موضوع:سیدہ میمونہ(پہلی قسط)
اُمُّ المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہاکا نام پہلے بَرَّہ(نیکی) تھا، جسے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تبدیل فرما کر میمونہ (برکت والی) رکھ دیا۔([1]) آپ کے والد کا نام حارث اور والدہ کا نام ہند بنتِ عوف تھا۔([2])آپ اُمُّ الفضل زوجۂ حضرت عباس اور سیدہ اسماء بنتِ عمیس کی سگی بہن،([3])جبکہ سیدہ زینب بنتِ خزیمہ کی ماں کی جانب سے بہن تھیں۔([4]) آپ کا نسب حضور کے نسبِ مبارک سے اٹھارویں جدِّ محترم حضرت مُضَر پر جا کر مل جاتا ہے۔([5])
نکاح:
جب حضور عمرہ قضا کی ادائیگی کے لئے صحابہ کرام کو ساتھ لے کر جُحْفَہ کے مقام پر پہنچے تو یہاں آپ کے چچا حضرت عباس بن عبدُ المطلب نے آپ سے ملاقات کی اور حضرت میمونہ کے حالات کے بارے میں بتاتے ہوئے عرض کی:اُن کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور پھر حضور کو اُن سے نکاح کی درخواست کی۔([6]) آپ نے اسے قبول فرما کر پیغامِ نکاح بھیجا تو اُس وقت سیدہ میمونہ اُونٹ پر سُوار تھیں،ىہ خوشخبرى پا کر کہنے لگیں:اونٹ اور جو اس پر ہے اللہ پاک اور اُس کے رسول کا ہے۔([7])چنانچہ حضرت میمونہ نے اپنا معاملہ حضرت عباس کے حوالے کر(کے انہیں اپنے نکاح کا وکیل بنا)دیا،پھر حضرت عباس نے حضور کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔([8]) اور ان کی طرف سے چار یا پانچ سو درہم مہر پیش کیا۔([9]) حضور نے مقامِ سرف میں آپ سے نکاح فرمایا،اسی مقام پر رسمِ عروسی ادا فرمائی اور پھر بعد میں اسی مقام پر آپ کا انتقال ہوا۔([10]) نیز یہیں تدفین بھی ہوئی۔([11])نکاح کے وقت آپ کی عمر مبارک 36 سال تھی۔([12])
اوصاف سیدہ میمونہ:
اُمُّ المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ خوفِ خدا رکھنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی خاتون تھیں۔([13]) آپ اُن چار مبارک خواتین میں سے ہیں جن کے کامل ایمان کی گواہی زبانِ نبوت سے عطا ہوئی۔([14]) آپ حضور کی وفات کے وقت موجود تھیں۔([15]) آپ کا ایک نمایاں وصف حکمتِ عملی بھی ہے؛چنانچہ میدانِ عرفات میں صحابہ کرام کے درمیان حضور کے روزے کے بارے میں اختلاف ہوا تو آپ نے بحث کے بجائے دودھ کا پیالہ خدمتِ اقدس میں بھیجا،جسے حضور نے نوش فرمایا،([16])اور یوں واضح ہو گیا کہ آپ اُس دن روزے سے نہیں تھے۔
آپ کی شخصیت کا نہایت روشن پہلو زہد و استغنا اور دنیاوی آسائشوں سے بے رغبتی ہے۔حضرت عبد الرحمن بن سائب نے اپنی پھوپھی اُمُّ المومنین سیدہ میمونہ کو ایک عمدہ بستر تحفہ دیا؛وہ تھکی ہوئی تھیں،افطار کے بعد آرام کا ارادہ فرمایا اور بھتیجے کو بستر بچھانے کا کہا،پھر سو گئیں۔صبح بیدار ہو کر فرمایا: اس غافل کر دینے والے بستر کو مجھ سے دور کر دو،میں اس پر آرام نہیں کرتی۔([17])
سیّدہ میمونہ کی مبارک آنکھیں حضور کی ہر ہر ادا کی امین تھیں؛آپ کے جذبۂ خدمت کی بلندی دیکھیے کہ آپ نے گوشۂ تنہائی کے ان معمولات کو بھی ترتیبِ سنت میں ڈھال دیا جن سے بعد میں اُمت فیض یاب ہوئی۔چنانچہ حضور نے غسل فرمایا تو آپ جسمِ مصطفےٰ کو صاف کرنے کے لئے کپڑا لے کر حاضر ہوئیں،مگر حضور نے نہ لیا اور ہاتھ سے پانی پونچھ پونچھ کر جھاڑا۔([18])
