حضرت شعیب  علیہ السلام کے معجزات و عجائبات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضرت شعیب علیہ السلام کے معجزات و عجائبات

اللہ پاک کے پیارے نبی حضرت شعیب علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے مدین کی اولاد میں سے ہیں۔مدین نے حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی جناب ریتا سے نکاح کیا یوں آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے اور حضرت لوط علیہ السلام کے نواسے ہیں۔نیزآپ جنابِ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خسر بھی ہیں۔([1])یعنی آپ کو مذکورہ تینوں انبیائے کرام علیہم السلام سے گہری قرابت حاصل ہے۔قرآن ِکریم کی پانچ سورتوں میں تفصیل کے ساتھ آپ اور آپ کی قوم کا ذکر کیا گیا ہے۔حضرت شعیب علیہ السلام اچھا کلام کرنے اور اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرنے میں کمالِ فصاحت کی وجہ سے  خطیبُ الانبیا کے لقب سے جانے جاتے ہیں اور نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم بھی آپ کو خطیب الانبیا کے لقب سے ہی یاد فرماتے تھے۔([2]) نیز آپ کا شمار ان چار انبیائے کرام میں ہوتا ہے جو عربی تھے ۔([3])

دیدارِ الٰہی کے شوق میں رونا:

آپ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ بہت کثرت سے گریہ و زاری فرماتے تھے یہاں تک کہ روتے روتے آپ کی بینائی چلی گئی، پھر اللہ پاک نے بینائی واپس لوٹا دی اور فرمایا: اے شعیب!تمہارا یہ رونا جنت کے شوق میں ہے یا پھر جہنم کے خوف سے؟عرض کی:مولا!تُو تو جانتا ہی ہے کہ میرا رونا نہ شوقِ جنت میں ہے نہ خوفِ دوزخ سے، بلکہ میں تو  دل سےتیری محبت کا طلبگار ہوں، اگر یہ مجھے نصیب ہو جائے تو کسی چیز کی پروا نہیں۔اللہ پاک نے آپ کی طرف وحی فرمائی:اے شعیب!اگر ایسا ہی ہے تو تجھے میری ملاقات کی خوش خبری ہو۔اے شعیب!اسی لیے میں نے اپنے کلیم موسیٰ بن عمران کو تیرا خادم بنا دیا ہے۔([4])

حضرت شعیب علیہ السلام کا تعلق اہلِ مدین سے تھا۔اللہ پاک نے آپ کو دو قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا:ایک اہلِ مدین اور دوسرے اصحابُ الایکہ۔ایک قول کے مطابق اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلام کے علاوہ کسی نبی کو دو بار نہیں بھیجا فرمایا۔ ([5])اہلِ مدین اور اصحابِ ایکہ دونوں قومیں چونکہ بین الاقوامی شاہراہ کے قریب اور تجارت پیشہ تھیں لہٰذا ان کے جرائم بھی تقریباً ایک ہی طرح کے تھے،ان کے جرائم کی لمبی فہرست میں سے دو بڑے اور بنیادی گناہ جو ان کی ہلاکت کا سبب بنے ایک تو یہ کہ اگرچہ ان کا سلسلۂ نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا تھا مگر زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ دوسری مشرک اقوام سے میل جول کے سبب وہ شرک و بت پرستی میں مبتلا ہو گئے اور دوسرا یہ کہ وہ تاجر اور معاشی طور پر خوشحال تھے مگر لین دین میں دھوکے بازی سے باز نہ آتے اور ناپ تول میں کمی کرتے تھے،کسی سے چیز خریدتے تو بڑھا کر لیتے اور بیچتے تو کم دیتے،اسی لیے حضرت شعیب علیہ السلام نے ان دونوں قوموں کو جو نصیحت فرمائی اس میں یہی عنوان غالب نظر آتا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کو شرک و بت پرستی اور ناپ تول میں کمی پر بہت شفقت و مہربانی اور مضبوط دلائل کے ساتھ سمجھایا، مگر وہ نہ مانے، پھر سمجھایا، مزید سمجھایا،مسلسل سمجھاتے رہے،یہاں تک  کہ بہترین کلام اور قوم کے بار بار سوالات کے صبر و تحمل کے ساتھ جوابات دینے کی وجہ سے خطیبُ الانبیا کے لقب سے سرفراز ہوئے،کئی بار سمجھانے کے باوجود چند خوش نصیب آپ پر ایمان لائے اور اکثر بہانوں اور بحث و تکرارمیں پڑے رہے۔

