حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات و عجائبات (قسط:01)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات و عجائبات(قسط:1)


اللہ پاک کی تمام مخلوق میں سب سے افضل و اعلیٰ اور بلند شان و عظمت والے وہ حضرات ہیں جنہیں اللہ پاک نے مخلوق کی رہبری کے لیے منتخب فرمایا اور نبوت کا تاج پہنا کر انہیں عزت بخشی،پھر اس مقدس جماعتِ انبیا میں بھی مختلف درجات رکھے اور ان میں بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی، چنانچہ ان میں سب سے زیادہ فضیلت والی وہ پانچ ہستیاں ہیں جو صبر و ہمت میں دیگر انبیائے کرام سے ممتاز ہیں اسی وجہ سے انہیں بطور خاص اولو العزم یعنی ہمت والے رسول کہا جاتا ہے اور یہ پانچوں حضرات بشمول دیگر انبیائے کرام(علیہم السلام) کے تمام انسانوں، فرشتوں، جنات اور تمام مخلوقاتِ الٰہیہ سے افضل ہیں۔([1]) انہی اولو العزم رسولوں میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہیں جنہیں اللہ پاک سے بغیر واسطے کےہم کلامی کا شرف پانے کے سبب کلیمُ اللہ کا لقب ملا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مبارک سیرت کا اگر جائزہ لیا جائے تو آپ کی ولادت سے لے کر فرعون کے محل میں پرورش پانے تک،والدہ سے بچھڑنے سے لے کر والدہ کا دودھ نوش فرمانے تک، فرعون کے منہ پر طمانچہ مارنے سے لے کر اس کے سامنے کلمۂ حق بلند فرمانے تک آپ کی مبارک زندگی عجائبات و معجزات سے بھری پڑی ہے۔قرآنِ مجید میں کہیں مختصراً تو کہیں تفصیل کے ساتھ کثرت سے آپ کے واقعات و معجزات بیان فرمائے گئے ہیں،یہاں آپ کے چند معجزات و عجائبات اور خصوصیات پیشِ خدمت ہیں:

فرعون کا خواب اور ولادتِ موسیٰ:

فرعون ایک انتہائی بد اخلاق، سخت دل،مغرور و متکبر اور ظالم و جابر بادشاہ تھا،اس نے ایک خواب میں بیت المقدس کی طرف سے آگ نکلتی ہوئی دیکھی جس نے مصر کو گھیر کر تمام قِبطیوں کو جلا دیا اور بنی اسرائیل کو کچھ نقصان نہ پہنچایا، فرعون اس خواب سے بڑا فکر مند ہوا اور اس کی تعبیر پوچھی تو بتایا گیا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہو گا جو تیری ہلاکت اور تیری بادشاہت کے ختم ہونے کا سبب ہو گا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو  بھی بچہ پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے اور بچیوں کو چھوڑ دیا جائے، چنانچہ اس کے حکم پر ایک عرصے تک بچوں کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران 12یا  70 ہزار کی تعداد میں بچے ذبح کیے گئے۔

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان دنوں بنی اسرائیل کے بوڑھے بھی بہت تیزی سے مرنے لگے،قِبطی سردار گھبرا کر فرعون کے پاس آئے اور کہا کہ ان کے بوڑھے اتنی تیزی سے مر رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے بچے بھی ذبح کیے جا رہے ہیں، اگر یہی سلسلہ رہا تو ہم مشقت میں پڑ جائیں گے، ہمیں خدمت گار کہاں سے ملیں گے؟لہٰذا فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال چھوڑ کر بچے قتل کیے جائیں۔چنانچہ چھوڑنے کے سال حضرت ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے اور قتل والے سال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔([2])

آگ ٹھنڈی ہوگئی:

فرعون نے ہر طرف اپنے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور دائیاں مقرر کر دی تھیں جو حاملہ عورتوں کے پاس جاکر دیکھتیں،اگر لڑکا پیدا ہوتا تو اسے قتل کر دیتیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت انہی دائیوں میں سے ایک دائی آپ کی والدہ کے پاس آئی،جب حضرت موسیٰ علیہ السلام زمین پر تشریف لائے تو آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں،یہ شان دیکھ کر دائی کے دل میں آپ کی محبت پیدا ہوگئی اور وہ اپنا کام کرنے سے باز رہی،نیز اس نے آپ کی والدہ سے کہا کہ فرعون کے جاسوسوں سے اس بچے کی حفاظت کرنا!یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔ دائی کو گھر سے نکلتا دیکھ کر فرعون کے جاسوس گھر کی طرف آئے، آپ کی بہن نے والدہ کو بتایا کہ فرعونی اس طرف آرہے ہیں،جلدی میں آپ کی والدہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا وہ حواس باختہ ہو گئیں اور آپ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر جلتے ہوئے تنور میں ڈال دیا،فرعونی آئے اور انہوں نے سارا گھر چھان مارا مگر بچہ کہیں نہ ملا،والدہ سے پوچھا:دائی کیوں آئی تھی،جواب دیا کہ وہ میری دوست تھی اور ملاقات کرنے آئی تھی،جب وہ چلے گئے تو والدہ کو ہوش آیا اور انہوں نے بیٹی سے پوچھا کہ بچہ کہاں ہے؟بہن نے لاعلمی کا اظہار کیا،اتنے میں تنور سے رونے کی آواز آئی،انہوں نے جا کر دیکھا تو آگ بچے پر ٹھنڈی وسلامتی والی ہوچکی تھی۔والدہ نے آپ کو صحیح سلامت تنور سے باہر نکال لیا۔

بڑھئی کی توبہ:

والدہ کو جب یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ فرعون بچے کی تلاش میں جد و جہد کر رہا ہے اور وہ اس سے باز نہیں آئے گا تو ان کی حفاظت کے لیے اللہ پاک نے ان کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ایک صندوق بنوائیں اور اس میں ان کو رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دیں۔چنانچہ آپ صندوق لینے بڑھئی کے پاس گئیں،اس نے پوچھا کہ اس چھوٹے صندوق کا کیا کروگی؟انہوں نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا، بڑھئی فرعونیوں میں سے تھا،اس نے صندوق فروخت کردیا اور ان کے جانے کے بعد فورا ان لوگوں کے پاس گیا جو بچوں کو قتل کرنے پر مامور تھے تاکہ انہیں بچے کی خبر دے سکے، مگر وہاں پہنچ کر اس کی زبان بند ہوگئی اور وہ کلام کرنے سے محروم ہو گیا، ہاتھ کے اشاروں سے سمجھانے کی کوشش کی مگر ناکام! ان لوگوں نے اسے پاگل سمجھ کر مار پیٹ کر وہاں سے بھگا دیا، جب گھر آیا تو زبان کھل گئی، پھر بتانے چلا گیا، مگر وہی ہوا جو پہلی بار ہوا تھا، مار کھا کر گھر آیا تو پھر زبان کھل گئی، تیسری بار گیا تو اب اللہ پاک نے اس کی زبان اور آنکھ دونوں لے لی نہ کچھ بول سکتا تھا نہ دیکھ سکتا تھا، اب گھر آکر یہ سچے دل سے تائب ہوا اور کسی کو نہ بتانے کا عہد کیا تو اللہ پاک نے اس کی زبان اور آنکھ اسے لوٹا دی، پھر اس نے اللہ پاک کو سجدہ کیا اور عرض کی:مولیٰ!میری اس نیک بندے کی طرف رہنمائی فرما! اللہ پاک نے اسے راہ دکھائی،وہ ایمان لایا ،آپ کی تصدیق کی اور جان گیا کہ یہ معاملہ اللہ پاک کی طرف سے ہے۔([3])

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے پہلے ہی اللہ پاک نے آپ کی والدہ کو یہ الہام فرما دیا تھا کہ اس بچے کو دودھ پلاتی رہنا اور جب فرعون کی طرف سے خطرہ ہو یا بچے کے رونے کی وجہ سے پڑوسیوں سے خطرہ ہو کہ وہ فرعون سے شکایت کر دیں گے تو اسے دریا میں ڈال دینا اور تم فکر مت کرنا! ہم اس کی حفاظت کریں گے، اسے تمہاری طرف واپس لوٹائیں گے اور اسے رسول بنائیں گے۔آپ کو دریائے نیل میں ڈالنے سے پہلے آپ کی والدہ نے کتنے عرصے تک دودھ پلایا؟اس میں اختلاف ہے،چنانچہ ایک قول کے مطابق چار ماہ تک آپ کی والدہ نے دودھ پلایا اور اتنے عرصے تک آپ نہ روئے اور نہ کوئی حرکت کی جس سے دوسروں کو شک ہو۔چار ماہ کے بعد آپ روئے تو خطرے کے پیش نظر آپ کی والدہ نے آپ کو دریائے نیل کے حوالے کر دیا۔([4])



…[1] بہارِ شریعت،1/52-54،حصہ:1ملخصاً

…[2] تفسیر خازن،1/52

…[3] تفسیر بغوی، 3/373

…[4] تفسیر بغوی، 3/373ملخصاً


Share