موضوع:غلطی مان لینا
ہم انسان ہیں اور بحیثیتِ انسان کوئی بھی غلطیوں سے خالی نہیں،چنانچہ نبیِّ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:کُلُّ اِبْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ ہر انسان خطا کار ہے۔([1])ہاں!انبیائے کرام علیہم السلام اس سے پاک ہوتے ہیں،ان کی طرف تلاوتِ قرآن اور روایتِ حدیث کے علاوہ غلطی کی نسبت کرنا سخت حرام ہے۔([2])
مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عِصمت نبی اور مَلَک (فرشتے) کا خاصہ ہے کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔عِصمتِ انبیا کے یہ معنیٰ ہیں کہ اُن کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہو لیا،جس کے سبب ان سے صدورِ گناہ(گناہ ہونا) شرعاً محال ہے۔انبیا شرک و کفر اور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو،جیسے کِذْب و خیانت و جہل وغیرہا صفاتِ ذمیمہ سے،نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مُروّت کے خلاف ہیں قبلِ نبوت اور بعد ِ نبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر(گناہ کبیرہ) سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تعمّدِ صغائر(جان بوجھ کر صغیرہ گناہ کرنے) سے بھی قبلِ نبوّت اور بعدِ نبوّت معصوم ہیں۔([3])
لہٰذا عام انسان سے غلطی تو ہو ہی جاتی ہے مگر غلطی کو غلطی نہ ماننا اس سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔غلطی ہونا بُرا نہیں بلکہ غلطی کا اعتراف نہ کرنا بُرا ہے۔غلطیاں تو ہوتی ہی سکھانے کے لئے ہیں۔بچہ جب چلنے لگتا ہے تو کئی بار گرتا ہے بالآخر گر گر کر چلنا سیکھ جاتا ہے۔جب بولتا ہے تو کتنی غلطیاں کر رہا ہوتا ہے! بالآخر درست بولنا سیکھ جاتا ہے۔اسی طرح دورانِ تعلیم ہمیں غلطیاں کر کے کتنا کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور یہ سب غلطی کو تسلیم کرنے سے ہی آتا ہے، جب غلطی کو تسلیم کر لیتی ہیں تو درستی آنا شروع ہو جاتی ہے۔
مشہور ہے کہ لائٹ بلب جس نے ایجاد کیا اس نے بلب بنانے کے لیے ہزارہا تجربات کیے جو کہ غلط ثابت ہوئے بالآخر وہ بلب بنانے میں کامیاب ہو ہی گیا، تو کسی صحافی نے پوچھا کہ ایک بلب بنانے میں آپ اتنی بار ناکام ہوئے اور اتنی غلطیوں کے بعد ایک بلب ایجاد کیا، ناکامی کے دنوں میں آپ کے جذبات و احساسات کیا رہے؟ تو اس نے جواب دیا:ناکام تو میں ہوا ہی نہیں بلکہ میرا تجربہ ہی ہزاروں مراحل پر مشتمل تھا، اور ہر غلطی میرے تجربے میں اضافے کا سبب تھی، لہٰذا جہاں مجھے ایک طریقہ وہ معلوم ہے جس سے بلب بن سکتا ہے تو ہزاروں ایسے طریقوں کا بھی علم ہے جس سے بلب نہیں بن سکتا!بلاشبہ غلطی کا احساس ہو جانے کے بعد اس کو تسلیم کرنے سے صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا اور کلام میں نکھار آتا ہے، لہٰذا اگر ہم اپنی اصلاح کرنا چاہتی ہیں تو غلطیوں کو قبول کرنا سیکھیں، ترقی کے لئے شرط ہے کہ غلطیوں کو تسلیم کر لینے کے بعد اپنی اصلاح کریں۔مشہور کہاوت ہے:”انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے“ اپنی غلطی تسلیم کرنا اپنے آپ کو انسان ماننا ہے، کیونکہ وہ شیطان تھا جس نے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی تھی۔
یہ اعلیٰ ظرفی کی بات ہے کہ انسان اپنی غلطی کو تسلیم کر لے اور تکبر سے جان چھڑا کر عاجزی پیدا کر لے۔
جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے رہتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانے
غلطی مان لینے کے فوائد:
غلطی مان لینے کے اجتماعی و انفرادی دونوں طرح کے فوائد ہیں، مثلاً جب ہم اپنی غلطی مان لیتی ہیں تو گویا بات ہی ختم ہو جاتی ہے یعنی وہ غلطی جس سے ہمارا کوئی ذاتی نقصان ہونا تھا یا اس کی وجہ سے معاشرتی بگاڑ یا لڑائی جھگڑے کی صورت پیدا ہونی تھی صرف ہمارے معذرت کر لینے کی وجہ سے وہ نوبت نہیں آتی اور معاشرے کا سکون برقرار رہتا ہے۔اسی طرح اگر گناہ کے بعد اللہ پاک کی بارگاہ میں اعترافِ جرم کرتے ہوئے اس گناہ سے باز رہنے کا پکا ارادہ کیا جائے تو ایک عجیب دلی سکون بھی ملتا ہے۔ چاہے آپ ساس ہوں،بہو ہوں، بیٹی ہوں،بہن ہوں،بیوی ہوں یا ماں،اگر دوسرں کے ساتھ معاملات میں اگر ہم اپنی غلطی تسلیم کر لیں گی کہ جی ہاں مجھ سے یہ غلطی ہو گئی ہے آئندہ ایسا نہیں کروں گی،تو یوں اپنے معاملات پر غور کر کے اپنی غلطی کو تسلیم کرنے سے ان شاء اللہ گھر اور خاندان میں محبت کی فضا پیدا ہو گی۔
غلطی نہ ماننے کی وجوہات اور حل:
بعض اوقات ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے اور دل و دماغ اس بات کو مانتے بھی ہیں مگر نفس ِ بد نہیں مانتا کہ ہم اپنی غلطی کیسے قبول کر لیں!طرح طرح کی سوچیں آڑے آ تی ہیں کہ میں تو اس سے رتبے میں بڑی ہوں،اگر میں نے مان لیا تو کہیں میری عزت میں کمی نہ آ جائے، میرا وقار مجروح نہ ہو جائے، یا پھر بہو یہ سوچتی ہے کہ ایک بار غلطی کا اعتراف کر لیا تو سسرال والے جینے نہیں دیں گے اور بار بار نیچا دکھانے کے لیے معافیاں منگواتے رہیں گے وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح کی سوچوں اور نفس کی ملامت خیز آوازوں سے چھٹکارے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطی تسلیم کر لینے کے فوائد پر غور کریں اور خود پسندی کے خول سے باہر نکلیں، رہی بات عزت میں کمی اور وقار مجروح ہونے کی تو اس حوالے سے صحابہ کرام کی مثالیں ہمارے لیے موجود ہیں، عبرت و نصیحت کے لیے ان میں سے چند واقعات ملاحظہ فرمائیں، چنانچہ
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسی عورت پیش کی گئی جو شرعی گواہوں اور ثبوتوں کی روشنی میں مجرم قرار پائی تو آپ نے اس عورت کے لئے شریعت کے مطابق فیصلہ بیان فرما دیا مگر اتفاق سے اُس مسئلے کے ایک خاص پہلو کی طرف آپ کی توجہ ہی نہ رہی۔جب مولیٰ علی رضی اللہ عنہ نے اس پہلو کی طرف توجہ دلائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور فرمایا:لَوْ لَا عَلِیٌّ لَھَلَکَ عُمَرُ یعنی اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ ([4])
اسی طرح ایک بار حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے دورانِ خطبہ بہت زیادہ مہر مقرر کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی حق مہر زیادہ مقرر کرے گا تو اضافی مال بیتُ المال میں جمع کروا دیا جائے گا،پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے،ایک عورت آپ کےپاس آکر بولی:اے امیر المومنین!پیروی کی زیادہ حق دار اللہ پاک کی کتاب ہے یا آپ کا فرمان؟فرمایا:کتابُ اللہ۔عورت بولی:ابھی کچھ دیر پہلے ہی آپ نے لوگوں کو منع فرمایا ہے کہ عورتوں کے مہر بہت زیادہ مقرر نہ کرو! حالانکہ اللہ پاک اپنی پاکیزہ کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:
وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْــٴًـاؕ- (پ4،النسآء:20)
( ترجمہ:اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بات سن کر دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمایا:ہر ایک عمر سے بڑھ کر سمجھ دار ہے۔ پھر آپ دوبارہ منبر پر چڑھے اور اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع فرمالیا۔([5])
سبحان اللہ!کوئی حق پہچاننا اور انصاف کرنا حضرت عمر سے سیکھے کہ جہاں کسی نے قرآن و حدیث سے کوئی اصلاح کی بات کی،انہوں نے فوراً مان لی،اپنی بات سے رجوع کر لیا اورکبھی اپنے علم و عدل پر غرور نہ کیا۔