حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا زہد و تقویٰ (قسط:05)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضرت عائشہ کا زہد و تقویٰ (قسط5)


گزشتہ سے پیوستہ:

اُمُّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ ُعنہا کا ذکرِ خیر جاری ہے، ان کے مزید اوصاف ملاحظہ فرمائیے:

دنیا سے بے رغبتی کا عالَم:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا   دنیا کو نا پسند کرنے والی اور اُس کی رنگینیوں سے بے خبر تھیں۔([1]) یہاں تک کہ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں کئی راتیں ایسی آئیں کہ گھر میں چراغ جلانے کے لئے تیل تک نہ ہوتا، مثلاً ایک رات حضرت ابو بکر صِدِّیق رضی اللہ عنہ کے ہاں سے کسی نے ایک بکری بطورِ تحفہ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بھیجی تو آپ نے حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ مل کر اس بکری کو ذبح کرنے کا جو واقعہ بیان فرمایا ہے اس میں اس بات کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ اس رات گھر کی حالت یہ تھی کہ چراغ جلانے کے لئے اتنا تیل بھی نہ تھا کہ اسے جلا کر روشنی کر لیتے۔([2])اسی طرح حضرت  سہل بن سعد  رضی اللہ عنہ   سے مروی روایت میں ہے کہ جب حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دنیا سے پردہ فرمایا تو اس وقت اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی حالت یہ تھی کہ آپ نے اپنی کسی پڑوسی عورت سے چراغ جلانے کے لئے تھوڑا سا گھی ہدیۃً طلب فرمایا تھا حالانکہ اس سے کچھ دیر پہلے آپ نے حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حکم پر گھر میں موجود سات دینار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو  بھیجے تھے تا کہ وہ انہیں خیرات کر دیں۔([3]) بلکہ آپ خود بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم وصالِ ظاہری فرما گئے اور میری دیوار کی الماری میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے کوئی جاندار کھا سکے، ہاں تھوڑے سے جَو میری الماری میں تھے۔میں ایک لمبا عرصہ اِس میں سے کھاتی رہی، پھر ایک مرتبہ جب میں نے اُن کو ماپا تو وہ ختم ہو گئے۔([4])

بلاشبہ یہ سب اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ نے حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے زہد و تقویٰ کا جو درس حاصل کیا اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہیں اور اس کی مثالیں بعد میں بھی آپ کی مبارک زندگی میں دکھائی دیتی رہیں۔بلکہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد  کئی مواقع ایسے آئے کہ آپ نے پاس موجود سب کچھ راہِ خدا میں خیرات کر دیا اور اپنے لئے کچھ بھی بچا کر نہ رکھا، جیسا کہ ایک مرتبہ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ ُعنہا کو انگوروں سے بھری ہوئی کچھ ٹوکریاں تحفے میں بھیجی گئیں جو آپ نے تقسیم کر دیں۔خادمہ نے بتائے بغیر اس میں سے ایک ٹوکری اٹھا لی۔جب رات ہوئی تو خادمہ وہ ٹوکری لے کر آئی تو آپ نے پوچھا:یہ کیا ہے؟عرض کی:میں نے ایک ٹوکری اپنے کھانے کے لئے رکھ لی تھی۔تو آپ نے فرمایا:تو نے ایک خوشہ کیوں نہ اٹھایا(پوری ٹوکری کیوں اٹھائی)؟اللہ پاک کی قسم!میں اس میں سے کچھ نہ کھاؤں گی۔([5])بعض اَوقات سیدہ عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک لاکھ درہم بطورِ نذرانہ پیش ہوتے تو آپ انہیں ایک ہی دن میں تقسیم فرما دیتیں جبکہ آپ کا حال یہ ہوتا کہ مبارک دوپٹے پر پیوند لگے ہوتےاور روزہ دار ہوتیں۔([6])

