شرح شجرہ قادریہ، رضویہ، ضیائیہ،عطاریہ(قسط:11)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 11)

11

طُورِ عرفان و عُلُوّ و حَمْد و حُسنےٰ و بَہا

دے علی،موسیٰ،حَسَن،اَحمد،بَہا کے واسطے

مشکل الفاظ کے معنی:عرفان:پہچان۔علو:بلندی۔حمد:تعریف، خوبی۔ حسنیٰ:حسن،خوبصورتی،بھلائی۔بہا:چمک،نور۔

مفہومِ شعر:اےاللہ!شیخ علی بغدادی کا واسطہ!مجھے دونوں جہاں میں بلندی عطا فرما،شیخ موسیٰ کے صدقے اپنی پہچان میں بلند مقام،شیخ حسن  کے وسیلے سے بھلائیاں،شیخ احمد کے وسیلے سے نیک وقابلِ تعریف صفات اور شیخ بہاؤ الدین کے صدقے دنیا و آخرت میں دل و ایمان کا نور عطا فرما۔

حضرت شیخ علی بغدادی:

آپ کی ولادت بغداد شریف میں ہوئی۔ آپ کا نام علی اور لقب زبدۃ الاصفیاء تھا۔آپ کا تعلق حضور غوثِ اعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃُ اللہ علیہکے عالی نسب خاندان سے تھا۔ابتدائی تعلیم اپنے والد سید محی الدین ابو نصر رحمۃُ اللہ علیہ سے حاصل کی۔آپ علومِ ظاہری و باطنی کے جامع،جید عالم،محدث اور ممتاز مناظر تھے۔مدرسۂ قادریہ کے متولی اور قاضی القضاۃ (چیف جسٹس)کے منصب پر بھی فائز رہے۔اعلیٰ اخلاق،عاجزی اور شریعتِ مطہرہ کی پابندی آپ کا نمایاں وصف تھا۔آپ کا وصال 23 شوال 739ھ (1339ء) میں بغداد شریف میں ہوا،جہاں مزارِ مبارک مرجعِ خلائق ہے۔

حضرت میر سید موسیٰ:

آپ کا نام موسیٰ اور القابات شیخ المشائخ اور جامعُ الفضائل ہیں۔آپ کی ولادت بغداد شریف میں ہوئی۔آپ تقویٰ،عبادت،ریاضت،ذکر و فکر،عجز و انکساری اور حسنِ اخلاق کے پیکر تھے۔ظاہر وباطن دونوں اعتبار سے بلند روحانی مراتب کے مالک تھے۔آپ کی خانقاہ رشد وہدایت کا عظیم مرکز تھی جہاں سے بے شمار طالبانِ حق نے علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔آپ کا وصال 13 رجب 763ھ میں ہوا اور مزارِ مبارک بغداد شریف میں مرجعِ خلائق ہے ۔

حضرت شیخ حسن بغدادی:

آپ کا نام حسن اور لقب شیخ الوقت تھا۔ آپ کی ولادت بغداد شریف میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد میر سید موسیٰ سے حاصل کی،انہی سے تفسیر،حدیث،فقہ اور تصوف پڑھا،بیعت کی اور خلافت پائی۔آپ علم وفضل،زہد و تقویٰ، حسنِ اخلاق اور شفقت میں ممتاز تھے۔آپ کی مجلس میں آنے والے آپ کے اخلاق سے متاثر ہو کر تائب ہو جاتے۔آپ کا وصال 26 صفر المظفر 781ھ میں بغداد شریف میں ہوا۔

سید احمد جیلانی:

آپ کا نام احمد اور القاب امامُ الطریقت اور زبدۃُ العارفین تھے۔آپ کی ولادت بغداد شریف میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے والد سے حاصل کی اور علومِ شریعت کے ساتھ طریقت و تزکیۂ نفس کی منازل بھی کم عمری میں طے کیں۔ مجاہدات، عبادات اور ریاضت کے بعد خلافت سے سرفراز ہوئے۔آپ زاہد، عابد،باوقار اور صاحبِ علم بزرگ تھے اور بیشتر وقت عبادت میں گزارتے تھے۔آپ کا وصال 19محرم الحرام 853ھ میں بغداد شریف میں ہوا۔

شیخ بہاؤالدین شطاری:

آپ کا نام بہاؤ الدین اور القاب قطبِ وقت اور شیخ المشائخ تھے۔آپ کی ولادت ہند کے شہر جنید میں ہوئی۔آپ نے نہایت شوق سے علومِ دینیہ حاصل کیے اور اپنے دور کے جلیل القدر عالم، ممتاز فقیہ اور صاحبِ کرامت بزرگ بنے۔عمدہ خوشبو سونگھتے ہی آپ پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔منقول ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نہایت نفیس خوشبو لے کر حاضر ہوا،اسی خوشبو کے اثر سے آپ کا وصال ہوا۔آپ کا وصال 11 ذو  الحجۃ الحرام 921ھ کو ہوا۔مزارِ مبارک دولت آباد،دکن میں مرجعِ خلائق ہے۔([1])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* کراچی



[1] تذکرہ ٔمشائخ قادریہ رضویہ،ص 282،279


Share