63نیک اعمال (نیک عمل نمبر44)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


63 نیک اعمال

(نیک عمل نمبر 44)

اسلام ایک ایسا کامل اور رحمت بھرا دین ہے جو ہر مسلمان کی عزت،آبرو اور حرمت کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔اسی لیے اگر کسی مسلمان،بالخصوص کسی ذمہ دار یا دینی خدمت انجام دینے والے فرد سے کوئی لغزش ہو جائے تو اسلام اس کی اصلاح، خیر خواہی اور عیب پوشی کا حکم دیتا ہے،نہ کہ اس کی غلطی کو دوسروں میں بیان کر کے اسے رسوا کیا جائے۔ افسوس!آج کل اصلاح کے بجائے دوسروں کی کمزوریاں بیان کرنا،انہیں موضوعِ گفتگو بنانا اور ایک سے دوسرے تک ان کی باتیں پہنچانا عام ہوتا جا رہا ہے،حالانکہ اگر یہ بات اس کی عدم موجودگی میں اس انداز سے کہی جائے جو اسے ناگوار گزرے تو یہی غیبت ہے،جسے قرآنِ کریم نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دیتے ہوئے ذکر کیا  ہے:

وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ- (پ26،الحجرات:12)

ترجمہ:اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں نا پسند ہو گا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

غیبت ایسا سنگین گناہ ہے جو نہ صرف نیک اعمال کو ضائع کرتا ہے بلکہ مسلمانوں کے باہمی اعتماد،محبت اور اخوت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔اس لیے اگر کسی اسلامی بہن یا ذمے دار سے کوئی قابلِ اصلاح بات صادر ہو جائے تو سب سے پہلے نرمی،حکمت اور خیرخواہی کے ساتھ خود سمجھانے کی کوشش کی جائے۔اگر خود اصلاح کرنی ممکن نہ ہو یا تنظیمی نقصان کا خطرہ ہو تو شرعی و تنظیمی اصولوں کے مطابق متعلقہ ذمہ دار تک بات پہنچائی جائے، نہ کہ ہر ایک کے سامنے اس کا ذکر کر کے غیبت جیسے کبیرہ گناہ میں مبتلا ہوا جائے۔

اسی مقصد کے پیشِ نظر امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ نے 63 نیک اعمال کے رسالے میں نیک عمل نمبر 44 عطا فرمایا ہے، تاکہ ہم اصلاح بھی کریں اور غیبت جیسے مہلک گناہ سے بھی محفوظ رہیں۔وہ نیک عمل یہ ہے:

کسی ذِمّے دار(یا عام اسلامی بہن سے)برائی صادر ہو جائے اور اصلاح کی ضرورت محسوس ہو تو تحریری طور پر بذریعہ میسج یا براہِ راست مل کر(دونوں صورتوں میں نرمی کیساتھ) سمجھانے کی کوشش فرمائی،یا معاذَ اللہ بلا اجازتِ شرعی کسی اور پر اظہار کر کے غیبت کا گناہِ کبیرہ کر بیٹھیں؟ہاں!خود سمجھانے کی جرأت نہ ہو،یا ناکامی کی صورت میں تنظیمی طریقۂ کار کے مطابق مسئلہ حل کرنےمیں کوئی حرج نہیں۔(جبکہ اُس کی بُرائی دعوتِ اسلامی کے لئے نقصان دہ ہو)

اس نیک عمل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے غیبت کو نہایت سنگین گناہ قرار دیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابۂ کرام نے عرض کی:اللہ پاک اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:تیرا اپنے مسلمان بھائی کا وہ عیب بیان کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔عرض کی گئی:اگر وہ عیب میرے بھائی میں موجود ہو؟فرمایا:اگر وہ عیب اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔([1])

غیبت ایسا مہلک گناہ ہے جو نہ صرف انسان کی نیکیوں کو ضائع کرتا ہے بلکہ گھروں،خاندانوں،برادریوں اور معاشرے کے امن و سکون کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔بسا اوقات اسی کی وجہ سے محبتیں نفرتوں میں،اعتماد بداعتمادی میں اور خیرخواہی دشمنی میں بدل جاتی ہے۔حضور نے معراج کی رات ایسے مردوں اور عورتوں  کو دیکھا جو اپنی چھاتیوں کے ساتھ لٹکے ہوئے تھے۔آپ نے حضرت جبرئیل علیہ السّلام  سے پوچھا:یہ کون ہیں؟عرض کی:یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں پر عیب لگاتے اور ان کی پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے تھے اور ان کے  متعلق  اللہ  پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ﹰۙ (۱)(پ30،الھمزۃ:1)

