مناجات
میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
یا الٰہی! دُعا ہے گدا کی،میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
جلوۂ سرورِ انبیا کی، میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
بھیک دے اُلفتِ مصطفےٰ کی،سب صحابہ کی آلِ عَبا کی
غوث و خواجہ کی احمد رضا کی، میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
کوئی حج کا سبب اب بنادے، مجھ کو کعبے کا جلوہ دِکھادے
دِیدِ عَرفات و دِیدِ مِنیٰ کی، میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
دے مدینے کی مجھ کو گدائی،ہو عطا دو جہاں کی بھلائی
ہے صدا عاجز و بے نَوا کی، میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
حاضِری کے لیے جو بھی تڑپے، سبز گنبد کا دیدار کرلے
اُس کو طیبہ کی مہکی فَضا کی، میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
ہر دم ابلیس پیچھے لگا ہے، حفْظِ ایمان کی التجا ہے
ہو کرم امنِ روزِ جزا کی، میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
روح عطّاؔر کی جب جُدا ہو، سامنے جلوۂ مصطفےٰ ہو
اُنکے قدموں میں اِس کو قَضا کی، میرے مولیٰ تُو خیرات دیدے
از: امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ
وسائلِ بخشش،ص 124
نعت
شفیعِ روزِ محشر اے شہنشاہِ زماں تم ہو
شفیعِ روزِ محشر اے شہنشاہِ زماں تم ہو
مُقیمِ عرشِ اعلیٰ ہو مکینِ لامکاں تم ہو
تِرے رُتبہ سے بالا مرتبہ کس کا ہے دنیا میں
رفیقِ بیکساں تم ہو، انیسِ بیکساں تم ہو
کلیجہ کیوں نہ ٹھنڈا ہو تمہارا نام لینے سے
محمد مصطفیٰ تم ہو،حبیبِ دو جہاں تم ہو
جو تم سے پِھر گیا مولیٰ، ٹھکانہ ہے کہاں اس کا
خدا بھی مہرباں اس پر کہ جس پر مہرباں تم ہو
چلے گا قافلہ اُمَّت کا جب میدانِ محشر کو
نہیں خطرہ ہمیں جبکہ امیرِ کارواں تم ہو
حسابِ زندگی درپیش ہوگا جب قیامت میں
مجھے دامن میں ڈھک لینا پناہِ بیکساں تم ہو
تِرے در سے کہاں جائے نعیمِؔ زار اے مولیٰ!
طبیبِ دردِ دل تم ہو، علاجِ دردِ جاں تم ہو
از:صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ
حیاتِ صدر الافاضل،ص 234
Comments