موضوع:حضرت داود علیہ السلام کے معجزات و عجائبات (قسط2)
(شعبہ ماہنامہ خواتین)
اللہ پاک نے حضرت داود علیہ السّلام کو جہاں نبوت عطا فرمائی وہیں ایسی عظیم سلطنت،بے مثال حکمت،غیر معمولی قوتِ فیصلہ اور کئی معجزات سے بھی نوازا جو آپ کی نبوت کی سچائی اور اللہ پاک کی خصوصی تائید کی روشن نشانیاں تھیں۔آپ انصاف پسند بادشاہ بھی تھے،بہترین فیصلے کرنے والے قاضی بھی اور اللہ پاک کے بہت عبادت گزار بندے بھی۔قرآنِ کریم نے بھی آپ کے عدل،حکمت،عبادت،اچھی آواز،تسخیرِ کائنات اور دیگر خصوصی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔
حضرت داود علیہ السّلام کی زندگی میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جن میں اللہ پاک کی خاص مدد اور قدرت کی حیرت انگیز نشانیاں نظر آتی ہیں۔کبھی اللہ پاک نے حق کو ظاہر کرنے کے لیے غیر معمولی طریقہ اختیار فرمایا،کبھی غیبی راہ نمائی سے انصاف قائم ہوا،کبھی پہاڑ اور پرندے آپ کے ساتھ اللہ پاک کی تسبیح کرنے لگے اور کبھی سخت لوہا آپ کے ہاتھ میں موم کی طرح نرم ہوگیا۔آپ کی عبادت،محنت اور اللہ پاک پر بھروسا ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ذیل میں حضرت داود علیہ السّلام کے انہی معجزات،کمالات اور ایمان افروز واقعات کا ذکر کیا جا رہا ہے:
اوّل:عدل وحکمت کے حیرت انگیز مظاہر:
اللہ پاک نے حضرت داود علیہ السّلام کو بے مثال سمجھ بوجھ اور صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔آپ ہر مقدمہ بڑی توجہ اور انصاف کے ساتھ سنتے تھے۔بعض اوقات اللہ پاک غیبی راہ نمائی کے ذریعے بھی حق کو ظاہر فرما دیتا تھا۔درج ذیل واقعات اس کی واضح مثال ہیں:
حق کی پہچان کے لیے آسمانی زنجیر:
حضرت وہب بن منبہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل میں برائی اور جھوٹی گواہیاں عام ہوگئیں تو اللہ پاک نے حضرت داود علیہ السّلام کو سونے کی ایک زنجیر عطا فرمائی جو آسمان سے بیت المقدس کی ایک چٹان تک لٹکی ہوئی تھی۔جب دو آدمیوں کے درمیان کسی حق کا جھگڑا ہوتا تو صرف وہی شخص اس زنجیر تک پہنچ سکتا تھا جو سچا ہوتا،جبکہ جھوٹا شخص اس تک نہیں پہنچ پاتا تھا۔یہ سلسلہ ایک مدت تک جاری رہا،یہاں تک کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے دوسرے کے پاس ایک قیمتی موتی امانت رکھوایا،بعد میں جب اس نے اپنا موتی واپس مانگا تو امانت دار نے انکار کردیا۔اس نے چالاکی سے وہ موتی اپنی لاٹھی کے اندر چھپا دیا۔پھر دونوں حضرت داود علیہ السّلام کے پاس پہنچے۔پہلے دعوی کرنے والے نے زنجیر پکڑ لی۔پھر دوسرے شخص سے کہا گیا کہ وہ بھی اسے پکڑے۔اس نے اپنی لاٹھی، جس کے اندر موتی چھپا ہوا تھا، دعوی کرنے والے کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا:اے اللہ!تو جانتا ہے کہ میں یہ اس کے حوالے کر چکا ہوں۔اس کے بعد اس نے بھی زنجیر پکڑ لی اور وہ بھی اس تک پہنچ گیا۔اس حیلہ سازی سے سب لوگ حیران رہ گئے۔چنانچہ اللہ پاک نے وہ زنجیر ان کے درمیان سے اٹھا لی۔([1]) یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جب قومیں عدل و امانت کو چھوڑ کر دھوکا اور حیلہ سازی کو اپنا شعار بنا لیتی ہیں تو اللہ پاک اپنی خصوصی نعمتیں واپس لے لیتا ہے اور ایسے غیر معمولی اسباب بھی باقی نہیں رہتے جن سے حق خود بخود ظاہر ہوجایا کرتا تھا۔