سیدہ میمونہ کی زندگی تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کا وہ اعلیٰ نمونہ ہے جہاں رشتہ داری کی محبت کبھی بھی احکاماتِ خداوندی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنی۔آپ حق کی حمایت اور برائی سے روکنے میں اس قدر سخت تھیں کہ اگر کوئی قریبی عزیز بھی شرعی حدود کی خلاف ورزی کرتا تو آپ اسے معاف کرنے کے بجائے توبہ اور شرعی سزا پانے کی تلقین فرماتیں۔چنانچہ ایک بار آپ کا کوئی قریبی عزیز آپ کے پاس آیا تو اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی جس پر آپ نے اسے فوراً شرعی عدالت میں حاضر ہو کر اعترافِ جُرم کرنے اور اس کی سزا پانے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:اگر تم مسلمانوں کے پاس نہ گئے تا کہ وہ تجھے کوڑے لگائیں تو آئندہ کبھی میرے گھر نہ آنا۔([19])
ام المومنین سیدہ میمونہ تبرکاتِ مصطفےٰ کی امین تھیں اور ان تبرکات کی برکت سے عاشقانِ رسول کی روحانی پیاس بجھاتی تھیں۔خالہ ہونے کی حیثیت سے حضرت ابنِ عباس پر آپ کی یہ عظیم عنایت تھی کہ جب وہ زیارتِ نبوی کے شوق میں بے قرار ہوئے،تو آپ کے گھر تشریف لائے۔حضرت میمونہ نے حضور کا آئینہ آپ کو دیا جس میں حضور انور اپنا چہرۂ انور دیکھا کرتے تھے۔حضرت ابنِ عباس نے جب آئینہ دیکھا تو اس میں بجائے اپنی صورت کے حضور کی صورت شریف نظر آئی۔([20])
آپ سنتِ نبوی کی بہت بڑی محافظ اور پاسبان تھیں۔آپ کو یہ گوارا نہ تھا کہ علم کے پہاڑ حضرت ابنِ عباس جیسے جلیلُ القدر صحابی سے بھی سنت کا کوئی پہلو اوجھل رہے۔جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے بھانجے حضرت عبدُ اللہ بن عباس اپنی اہلیہ کا بستر حیض کے دنوں میں نہ صرف جدا کر دیتے ہیں بلکہ خود بھی دور دور رہتے ہیں تو آپ نے انہیں یہ نصیحت آموز پیغام بھیجا کہ کیا تم حضور کی سنت سے منہ پھیرے ہوئے ہو؟کیونکہ حضور تو اپنی مقدس بیویوں کے حیض کے دنوں میں بھی ان کے ساتھ آرام فرما لیا کرتے اور درمیان میں گھٹنوں کے آگے تک ایک کپڑا ہوتا۔([21])
سیدہ میمونہ کا ذکرِ خیر جہاں آپ کے زہد و تقویٰ کی وجہ سے بلند ہے،وہیں آپ کا ایک بڑا وصف یہ بھی ہے کہ آپ معجزاتِ مصطفےٰ کی ایک معتبر راویہ ہیں۔آپ کی باریک بینی اور حضور سے گہری وابستگی کا اندازہ اس ایمان افروز واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور ایک رات حسبِ معمول نمازِ تہجد کے لیے اُٹھے اور وضو کرنے کی جگہ تشریف لے گئے۔آپ نے سُنا کہ حضور نے تین مرتبہ لَـبَّیْك اور تین مرتبہ نُصِرْتَ فرمایا۔جب حضور وضو کر کے باہر تشریف لائے تو آپ نے عرض کی:یا رسولَ اللہ!میں نے سُنا ہے کہ آپ نے تین مرتبہ لَـبَّیْك اور تین مرتبہ نُصِرْتَ فرمایا،گویا کہ آپ کسی سے کلام فرما رہے ہیں!تو ارشاد فرمایا:راجز مجھ سے فریاد کر رہا تھا۔([22]) راجز کا معنی ہے:رجز یعنی شاعری کی ایک مخصوص بحر میں اشعار پڑھنے والا۔یہاں راجز سے مراد حضرت عمرو بن سالم خزاعی ہیں۔([23])یہ مکہ میں اور حضور مدینہ میں تھے۔([24])
[1]استیعاب،4/468،رقم:3533
[2]سبل الہدى و الرشاد،11 /207
[3]اجمال ترجمہ اکمال،8/ 89
[4]شرح زرقانی،4/416
[5]فیضان امہات المومنین،ص328
[6]استيعاب،4/469 ملخصاً
[7]تفسیر قرطبی،الجزء الرابع عشر،7/154
[8]مستدرک،5/40،حديث:6874 ملخصاً
[9]شرح زرقانى،4/423 ملتقطاً
[10]معجم اوسط،3/172،حديث:4225
[11]شرح زرقانی،4/423
[12]آخری نبی کی پیاری سیرت،ص 138
[13]حلیۃ الاولیاء،4/102،رقم:4901
[14]معرفۃ الصحابہ لابى نعيم،6/3354،حديث:7676
[15]مراۃ المناجیح،5/81
[16]بخاری،1/654،حدیث:1989
[17]حلیۃ الاولیاء،5/153،رقم:6659
[18]بخاری،1/111،حدیث:266
[19]طبقات ابن سعد،8 /110
[20]مراۃ المناجیح،6/287
[21]مسند امام احمد،44/402،حدیث:26819
[22]معجم صغیر،الجزء الثانی،ص 73
[23]مرقاۃ المفاتیح،7/637،تحت الحدیث:4046
[24]اسلام کی بنیادی باتیں،3/71
Comments