شرح شجرہ قادریہ، رضویہ، ضیائیہ،عطاریہ(قسط:10)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 10)

10

نَصر اَبی صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ

دے حیاتِ دین مُحْیِ جانفِزا کے واسِطے

مشکل الفاظ کے معانی:نصر ابی صالح:حضرت ابوصالح عبدُ اللہ نصر۔صالح:نیک،پرہیزگار۔منصور:مدد کیا ہوا،کامیاب۔ حیات: زندگی۔محی:زندہ کرنے والا۔جانفزا:دل کو خوشی دینے والا۔

مفہومِ شعر:اےاللہ!اپنے نیک بندے شیخ ابو صالح نصر رحمۃ اللہ علیہ کے وسیلے سے مجھے بھی دینِ حق پر استقامت اور کامیابیاں عطا فرما اور حضرت شیخ محی الدین رحمۃ اللہ علیہ کے صدقے ہمارے دین کو سلامتی وتازگی نصیب فرما۔

شرح:اس شعر میں لفظ صالح دو بار آیا ہے ایک تو بزرگ کی کنیت ہے اور ایک بطورِ صفت ہے،دونوں میں مماثلت یہ ہے کہ دونوں کا معنی نیک ہے۔اس شعر میں سلسلۂ عالیہ ،قادریہ، رضویہ،  عطاریہ کے انیسویں ویں اور بیسویں شیخِ طریقت یعنی حضرت شیخ ابو صالح عبدُ اللہ نصر اور ان کے فرزند حضرت شیخ محی الدین رحمۃ اللہ علیہما کے وسیلے سے دعا مانگی گئی ہے،ان عظیم ہستیوں کا مختصر تعارف پیشِ خدمت ہے:

حضرت ابو صالح عبداللہ نصر:

آپ کا نام عبدُ اللہ نصر،کنیت ابو صالح اور لقب عماد الدین ہے۔آپ 24 ربیع الثانی 562ھ میں بغداد شریف میں پیدا ہوئے۔آپ شیخ عبد الرزاق رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے اور حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ تاج النساء نہایت نیک،با برکت اور علومِ حدیث کی عالمہ تھیں۔آپ نے اپنے والدِ گرامی اور دیگر اکابر علما سے فقہ وحدیث کی تعلیم حاصل کی۔آپ اپنے دور کے ممتاز  فقیہ،محدث،عابد،زاہد،شیخ الوقت اور نہایت فصیح و بلیغ واعظ تھے۔حضور غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسے کے نگران بھی رہے اور بے شمار لوگوں نے آپ سے فقہ و حدیث کا علم حاصل کیا۔خلیفۂ وقت نے آپ کو قاضی القضاۃ (چیف جسٹس/ جج)مقرر کیا،مگر اس بلند منصب کے باوجود آپ کی عاجزی و انکساری اور اخلاق میں کوئی فرق نہ آیا۔ آپ کی علمی و روحانی عظمت کا یہ عالم تھا کہ مساجد کے خطبوں میں آپ کا نام لیا جاتا تھا۔آپ نے 27 رجب 632ھ کو وفات پائی اور بغداد شریف میں مدفون ہیں۔

حضرت محی الدین محمد بن صالح:

آپ بغداد شریف میں پیدا ہوئے۔آپ کا نام محمد کنیت ابو نصر محمد،لقب محی الدین ہے۔ آپ شیخ ابو صالح نصر کے شہزادے،شیخ عبد الرزاق کے پوتے اور سرکارِ غوثِ اعظم کے پرپوتے ہیں۔آپ اپنے پردادا کے بہت مشابہ تھے۔آپ نے اپنے والد کے زیرِ سایہ تعلیم و تربیت حاصل کی۔ان کے علاوہ بہت سے علما ومشائخ ومحدثین سے علم دین حاصل کیا۔آپ اعلیٰ درجے کے محقق، مدرس، محدث اور اپنے وقت کے فقیہ تھے۔آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے۔ آپ  نےاپنی تمام زندگی  سنتِ نبوی کے مطابق گزار دی۔آپ اپنے پردادا حضور غوثِ اعظم کے مدرسے میں تاحیات تدریس فرماتے رہے۔آپ نے علمِ دین کے فروغ و اشاعت میں خوب کوششیں کیں اور کامیاب ہوئے۔آپ کا انتقال 22 ربیع الاول 656ھ  بروز پیر بغداد شریف میں ہوا۔آپ کا مزار اپنے پردادا حضور غوثِ اعظم کے مدرسے کے احاطے میں ہے۔

اللہ پاک ان بزرگوں کے صدقے ہمیں گناہوں سے بچ کر نیک اعمال کرنے کی توفیق اور دین پر ثابت قدمی نصیب فرمائے۔

اٰمین بجاہِ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* کراچی


Share