بعض علما فرماتے ہیں:بعض انبیا علیہم السلام  کو جنگ کی اجازت تھی جیسے حضرت موسیٰ،داود،سلیمان اور حضور علیہم الصلوٰۃ و السّلام اور بعض وہ تھے جنہیں جنگ کی اجازت نہ تھی،حضرت شعیب علیہ السلام بھی انہی میں سے ہیں، آپ تمام دن لوگوں کو وعظ فرماتے اور تمام رات نماز میں مشغول رہتے۔قوم کہتی:نماز سے آپ کو کیا فائدہ ملتا ہے؟فرماتے:نماز بھلائی کی طرف لے جاتی اور برائیوں سے روکتی ہے،تو وہ مذاق اڑاتے۔([6]) چنانچہ آپ کی قوم جو کچھ کہا کرتی تھی، اللہ پاک نے اس کا ذکر کچھ یوں فرمایا ہے:

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُاؕ- (پ12،ھود: 87) ترجمہ:(قوم نے) کہا:اے شعیب!کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یعنی ان کی قوم جب اس بات پر بضد رہی کہ مال ہمارا ہے، کم دیں یا زیادہ ہماری مرضی!آپ ہمیں ہمارے مال میں تصرف کرنے سے کیوں روکتے ہیں؟اور بہت سمجھانے کے باوجود بھی وہ اپنے جرائم پر ڈٹی رہی اور آپ کو بہت برا بھلا کہا تو آپ نے انہیں دو ٹوک فرما دیا:

اِعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌؕ-سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌؕ-وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ(۹۳)(پ 12، ھود:93)

ترجمہ:تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ، میں اپنا کام کرتا ہوں۔ عنقریب تم جان جاؤ گے کہ رسوا کر دینے والا عذاب کس پر آتا ہے اور کون جھوٹا ہے اور تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

آخر کار ان پر ہولناک چیخ اور زلزلے کا عذاب آیا،اس عذاب کی ابتدا چیخ سے ہوئی اس طرح کہ حضرت جبریل نے ہیبت ناک آواز سے کہا: مُوْتُوْا جَمِیْعًا یعنی سب مر جاؤ!اس آواز سے سب کے دل پھٹ گئے اور وہ مرے کے مرے رہ گئے، اسی چیخ سے زلزلہ پیدا ہوا۔([7]) البتہ اہلِ مدین میں سے ایک یا ڈیڑھ لاکھ لوگ حضرت شعیب علیہ السلام کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے تھے،اللہ پاک نے ان تمام مسلمانوں کو اپنی رحمت سے نجات بخشی۔([8])

اہلِ مدین کی ہلاکت کے بعد حضرت شعیب علیہ السلام کو دوسری مرتبہ اصحابِ اَیکہ کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا، اَیکہ جنگل اور جھاڑ کو کہتے ہیں، یہ مدین کے قریب ہی سرسبز جنگلوں کے درمیان ایک شہر تھا، یہاں رہنے والوں کا ذکر قرآنِ کریم میں اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِکے نام سے کیا گیا۔ یہ لوگ بھی اہلِ مدین جیسے جرائم میں مبتلا تھے، لہٰذا اللہ پاک کے نبی نے انہیں بھی وہی نصیحت فرمائی جو اہلِ مدین کو فرمائی تھی مگر انہوں نے بھی اہلِ مدین کی طرح آپ کو جھٹلایا بلکہ یہ اس حد تک گزر گئے کہ کہنے لگے:

