بُرائی کو بھلائی سے دور کرو
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:بُرائی کو بھلائی سے دور کرو

اللہ پاک کا فرمان ہے:

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ24،حمٓ السجدۃ:34)

ترجمہ:بُرائی کو بھلائی کے ساتھ دور کر دو تو تمہارے اور جس شخص کے درمیان دشمنی ہو گی وہ اس وقت ایسا ہو جائے گا کہ جیسے وہ گہرا دوست ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر:

تفسیرِ ماوردی میں ہے کہ یہ آیت ابو جہل کے متعلق نازل ہوئی جو رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو تکلیف دیتا تھا، تو اللہ پاک نے  حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اس کے ساتھ صبر اور درگزر کا معاملہ کرنے کا حکم فرمایا۔([1])جبکہ ایک قول کے مطابق یہ آیتِ مبارکہ ابو سفیان کے متعلق نازل ہوئی کہ ان  کی شدید دشمنی کے باوجود حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان کے ساتھ نیک سلوک کیا اور ان کی بیٹی کو اپنے نکاح میں لینے کا شرف عطا فرمایا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر کار وہ اسلام کے مددگار اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جاں  نثار صحابی بن گئے۔([2])اور وَلِیٌّ حَمِیْمکہلانے کے حق دار ہوئے۔پچھلی دشمنیاں اور مخالفتیں سب فراموش ہو گئیں۔اس پر قرآنِ کریم نے فرمایا:بُرائیوں کو نیکی سے بدلنے کی خصلت اسی کے حوالے کی جاتی ہے جو خزانہ ٔرحمت سے زبردست حصہ حاصل کرکے اور مخالفت پر صبر کرتا ہوا اظہارِ محبت کر کے دشمن کو دوست بنائے جیسا کہ حضور کا طرزِ تبلیغ تھا۔([3])

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ سے مراد غصے کے وقت صبر کرنا اور بُرائی کے وقت معاف کر دینا ہے۔جب لوگ ایسا کریں گے تو اللہ پاک ان کی حفاظت فرمائے گا اور ان کے دشمنوں کو جھکا دے گا۔([4])جبکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے اس کا  بھائی گالی دیتا ہے تو وہ کہتا ہے:اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ پاک تجھے بخش دے اور اگر سچا ہے تو اللہ پاک میری مغفرت فرمائے۔([5])تفسیرِ حسنات میں ہے:تو جب تمہارے اور بدعمل کے درمیان دشمنی ہو جائے تو اچھے طرزِ تبلیغ سے اور حُسنِ تعلیم کے ذریعے اسے اپنی طرف بلاؤ اور اس کو ایسا بنالو

كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ24، حمٓ السجدة:34)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

گویا کہ وہ تمہارا دل سوز ، گرم جوش دوست ہے اور یہ طریقۂ تبلیغ ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتا مگر اسی کو جسے اللہ پاک عطا فرمائے،چنانچہ ارشاد ہے:

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵) (پ24،حمٓ السجدة:35)

(ترجمہ:اور یہ دولت صبر کرنے والوں کو ہی ملتی ہے اوریہ دولت بڑے نصیب والے کو ہی ملتی ہے۔) ([6])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

معلوم ہوا!دین ِ اسلام میں مسلمانوں کو اخلاقیات کی انتہائی اعلیٰ، جامع اور بہترین تعلیم دی گئی ہے کہ بُرائی کو بھلائی سے ٹال دو جیسے کسی کی طرف سے تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کرو، کوئی جہالت اور بیوقوفی کا برتاؤ کرے تو اس پر حلم و بُردباری کا مظاہرہ کرو اور اپنے ساتھ بد سلوکی ہونے پر عفو و درگزر سے کام لو۔([7]) کیونکہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو، جو تم سے رشتہ داری توڑے اس کے ساتھ رشتہ داری جوڑو اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو۔([8])ایک روایت میں ہے:اگر کوئی تمہیں گالی دے اور تمہیں اس  عیب پر عار دلائے جو وہ تمہارے متعلق جانتا ہے تو تم  اس میں موجود اس عیب پر عار نہ دلاؤ جس کے متعلق تم جانتے ہو۔([9])

الغرض ہمیں ہمیشہ نرمی اور حُسنِ اخلاق سے ہی پیش آنا چاہیے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہمیشہ بُرائی کا جواب اچھائی سے دیا، مثلاً سو اونٹوں  کے لالچ میں  آپ کو شہید کرنے کے لئے آنے والے سُراقہ بن مالک کو امان لکھ کر دی۔آپ کو شہید کرنے کے ارادے سے زہر میں  بجھی تلوار لے کر آنے والے عمیر بن وہب کے ساتھ ایسا سلوک فرمایا کہ وہ وہیں  کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔فتحِ مکہ کے بعد ان کی سفارش پر صفوان بن اُمَیَّہ کو بھی معاف کر دیا۔منافقوں  کے سردار عبدُ اللہ بن اُبی سَلول کی نمازِ جنازہ پڑھا دی۔اپنے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے شخص وحشی کو معاف کر دیا۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبانے  والی ہند بنت ِعتبہ کو معاف کر دیا۔اگر تمام مسلمان اس آیتِ مبارکہ میں  دئیے گئے حکم پر عمل پیرا ہوجائیں  تو کوئی بعید نہیں  کہ ہمارے معاشرے میں  امن و سکون کا دَور دورہ ہو جائے۔([10])

