو معیار بنانے کے بجائے دین داری اور اچھے اخلاق کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے۔
کنواری لڑکی کے لیے رشتہ آنے کے سلسلے میں زینت اختیار کرنے کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کنواری لڑکیوں کو زیور و لباس سے آراستہ رکھنا کہ ان کی منگنیاں آئیں،یہ بھی سنت ہے۔بلکہ عورت کا باوجودِ قدرت بالکل بے زیور رہنا مکروہ ہے کہ مردوں سے تشبہ ہے۔([9]) لہٰذا اگر آپ کے گھر میں کوئی کنواری بیٹی یا بہن ہے تو اسے شرعی حدود میں رہتے ہوئے صاف ستھرا،سلیقہ مند اور باوقار رہنے کی ترغیب دیجیے۔البتہ!زینت کا مقصد نامحرم مردوں کی توجہ حاصل کرنا نہیں،بلکہ خواتین اور رشتہ داروں کے ذریعے مناسب رشتے کی تلاش میں معاونت حاصل کرنا ہونا چاہیے۔
شادی میں تاخیر کرنا کیسا؟
اگر لڑکا اور لڑکی باہم کفو ہوں،دین دار اور درست عقیدے کے حامل ہوں تو والدین کو بلاوجہ نکاح میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ ایک روایت میں ہے:جب تمہارے پاس ایسے شخص کا رشتہ آئے جس کی دین داری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اُس سے(اپنی بیٹی کا)نکاح کردو،اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنے اور لمبے چوڑے فساد برپا ہو جائیں گے۔([10]) لہٰذا محض مال،برادری یا دیگر دنیاوی وجوہ کی بنا پر اچھے اور مناسب رشتے کو بلا وجہ رد یا مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔البتہ!اولاد کو بھی چاہیے کہ نکاح کے معاملے میں والدین کی رضامندی اور شرعی احکام کی پابندی کرے اور کسی غیر محرم سے خفیہ تعلق قائم نہ کرے۔ نیز اپنی برادری میں ہی شادی کرنا شرعاً ضروری نہیں؛مناسب اور کفو کا رشتہ دوسری برادری میں بھی ہو تو اسے محض برادری مختلف ہونے کی وجہ سے رد نہیں کرنا چاہیے۔اللہ پاک ہمیں شرعی احکام پر عمل کرنے اور اپنی اولاد کے نکاح کے معاملات میں درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معاونہ ومتخصصہ دارالافتاء اہلسنت
دھوراجی کراچی
[1]تفسیر خازن،3 /350
[2]تفسیر نسفی،ص779
[3]مسند الفردوس،1/88،حدیث:282
[4]تفسیر نور العرفان،ص564
[5]الکامل فی ضعفاء الرجال،3/165
[6]سنن کبریٰ للبیہقی ،7/133،رقم:13481
[7]شرح السنہ،5/10،9،تحت الحدیث:2234
[8] عورت اور قرآن،ص271 ملخصاً
[9]فتاویٰ رضویہ،22/ 126،127ملتقطاً
[10] ترمذی،2/344،حدیث:1086


Comments