غیبی راہ نمائی سے قاتل بے نقاب ہوگیا:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے حضرت داود علیہ السّلام کی خدمت میں دوسرے شخص کے خلاف ایک گائے کا دعویٰ کیا،مگر دوسرے شخص نے اس کا انکار کر دیا ۔ گواہوں کا مطالبہ کیا گیا لیکن کوئی گواہ موجود نہ تھا۔ حضرت داود علیہ السّلام نے دونوں سے فرمایا:تم جاؤ،میں تمہارے معاملے میں غور کرتا ہوں۔چنانچہ وہ دونوں چلے گئے۔اس رات حضرت داود علیہ السّلام نے خواب میں دیکھا کہ اللہ پاک کی طرف سے اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے جس پر دعویٰ کیا گیا تھا۔ آپ نے سوچا کہ شاید یہ صرف ایک خواب ہو،اس لیے کوئی فیصلہ نہ کیا۔دوسری رات پھر یہی حکم ملا،لیکن آپ نے پھر بھی انتظار کیا۔تیسری رات دوبارہ یہی حکم دیا گیا۔ساتھ یہ تنبیہ بھی فرمائی گئی کہ اگر اس حکم پر عمل نہ کیا تو اللہ پاک کی طرف سے گرفت ہوگی۔اب حضرت داود علیہ السّلام نے اس شخص کو بلا کر فرمایا:اللہ پاک نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قتل کر دوں۔ وہ شخص حیران ہو کر بولا:کیا آپ مجھے بغیر گواہ اور ثبوت کے قتل کریں گے؟آپ نے فرمایا:اللہ پاک کی قسم!میں اس کے حکم کو ضرور نافذ کروں گا۔یہ سن کر وہ شخص گھبرا گیا اور بولا: میں اس گائے کے معاملے میں تو بے قصور ہوں،البتہ!ایک اور جرم ضرور کیا ہے۔میں نے اس شخص کے والد کو دھوکے سے قتل کیا تھا۔آج اسی جرم کی سزا میرے سامنے آگئی ہے۔یوں قاتل نے خود اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔چنانچہ حضرت داود علیہ السّلام نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا اور اس پر حد نافذ کردی۔اس واقعے کے بعد بنی اسرائیل کے دلوں میں حضرت داود علیہ السّلام کی عظمت اور ہیبت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی اور آپ کی حکومت مزید مضبوط ہوگئی۔([2])
ایک عجیب مقدمہ اور انوکھی تربیت:
حضرت داود علیہ السّلام کے سامنے ایک ایسا مقدمہ بھی پیش آیا جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے۔یہ عام مقدمہ نہیں تھا بلکہ اللہ پاک کی طرف سے آپ کی تربیت اور توجہ دلانے کا ایک خاص انداز تھا۔اس کی تفصیل میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت داود علیہ السّلام نے ایک ایسے معاملے میں جلدی فرمائی جو اگرچہ شریعت کے خلاف نہ تھا،لیکن ایک جلیل القدر نبی کے بلند مقام کے لحاظ سے بہتر یہی تھا کہ اس سے بچا جاتا۔ اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی کو اسی بات کی طرف متوجہ فرمانا چاہا۔ چنانچہ اللہ پاک نے دو فرشتوں کو انسانی شکل میں آپ کے پاس بھیجا۔وہ دروازے سے آنے کے بجائے دیوار پھلانگ کر عبادت گاہ میں داخل ہوئے۔انہیں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر آپ چونک گئے تو انہوں نے عرض کی:گھبرائیں نہیں،ہم دو فریق ہیں۔ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔آپ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں اور حق سے ہٹنے نہ دیں۔پھر ان میں سے ایک نے کہا:یہ میرا بھائی ہے۔اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے۔اب یہ کہتا ہے کہ اپنی ایک دنبی بھی مجھے دے دو اور بات کرتے وقت مجھ پر دباؤ بھی ڈالتا ہے۔حضرت داود علیہ السّلام نے دوسرے فریق کی بات سنے بغیر فرمایا:اس نے تمہاری ایک دنبی مانگ کر یقیناً تم پر زیادتی کی ہے۔اکثر شریک ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، البتہ! جو ایمان والے اور نیک عمل کرنے والے ہیں،وہ ایسا نہیں کرتے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔فیصلہ زبان پر آتے ہی آپ کو احساس ہوگیا کہ یہ ایک عام مقدمہ نہیں بلکہ اللہ پاک کی طرف سے تنبیہ ہے۔آپ فوراً اللہ پاک کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے،اپنے رب سے معافی مانگی اور اس کی طرف رجوع کیا۔اللہ پاک نے اپنے فضل سے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو بخش دیا۔([3])
مقدمے کی توجیہ:
فرشتوں کے اس فرضی مقدمے میں حضرت داود علیہ السّلام کی شان میں کوئی کمی نہیں تھی۔اس کا مقصد صرف آپ کو ایک نہایت لطیف انداز میں متوجہ کرنا تھا۔اللہ پاک نے اپنے نبی کی اصلاح کے لیے ایسا طریقہ اختیار فرمایا جس میں ادب بھی تھا اور عزت بھی۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک کے مقرب بندوں سے اگر کوئی معمولی سی لغزش، یعنی خلافِ اولیٰ بھی ہوجائے تو اللہ پاک انہیں فوراً متوجہ فرما دیتا ہے۔پھر انبیا علیہمُ السّلام بھی کمالِ عاجزی کے ساتھ اپنے رب کی بارگاہ میں جھک جاتے ہیں اور اس کی رضا حاصل کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی بزرگ یا دینی راہ نما کی کوئی معمولی غلطی نظر آئے تو اس پر تنقید اور اعتراض کے بجائے ادب اور خیرخواہی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
کائنات بھی آپ کی ہم نوا تھی:
اللہ پاک نے حضرت داود علیہ السّلام کو صرف عدل وحکمت ہی نہیں عطا فرمائی،بلکہ ایسے عظیم معجزات بھی عطا فرمائے جنہیں دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے تھے۔آپ کی دلنشین آواز،پہاڑوں اور پرندوں کا آپ کے ساتھ تسبیح کرنا اور اللہ پاک کی عطا کردہ دیگر نعمتیں آپ کی نبوت کی روشن نشانیاں تھیں۔
بے مثال خوش آوازی:
زبور شریف وہ آسمانی کتاب ہے جو اللہ پاک نے حضرت داود علیہ السّلام پر نازل فرمائی۔اس میں 150 سورتیں ہیں۔اس کا زیادہ تر حصہ دعاؤں،مناجات اور اللہ پاک کی حمد و ثنا پر مشتمل ہے۔اس میں حلال و حرام،فرائض اور شرعی احکام بیان نہیں کیے گئے۔([4])چنانچہ جب حضرت داود علیہ السّلام زبور شریف کی تلاوت فرماتے تو سننے والوں کے دل نرم ہو جاتے۔یہی نہیں،پہاڑ بھی آپ کے ساتھ اللہ پاک کی تسبیح کرتے اور پرندے جوق در جوق آپ کے گرد جمع ہو جاتے۔وہ اتنے قریب آ جاتے کہ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے پکڑ کر پیار کرتے تھے۔([5]) کیونکہ امام اوزاعی رحمۃُ اللہ علیہفرماتے ہیں کہ حضرت داود علیہ السّلام کو ایسی خوش آوازی عطا کی گئی تھی جو کسی اور کو نہیں ملی۔جب آپ زبور شریف پڑھتے تو چرند پرند آپ کے گرد جمع ہو جاتے۔وہ آپ کی تلاوت میں اس قدر مگن ہو جاتے کہ انہیں بھوک اور پیاس کا بھی احساس نہ رہتا۔([6]) بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اللہ پاک نے آپ کی آواز میں ایسا اثر رکھا تھا کہ جب آپ زبور شریف کی تلاوت فرماتے تو جاری پانی بھی رک جاتا اور درختوں کے پتے جھڑنے لگتے،([7])یوں محسوس ہوتا جیسے پوری کائنات اپنے نبی کے ساتھ اللہ پاک کی تسبیح میں شریک ہو۔
حضرت داود علیہ السّلام کی خوش آوازی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس کا ذکر بڑی محبت سے فرمایا۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات حضور نے میری تلاوت سنی۔صبح مجھے فرمایا: اے ابوموسیٰ!تمہیں آلِ داود کی خوش آوازوں میں سے ایک آواز عطا کی گئی ہے۔حضرت ابوموسیٰ نے عرض کی:یا رسول اللہ! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ میری تلاوت سن رہے ہیں تو میں اسے اور بھی خوبصورت انداز میں پڑھتا۔ ([8]) ایک روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا:اے ابو موسیٰ! کاش! تم مجھے اس وقت دیکھتے جب میں پوری توجہ سے تمہاری قراءت سن رہا تھا۔ بے شک تمہیں آلِ داود کی خوش آوازوں میں سے ایک آواز عطا کی گئی ہے۔([9])
حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت داود علیہ السّلام ستر آوازوں سے زبور شریف کی تلاوت فرماتے تھے۔بعض اوقات آپ کی تلاوت سن کر بیمار بھی وجد میں آ جاتے تھے۔جب آپ رقت کے ساتھ تلاوت فرماتے تو خشکی اور سمندر کے جانور خاموش ہو کر سنتے اور گویا رونے لگتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ آپ کی مجلس سے کئی جنازے اٹھتے تھے، ([10]) کیونکہ بعض لوگ اللہ پاک کے خوف اور اس کی محبت میں جان دے دیتے تھے۔
[1] البدایۃ والنہایۃ،1/458
[2] تفسیر روح المعانی،23/234
[3] تفسیر خازن،4/35 ملخصاً- سیرت الانبیاء،ص 685 تا 687 ملتقطاً
[4] تفسیر خازن،3/178
[5] تفسیر کبیر،9/374 مفہوماً
[6] البدایۃ والنہایۃ،1/456
[7] تذکرۃ الانبیاء،ص 353 ملخصاً
[8] صحیح ابن حبان،9/163،حدیث:7153
[9] مسلم،ص 310،حدیث:1852
[10] تفہیم البخاری،7/801
Comments