موضوع:تسبیحِ فاطمہ
سیدہ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گھر کے تمام کام اپنے مبارک ہاتھوں سے انجام دیتی تھیں۔چکی پیستیں،پانی بھر کر لاتیں،گھر کی صفائی کرتیں اور کھانا بھی خود پکاتیں۔ان کاموں کی مشقت سے آپ کے جسم اور لباس پر اس کے آثار نمایاں ہو جاتے تھے،مگر آپ صبر و استقامت کے ساتھ یہ ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت میں غلام آئے،جب یہ خبر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ملی تو آپ بارگاہِ رسالت میں خادم مانگنے کے لئے حاضر ہوئیں،تو حضور نے ارشاد فرمایا:کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟فرمایا:جب سونے کیلئے بستر پر جاؤ تو 33 مرتبہ سبحان اللہ،33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو(یہ تمہارے لئے غلام سے بہتر ہے۔)([1])
معلوم ہوا!ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سیدہ خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا کو تسبیحِ فاطمہ کی صورت میں ایسا عظیم روحانی تحفہ عطا فرمایا جس کے بارے میں خود ارشاد فرمایا:یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مومن کی حقیقی قوت صرف ظاہری وسائل میں نہیں بلکہ اللہ پاک کے ذکر میں ہے۔یہی ذکر دل کو سکون،روح کو تازگی،جسم کو طاقت اور زندگی کو برکت عطا کرتا ہے۔لہٰذا ہر اسلامی بہن کو چاہیے کہ اس عظیم نبوی تحفے کی قدر کرے اور سونے سے پہلے تسبیحِ فاطمہ کو اپنا معمول بنا لے۔اگرچہ مذکورہ حدیثِ مبارک میں سونے سے پہلے تسبیحِ فاطمہ پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے،تاہم دیگر احادیث میں فرض نمازوں کے بعد بھی اس ذکر کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔لہٰذا ہر اسلامی بہن کو چاہیے کہ پانچوں نمازوں کے بعد بھی 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد للہ،33 مرتبہ اللہ اکبر پڑھ کر آخر میں ایک مرتبہ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ پڑھنے کی عادت بنائے۔حدیثِ پاک میں اس کی یہ فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اس ذکر کی برکت سے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں،اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ ([2])
تسبیحِ فاطمہ پڑھنے کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ اسے حتی المقدور ہاتھ کی انگلیوں پر شمار کیا جائے۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے: تم پر تسبیح،تہلیل اور تقدیس لازم ہے اور انہیں انگلیوں کے پوروں پر شمار کرو،کیونکہ انہی سے سوال کیا جائے گا اور انہیں قوتِ گویائی عطا کی جائے گی،اور غفلت نہ کرنا،ورنہ تم رحمت سے محروم کر دی جاؤ گی۔([3]) بہتر ہے کہ تسبیح سیدھے ہاتھ پر پڑھی جائے کہ حضور سے سیدھے ہاتھ پر تسبیح شمار کرنا بھی ثابت ہے۔([4]) البتہ! الٹے ہاتھ پر شمار کرنا بھی ناجائز نہیں۔
یہ شرعی مسئلہ بھی یاد رکھیے کہ جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں نہیں ہوتیں،ان کے بعد طویل اذکار وتسبیحات پڑھنے میں کوئی حرج نہیں،لیکن جن فرضوں کے بعد سنتیں بھی ہوتی ہیں، ان میں پہلے سنتیں ادا کی جائیں،پھر فرصت سے اذکار وتسبیحات پڑھی جائیں۔لہٰذا تسبیحِ فاطمہ پڑھنے میں بھی اسی ترتیب کا لحاظ رکھا جائے۔اللہ پاک ہمیں تسبیحِ فاطمہ کو اپنی زندگی کا مستقل معمول بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی
[1]کتاب الدعاء للطبرانی،ص94،حدیث:231
[2]مسلم،ص237،حدیث:597
[3]ترمذی،5/ 338،حدیث:3594
[4]سنن کبری للبیہقی،2/267،رقم:3027

Comments