یاد رکھئے!ضروری نہیں کہ ہم کسی سے مسکرا کر ملیں تو وہ بھی مسکراتے ہوئے ہمارا استقبال کرے، بلکہ ممکن ہے کہ ہماری مسکراہٹ کو طنز سمجھ کر غصے میں ہی آ جائے اور ہمیں خوش مزاجی کے جواب میں یوں سننا پڑے کہ آپ کیوں ہنستی ہیں؟چنانچہ ایسے موقع پر اگر آپ اللہ پاک کا مذکورہ فرمان پیشِ نظر رکھیں گی تو یقیناً فائدے میں رہیں گی۔([11])

یہ اصول یاد رکھیے کہ گندگی کو گندگی سے نہیں پانی سے پاک کیا جاتا ہے۔لہٰذا اگر کوئی آپ کے ساتھ بُرا سلوک کرے تب بھی محبت بھرا سلوک کیجیے ان شاء اللہ اس کے مثبت نتائج دیکھ کر آپ کا کلیجہ ضرور ٹھنڈا ہو جائےگا۔([12])

خاموشی کی برکت:

ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی موجودگی میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تکلیف دی، مگر وہ خاموش رہے، اس نے پھر کچھ کہا مگر آپ خاموش رہے، لیکن جب اس نے تیسری بار تکلیف دی اور آپ نے اسے جواب دیا تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اُٹھ کھڑے ہوئے۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے تشریف لے جانے کی وجہ پوچھی تو حضور نے ارشاد فرمایا:ایک فرشتہ آسمان سے اتر کر اس کی تمہارے متعلق کی گئی باتوں کو جھٹلا رہا تھا،لیکن جب تم نے جواب دینا شروع کیا تو شیطان آ گیا، لہٰذا میں ایسی جگہ نہیں بیٹھ سکتا جہاں پر شیطان موجود ہو۔([13])

بُرائی کو بھلائی سے ٹالنے کا انعام:

حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ بوستانِ سعدی میں نقل کرتے ہیں:ایک نیک سیرت شخص اپنے ذاتی دشمنوں کا ذِکر بھی بُرائی سے نہ کرتا تھا، جب بھی کسی کی بات چِھڑتی اُس کی زبان سے نیک کلمہ ہی نکلتا۔اس کے مرنے کے بعد کسی نے اُسے خواب میں دیکھ کر پوچھا:اللہ پاک نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟تو یہ سُن کر اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ بڑی ہی میٹھی آواز میں بولا:دنیا میں میری یہی کوشش ہوتی تھی کہ میری زبان سے کسی کے بارے میں کوئی بُری بات نہ نکلے، نکیرین نے بھی مجھ سے کوئی سخت سُوال نہ کیا اور یوں میرا معاملہ بہت اچھا رہا۔([14])

معلوم ہوا!ہمارے بزرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں گوھرِ نایاب سے دیتے اور بُرائی کو بھلائی سے ٹالتے تھے۔لہٰذا اگر کوئی ظلم کرے تو بدلے میں اسے معاف کر دیا جائے،اگر وہ جہالت والا برتاؤ کرے تو اس کے ساتھ نرمی والا معاملہ کیا جائے۔مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

تو بَرائے وَصل کَرْدَن آمدِی          نَے بَرائے فَصل کَرْدن آمدِی([15])

یعنی اے انسان!تو ملانے کے لیے آیا ہے نہ کہ جدائی ڈالنے کے لیے۔

اللہ پاک ہمیں بُرائی کا بدلہ اچھائی سے دینے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلز فیضانِ اُمِّ عطار

گلبہار سیالکوٹ



....[1] تفسیر ماوردی،5/182

…..[2] تفسیر خازن، 4/86

…..[3] تفسیر حسنات، 5/1120ملخصاً

…..[4] بخاری،3/ 318

…..[5] احیاء العلوم،3/220

…..[6] تفسیر حسنات،5/1120

…..[7] تفسیر صراط الجنان،8/641

…..[8] معجم کبیر،17/270،حدیث:740

…..[9] ابوداود، 4/79، حدیث:4084

…..[10] تفسیر صراط الجنان، 6/558

…..[11] پیکرِ شرم و حیا،ص 36ملخصاً

…..[12] جنتی محل کا سودا،ص35

…..[13] ابوداود،4/358،حدیث:4896

…..[14] بوستان سعدی،ص 149

…..[15] مثنوی مولوی معنوی، 2/ 173


Share