شاید راہِ خدا میں سب کچھ خیرات کرنے کا ایک سبب یہ تھا کہ ایک مرتبہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  سے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!میرے لئے دعا فرمائیے کہ اللہ پاک مجھے جنت میں آپ کی مقدس بیویوں میں رکھے۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اگر تم اس رتبے کی تمنّا کرتی ہو تو کل کے لئے کھانا بچاکر نہ رکھو اور کسی کپڑے کو اس وقت تک بے کار نہ سمجھو جب تک اس میں پیوند لگ سکتا ہو۔اُمُّ المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اِس وصیت و نصیحت پر اس سختی سے عمل کرتی رہیں کہ کبھی آج کا کھانا کل کے لئے بچا کر نہ رکھا۔([7])

گمنام ہونے کی تمنا:

حضرت ابنِ ابی مُلَیکہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے فرمایا:مجھے ان سے کوئی حاجت نہیں کہ یہ اپنے بارے میں کوئی صفائی پیش کریں۔حضرت عبدُ الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:اے امی جان!حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما آپ کے گھر کے نیک آدمی ہیں،آپ کی عیادت کے لئے تشریف لائے ہیں۔تو اُمُّ المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا:انہیں اندر آنے کی  اجازت دے دو۔چنانچہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما حاضر ہوئے اور عرض کی:اے اُمُّ المومنین! آپ کو خوش خبری ہو!اللہ پاک کی قسم!آپ کی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور ان کے دیگر اصحاب علیہم الرضوان کے ساتھ ملاقات میں صرف جسم سے روح کے جدا ہونے کی دیر ہے۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو تمام مقدس بیویوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ تھیں اور نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہمیشہ پاکیزہ چیز سے ہی محبت فرماتے تھے۔اُمُّ المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:کیا ایسی ہی بات ہے؟ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کی:ابواء کے مقام پر آپ کا ہار گم ہو گیا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اسے تلاش کرنے میں مصروف ہو گئے جس کی وجہ سے صحابۂ  کرام علیہم الرضوان کو(وضوکے لئے) پانی بھی نہ مل سکا تو اللہ پاک نے یہ آیت ِ مبارکہ نازل فرمائی:

فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا(پ5، النسآء:43)

ترجمہ:تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اللہ پاک نے اس اُمّت کو جو رُخصت عنایت فرمائی ہے وہ آپ کے سبب اور برکت کی وجہ سے ہے۔ مِسْطَح نے جو افواہیں پھیلائی تھیں ان کے متعلق بھی اللہ پاک نے آپ کی براءت سات آسمانوں سے نازل فرمائی۔لہٰذا کوئی مسجد ایسی نہیں جہاں دن اور رات کے اوقات میں اللہ پاک کا ذکر کیا جاتا ہو اور آپ کی شان میں نازل ہونے والی آیات تلاوت نہ کی جاتی ہوں۔اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:اے ابنِ عباس! مجھے آپ اپنی صفائی و پاکیزگی بیان کرنے سے دور رہنے دیجئے! اللہ پاک کی قسم!مجھے یہ پسند ہے کہ میں بھولی بسری ہوتی۔([8])

خوفِ خدا کا عالَم:

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا سے خوفِ خدا کے غلبہ کے وقت مختلف اقوال مروی ہیں، جو آپ نے مختلف اوقات میں ارشاد فرمائے، یہ اقوال طبقات ابنِ سعد میں کچھ یوں منقول ہیں:

· کاش!میں(بجائے انسان کے)پتھر ہوتی۔

· کاش!میں درخت ہوتی۔

· کاش!کاش!میں مٹی کا ایک ڈھیلا ہوتی۔

· ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:کاش!میں اس درخت کا پتا ہوتی۔

· کاش!میں گھاس ہوتی اور کوئی قابلِ ذکر چیز نہ ہوتی۔

· بوقتِ وصال فرمایا:کاش!اللہ پاک مجھے کوئی بھی چیز نہ بناتا۔([9])



…[1]حلیۃ الاولیاء،2/54

…[2] معجم اوسط،6/309،حدیث:8872

…[3] معجم کبیر،6/ 198،حدیث:5990

…[4] بخاری، 4/234،حدیث:6451

…[5] حلیۃ الاولیاء، 2/ 59، رقم:1475

…[6] احیاء العلوم، 4/245

…[7] مدارج النبوت، 2/472

…[8] صحیح ابن حبان، 9 /120، حدیث:7064

…[9] طبقات ابن سعد، 8/60،59  ملتقطاً


Share