(ترجمہ:اس کے لیے خرابی ہے جو لوگوں  کے منہ پر عیب نکالے،پیٹھ پیچھے برائی کرے۔)([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

غیبت کی قباحت کو مزید جاننے کے لیے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی نہایت سبق آموز ہے۔ایک سفر میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ دو افراد کے ساتھ تھے۔کسی عذر کی بنا پر ان کے لیے کھانے کا انتظام نہ ہو سکا تو ان دونوں نے حضرت سلمان اور حضرت اسامہ کی غیبت کی۔جب وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا:میں تمہارے منہ میں گوشت کے آثار دیکھ رہا ہوں۔انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ!ہم نے تو گوشت نہیں کھایا۔ارشاد فرمایا:تم دونوں سلمان اور اسامہ کا گوشت کھاتے رہے ہو۔(یعنی تم نے ان کی غیبت کی ہے۔)([3])

حضرت حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں کسی نے عرض کی:مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ میری غیبت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا:میرے نزدیک تمہاری اتنی اہمیت بھی نہیں کہ میں اپنی نیکیاں تمہیں دے دوں۔([4])

واقعی غیبت ایسا گناہ ہے جس میں انسان دوسروں کی برائیاں بیان کر کے اپنی ہی نیکیوں کا سرمایہ ضائع کرتا ہے۔لہٰذا اگر کسی اسلامی بہن یا ذمہ دار سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس کی تشہیر کرنے یا دوسروں سے اس کا ذکر کرنے کے بجائے نرمی، حکمت اور خیرخواہی کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر خود سمجھانا ممکن نہ ہو یا سمجھانے کے باوجود اصلاح نہ ہو اور اس کی برائی دعوتِ اسلامی کے لیے نقصان دہ ہو تو شرعی اجازت اور تنظیمی طریقۂ کار کے مطابق متعلقہ ذمہ دار کو آگاہ کیا جائے، لیکن غیبت جیسے کبیرہ گناہ سے ہر حال میں بچا جائے۔

یاد رکھیے!صبر،حلم اور نرمی وہ اوصاف ہیں جن سے بگڑے ہوئے معاملات بھی سنور جاتے ہیں۔حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں:ہم بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے کہ ایک بدبو پھیلی۔ حضور نے فرمایا:جانتے ہو یہ بدبو کس چیز کی ہے؟پھر خود ہی ارشاد فرمایا:یہ ان لوگوں کی بدبو ہے جو مومنوں کی غیبت کرتے ہیں۔ ([5])  اس لیے ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اصلاح کے نام پر غیبت میں مبتلا ہونے سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔

اللہ پاک کے پیارے و آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صبر، حلم اور حسنِ اخلاق کا کامل نمونہ تھے۔حضور نے بدلہ لینے کے بجائے اصلاح،عفو اور خیرخواہی کو اختیار فرمایا۔ہمیں بھی چاہیے کہ حضور کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے دوسروں کی پردہ پوشی کریں،نرمی کے ساتھ نیکی کی دعوت دیں اور امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ  کے عطا کردہ 63 نیک اعمال کے رسالے پر عمل کی کوشش کریں۔ان شاء اللہ اس کی برکت سے ہماری زبان غیبت سے محفوظ،ہمارا دل اخلاص سے معمور اور ہمارا معاشرہ محبت،خیرخواہی اور اسلامی اخوت کا گہوارہ بن جائے گا۔

اللہ ہمیں جھوٹ سے غیبت سے بچانا مولیٰ ہمیں قیدی نہ جہنم کا بنانا

اے پیارے خدا از پئے سلطانِ زمانہ               جنت کے محلات میں تو ہم کو بسانا



[1] مسلم،ص1071،حدیث:6593

[2]شعب الایمان،5/309،حدیث:6750

[3] تفسیر خازن،4/ 170 ملتقطاً

[4] احیاء علوم الدین،3/183،دوزخ کے کتے،ص8

[5] موسوعہ لابن ابی الدنیا،4/364،رقم:70


Share