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ(۱۸۷)

(پ 19، الشعراء:187)

ترجمہ:تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

جب اصحابِ ایکہ کسی صورت ایمان نہ لائے تو ان پر سائبان کے دن کا عذاب نازل ہوا۔اس عذاب کی مختلف کیفیات و توجیہات بیان کی گئی ہیں، ان میں سے ایک قول کے مطابق 7 دن رات سخت گرمی ان پر مسلط کردی گئی یہاں تک کہ چشموں اور کنوؤں کا پانی بھی گرم ہوگیا، گرمی سے دم گھٹنے لگا، جنگلوں میں جا کر درختوں سے چمٹ گئے، اچانک کالا بادل ہوا میں اڑتا ہوا ان کے سروں پر آپہنچا اور بھینی بھینی ہوا چلنے لگی،وہ خوش ہوئے،ایک دوسرے کو بلایا  اورسب اس کے نیچے پہنچ چکے تو اچانک بادل سے آگ کا شعلہ نکلا جس نے سب کو جلا کر بھسم کر دیا۔([9])  اصحابِ اَیکہ میں سے کسی ایک کا بھی ایمان لانا منقول نہیں۔([10])

معجزات:

نبی ہونے کا دعویٰ کرنے والے کے پاس معجزہ ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے اور اس کے پاس معجزہ نہ ہو تو وہ نبی نہیں بلکہ جھوٹا کہلائے گا۔([11])حضرت شعیب علیہ السلام معجزہ لے کر تو آئے تھے،مگر وہ معجزہ کیا تھا قرآن و احادیث میں اس کی کوئی وضاحت موجود نہیں،([12])اور یہ صرف حضرت شعیب علیہ السلام ہی نہیں بلکہ کئی ایسے پیغمبر ہیں جن کے کسی معجزے کا ذکر نہیں ملتا، خود نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے ہزاروں معجزات کا ذکر قرآنِ مجید میں نہیں ملتا،البتہ بعض مفسرین نے حضرت شعیب علیہ السلام  کے چند معجزات کا ذکر کیا ہے،چنانچہ صاحبِ کشاف نے لکھا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کے معجزات میں سے یہ ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی لاٹھی دی جو اژدھا بن جاتی تھی، بکری دی اور کہا:یہ سیاہ و سفید بچہ جنے گی،چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ احوال حضرت شعیب علیہ السلام کے لیے معجزات تھے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت رسالت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔([13])اسی طرح صاحبِ روح البیان نے تفسیر فارسی کے حوالے سے حضرت شعیب علیہ السلام کا یہ معجزہ نقل کیا ہے کہ آپ پہاڑ کو حکم فرماتے تو وہ نیچے آجاتا اور آپ اس پر چڑھ جاتے۔([14])غالباً اسی سے آپ کا نام شعیب ہوا یعنی پہاڑی راستوں کا بادشاہ۔([15])



[1] …تفسیر نعیمی،8/578

[2] …مستدرک،3/446،حدیث:4125

[3] …ابن حبان، 1/ 288حدیث:362

[4] … تفسیر روح البیان، 4/180

[5] …سیرت الانبیاء،ص 505

[6] … تفسیر  حسنات،3/219

[7] … تفسیر حسنات،3/219-تفسیر نور العرفان،ص 369

[8] …تفسیر نعیمی، 12/284

[9] … تفسیر روح البیان، 6/304

[10] … تفسیر روح البیان، 6/305

[11] … تفسیر  کشاف، 2/127

[12] … تفسیر روح البیان، 3/200

[13] … تفسیر کشاف، 2/127- تفسیر بحر محیط، 4/339

[14] … تفسیر روح البیان، 3/200

[15] … تفسیر نعیمی، 8/579


Share