حضورﷺ کی قرآن سے محبت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضور کی قرآن سے محبت

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ مضمون 28ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیا جا رہا ہے)


آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی قرآن سے محبت بے مثال تھی بلکہ آپ کی پوری زندگی قرآنِ پاک کی تعلیمات کی عملی تصویر تھی۔ یہاں کچھ اہم پہلو بیان کیے جا رہے ہیں جو آپ کی قرآنِ پاک سے محبت کو ظاہر کرتے  ہیں:

1-عملی نمونہ:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پوری زندگی قرآنِ پاک کی تعلیمات پر عمل کرنے کا نمونہ تھی۔آپ نے قرآن کے احکامات کو اپنی زندگی پر نافذ کیا اور دوسروں کو بھی ان پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی۔ حضرت سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اُمُّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ ُعنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اخلاق کے متعلق سوال کیا تو انہوں نےفرمایا:کیا تم قرآنِ پاک نہیں پڑھتے؟میں نے عرض کی:جی پڑھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا:اللہ پاک کے نبی کا خُلق قرآنِ پاک ہے۔([1])

2-تلاوت:

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم باقاعدگی سے قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے تھے، خاص طور پر رات کی عبادات میں۔ آپ خود بھی قرآنِ کریم پڑھتے اور دوسروں سے بھی قرآنِ پاک سننے کا شوق رکھتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عبد ُ اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:جبرئیلِ امین علیہ السلام رمضان شریف کی  ہر رات میں ملاقات کے لئے حاضر ہوتے اور حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ قرآنِ عظیم کا دَور فرماتے۔([2])

3-تعلیم و تدریس:

آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو قرآنِ پاک کی تعلیم دی اور اس کی تعلیمات کو پھیلایا۔ آپ نے لوگوں کو قرآنِ پاک کے معانی و مفاہیم سکھائے اور اس کی حکمتیں بیان کیں۔

4-حُبُّ الوَحی:

آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم وحی کا انتظار کرتے تھے،جب وحی آتی تو آپ خوشی اور سکون محسوس کرتے۔ آپ کے دل میں قرآنِ پاک کے الفاظ کی قدر بہت زیادہ تھی۔

5-دعا اور ذکر:

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دعاؤں اور اذکار میں قرآنِ پاک کے الفاظ شامل ہوتے تھے۔ آپ کی دعاؤں میں قرآنِ کریم کی آیات کا ذکر اور استعمال ہوتا تھا۔

یہ تمام پہلو آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی قرآنِ پاک سے بے پناہ محبت و عقیدت کو ظاہر کرتے ہیں۔آپ کی زندگی میں قرآنِ کریم کی تعلیمات کی جھلک نمایاں تھی۔آپ نے اپنی اُمّت کو بھی قرآنِ کریم کے قریب رہنے کی تلقین کی۔


اللہ پاک کی کتابوں پر ایمان لانا اور یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ جو کتابیں اللہ پاک نے نازل فرمائیں اور اپنے  رسولوں کے پاس وحی کے ذریعے بھیجیں، بے شک و شبہ وہ سب حق اور سچ ہیں اور اللہ پاک کی طرف سے ہیں۔قرآنِ پاک اللہ پاک کی وہ آخری کتاب ہے جو حضرت جبریل علیہ السلام لے کر آئے اور اللہ پاک کے پیارے و آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نازل ہوئی۔قرآنِ پاک ہمارے لیے ہدایت اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ قرآنِ حکیم ہمارے لیے ایک فیصلہ کن کلام کی حیثیت رکھتا ہے۔جیسا کہ ارشادِ باری ہے:

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ(۱۳) (پ30، الطارق:13)

ترجمہ:بیشک قرآن ضرور فیصلہ کر دینے والا کلام ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