صحابہ کرام علیہمُ الرّضوان تو وہ ہستیاں ہیں کہ ان کی خطائیں گویا اُمّت کے لیے عطائیں ہیں،مگر اس کے باوجود وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے میں ہٹ دھرمی سے کام نہ لیتے،یہی حال بعد کے بزرگانِ دین کا بھی رہا،اس کی جھلک دیکھنی ہو تو دورِ حاضر کے ولیِ کامل امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کی عادتِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیے کہ آپ جب بھی(سوال جواب کا سلسلہ) مدنی مذاکرہ فرماتے ہیں تو اس کے شروع میں یہ بھی فرماتے ہیں:آپ سوالات کیجئے، ہر سوال کا جواب اور وہ بھی بِالصَّواب(یعنی بالکل دُرُست) دے پاؤں یہ ضروری نہیں، اگر بھول کرتا پائیں تو فوراً میری اصلاح فرمائیں،مجھے آئیں بائیں شائیں کرتا، اپنے مؤقف پر بلا وجہ اَڑتا نہیں بلکہ شکریہ کے ساتھ رجوع کرتا پائیں گے۔اگر مدنی مذاکرے کے دوران یا ویسے ہی کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو آپ توجہ دلانے پر نہ صرف اس سے رجوع فرماتے ہیں بلکہ ضرورتاً اس کی تشہیر بھی کرتے ہیں تا کہ درست مسئلہ ہر ایک تک پہنچ سکے۔
اپنی غلطی بلاجھجک قبول کرنے سے متعلق بزرگانِ دین کے کثیر واقعات ملتے ہیں، قابلِ غور بات یہ ہے کہ کیا غلطی قبول کرنے کی وجہ سے ان کا معاذ اللہ رتبہ کم ہو گیا یا لوگوں کی نظروں میں مقام و مرتبہ گھٹ گیا؟ ہرگز نہیں!بلکہ اس سے ان کی شان و شوکت اور عقیدت و محبت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔
غلطی قبول نہ کرنے کی ایک بہت بڑی وجہ تکبر،گھمنڈ اور سرکشی جیسے باطنی امراض بھی ہیں،ان کا علاج ان کی کاٹ کرنا ہے اور ان کی کاٹ یوں ہو گی کہ شیطان کا انجام ذہن میں لائیے کہ بدبخت تکبر کی وجہ سے ہی سرکش ہوا اور لعنتی ٹھہرا۔اسی طرح خود کو نیک اور معزز سمجھنا اور لوگوں کی پروا کرنا وغیرہ اسباب غلطی قبول کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں ان کو دور کرنا چاہیے۔
بعض خواتین یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ مجھ سے تو کوئی غلطی ہوئی نہیں معافی کس چیز کی مانگوں؟یا کہتی ہیں کہ فلاں معاملہ آپ کے سامنے ہے میں کہاں غلط ہوں؟ جب ان کو ان کی غلطی بتائی جائے تو الٹے سیدھے دلائل دینا شروع کر دیتی ہیں،لہٰذا بات بننے کے بجائے بگڑتی ہے۔ایسا کرنے والیوں میں وہ بھی ہوتی ہیں جن کا معاشرے میں کوئی مقام یا منصب ہوتا ہے،جیسے مُبَلِّغَہ،مُدَرِّسہ یا کسی کمیٹی یا ادارے کی عہدیدار وغیرہ، ان کا عہدہ و منصب بھی غلطی قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔چنانچہ ایسی تمام خواتین کو یہ کرنا چاہیے کہ جہاں کہیں خود کو خطا وار پائیں تو اپنے عہدہ و منصب کی پروا کیے بغیر اپنی اصلاح کی خاطر فوراً اپنی خطا کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا اظہار بھی کریں۔اگرچہ شروع میں یہ ایک مشکل کام ہو گا مگر ایک بار اپنے ضمیر کی آواز پر لَبَّیْک کہتے ہوئے یہ کر کے تو دیکھیے ان شاء اللہ یہ آسان ہو ہی جائے گا۔اس کے علاوہ علم حاصل کیجئے،بزرگوں کے واقعات اور قرآن و احادیث کا مطالعہ کیجئے، عاشقاتِ رسول کی صحبت اختیار کیجئے ان شاء اللہ غلطی تسلیم کرنا ایک معمولی بات لگے گی، ورنہ دشمن تو گھات لگائے بیٹھا ہے کہ ہمیں دوزخ کی طرف دھکیل دے۔
ہمیں چاہیے کہ چھوٹے بچوں کی بھی اسی انداز سے تربیت کریں کہ جب بہن بھائیوں میں کوئی ایک زیادتی کر جائے تو اسے معافی مانگنے کا ذہن دے کر اور اس کے فضائل بتا کر معافی منگوائیں۔یوں ہی غلطی تسلیم کر لینے والے بچے کو ڈانٹنے کے بجائے اُس کی حوصلہ افزائی کریں بلکہ اُس کو سچ بات کہنے اور معافی مانگنے پر کوئی تحفہ بھی پیش کریں۔یوں بچپن سے ہی غلطی تسلیم کر لینے اور معافی مانگنے کا ذہن بن جائے گا۔
اللہ پاک ہمیں اپنی غلطی ماننے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی تمام چیزوں مثلاً شرم، تکبر اور سستی کو دور کرنے اور اپنی غلطی مان لینے کی توفیق عطا فرمائے۔آخرت کی شرمندگی سے محفوظ فرمائے اور دنیا میں ہی توبہ ہم پر آسان فرما دے۔
اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن انٹرنیشنل افئیرز ڈیپارٹمنٹ
[2] بہار شریعت، 1/88، حصہ:1
[3] بہار شریعت، 1/39،38،حصہ:1
[4] الاستیعاب،3/206ملخصاً
[5] سنن کبریٰ للبیہقی، 7 / 380،رقم:14336
Comments