آخرت میں بھی کامیابی کا دار و مدار قرآنِ حکیم کے احکام پر عمل کرنے اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مکمل پیروی کے ساتھ وابستہ ہے۔ جیسا کہ حضور کا فرمان ہے:قرآنِ پاک تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف دلیل ہے۔([3])اس کے علاوہ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا  سب سے اہم پیغمبرانہ وظیفہ وحی کے ذریعے  قرآنِ پاک کو اللہ پاک سے لینا، اس کی حکمت کو سمجھنا،اس کو سیکھنا، دوسروں تک پہنچانا اور سکھانا تھا۔لہٰذا جو مسلمان قیامت تک قرآنِ پاک پڑھنے، سیکھنے اور سکھانے کا مشن اپنائے گا وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دین کا علمبردار  اور خادم ہو گا اور اس کو رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے خاص نسبت حاصل ہو گی۔حدیثِ مبارک میں ہے:تم میں بہترین وہ ہے جو قرآنِ کریم سیکھے اور اسے  سکھائے۔([4])

نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا قرآنِ پاک سے محبت کا عالم یہ تھا کہ جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بدن مبارک بھاری ہو گیا تو آپ کی(تہجد کی)نماز اکثر بیٹھ کر ہوتی تھی۔([5])چنانچہ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ ُعنہا  فرماتی ہیں:جب آپ بڑی عمر کے ہو گئے تو بیٹھ کر نماز پڑھتے، مگر جب سورت کی 30 یا 40 آیات باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا شروع کر دیتے اور کھڑے ہو کر ہی رکوع کرتے۔([6])

ذرا سوچئے کہ ہم تو سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص یا سورۂ کوثر پڑھنے پر ہی اکتفا کرلیتی ہیں، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بڑی عمر میں اتنی آیات پڑھا کرتے تھے۔ اللہ پاک حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صدقے ہمیں بھی قرآنِ پاک سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین

حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی قرآنِ پاک سے محبت ایسی تھی کہ آپ قرآنِ پاک پڑھتے بھی تھے اور سنتے بھی تھے۔آپ کے ذوق کا عالم یہ تھا کہ پڑھنے اور سننے کا انداز لطف والا ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  فرما تے ہیں:ہم حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ ایک غار میں  تھے، اس وقت آپ پر سورۂ مُرْسَلات نازل ہوئی، ہم نے حضور کے مبارک منہ سے(سن کر) اس سورت کو یاد کیا اور حضور کا مبارک منہ اس سورت کی تلاوت سے تر تھا کہ اچانک ایک سانپ نکل آیا، حضور نے ارشاد فرمایا:اس سانپ کو مار دو۔ ہم اس کو مارنے کے لئے لپکے تو وہ بھاگ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ تمہارے شر سے بچایا گیا جس طرح تمہیں  اس کے شر سے بچایا گیا۔([7])

اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور صحابہ کرام جب آپس میں ملتے تو قرآنِ کریم سننے کا بڑا اہتمام کرتے تھے یعنی جب ملاقات فرماتے تو کہتے:کچھ قرآن سناؤ۔چنانچہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت عبدُ اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا:میرے سامنے قرآن پڑھو۔ انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!میں آپ کے سامنے قرآنِ کریم کیسے پڑھوں؟حالانکہ آپ پر تو قرآنِ کریم نازل ہوا ہے!تو حضور نے فرمایا:میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآنِ پاک سننا چاہتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے سورۂ نسآء کی تلاوت شروع کی، جب اس آیتِ کریمہ پر پہنچے:

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱) (پ5،النسآء:41)

ترجمہ:تو  کیسا حال ہوگا جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے حبیب!تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں گے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:حَسْبُكَ الآنَ یعنی بس کافی ہے۔ حضرت عبدُ اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔([8])

اللہ پاک ہمیں بھی ایسا ذوق و شوق عطا فرمائے اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صدقے ہمارا خاتمہ بالخیر ہو۔

 اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  



…[1] مسلم،ص293،حديث:1739

…[2] بخاری،1/9،حدیث:6

…[3] مسلم،ص 115، حدیث:534

…[4] بخاری،3/410،حدیث:5027

…[5] مسلم،ص289،حدیث: 1711

…[6] مسلم،ص288،حدیث:1704

…[7] بخاری،3/370،حدیث:4931

…[8]  بخاری،  3 /416، حدیث:5050


Share