DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Sad Ayat 39 Translation Tafseer

رکوعاتہا 5
سورۃ ﳧ
اٰیاتہا 88

Tarteeb e Nuzool:(38) Tarteeb e Tilawat:(38) Mushtamil e Para:(23) Total Aayaat:(88)
Total Ruku:(5) Total Words:(818) Total Letters:(3020)
39

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
یہ ہماری عطا ہے توتم احسان کرویا روک رکھو (تم پر) کوئی حساب نہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{هٰذَا عَطَآؤُنَا: یہ ہماری عطا ہے۔} اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا کہ یہ ہماری عطا ہے تو اب جس پرچاہو احسان کرو اور جس کسی سے چاہو روک رکھو تم پر کسی قسم کا کوئی حساب نہیں ۔( خازن، ص، تحت الآیۃ: ۳۹، ۴ / ۴۲) یعنی آپ کو دینے اور نہ دینے کا اختیار دیا گیا کہ جیسی مرضی ہو ویسے کریں ۔

اللہ تعالیٰ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیتا ہے اور وہ مخلوق میں  تقسیم کرتے ہیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور وہ حضرات اللہ تعالیٰ کے حکم سے مخلوق میں  تقسیم فرماتے ہیں  اور اس تقسیم میں  انہیں  دینے اور نہ دینے کا مُطلَقاً اختیار ہوتا ہے۔ حدیث ِپاک میں  بھی ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور میں  تقسیم فرماتا ہوں ۔( بخاری، کتاب العلم، باب من یرد اللّٰہ بہ خیراً یفقّہہ فی الدین، ۱ / ۴۲، الحدیث: ۷۱)

            دو اَحادیث ِ مبارکہ مزید ملاحظہ ہوں ،

(1)…حضرت ربیعہ بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :میں  رات کے وقت رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  رہا کرتا اور آپ کے اِستنجاء اور وضو کے لئے پانی لاتا تھا،ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مانگ کیا مانگتا ہے۔میں  نے عرض کی :میں  آپ سے جنت کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں ۔ارشاد فرمایا’’اس کے علاوہ اور کچھ؟میں  عرض کی :مجھے یہی کافی ہے ۔ارشاد فرمایا’’پھر زیادہ سجدے کر کے میری مدد کرو۔( مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود والحثّ علیہ، ص۲۵۲، الحدیث: ۲۲۶(۴۸۹))

(2)…امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جب کوئی شخص سوال کرتا (تو اس وقت دو طرح کی صورتِ حال ہوتی) اگر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دینا منظور ہوتا تو نَعم فرماتے یعنی اچھا ،اورنہ منظور ہوتا تو خاموش رہتے ، کسی چیز کو ’’لا‘‘یعنی ’’نہ‘‘ نہ فرماتے تھے۔ایک روز ایک اَعرابی نے حاضر ہوکر سوال کیا توحضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خاموش رہے ، پھر سوال کیا تو خاموشی اختیار فرمائی، پھر سوال کیا تو اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’سَلْ مَا شِئْتَ یَا اَعْرَابِی‘‘اے اَعرابی! جو تیرا جی چاہے ہم سے مانگ۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :یہ حال دیکھ کر (کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمادیا ہے جو دل میں  آئے مانگ لے) ہمیں  اس اَعرابی پر رشک آیا ،ہم نے اپنے دل میں  کہا: اب یہ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جنت مانگے گا ،لیکن اَعرابی نے کہا تو کیا کہا کہ’’ میں  حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سواری کا اونٹ مانگتاہوں  ۔ارشاد فرمایا:عطا ہوا ۔عرض کی:حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے زادِ سفر مانگتاہوں  ۔ ارشادفرمایا:عطاہوا۔ ہمیں  اس کے ان سوالوں  پر تعجب ہوا اور سیّدِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اس اَعرابی کی مانگ اوربنی اسرائیل کی ایک بڑھیا کے سوال میں  کتنا فرق ہے ۔ پھر حضو ر پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کا ذکر ارشاد فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا میں  اترنے کا حکم ہوا اور وہ دریا کے کنارے تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سواری کے جانوروں  کے منہ پھیر دئیے کہ خود واپس پلٹ آئے ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی: یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، یہ کیا حال ہے ؟ارشاد ہوا:تم حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبرکے پاس ہو ان کا جسم مبارک اپنے ساتھ لے لو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قبر کا پتہ معلوم نہ تھا ،آپ نے لوگوں  سے فرمایا: اگر تم میں  سے کوئی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر کے بارے میں  جانتا ہو تو مجھے بتاؤ۔لوگوں  نے عرض کی: ہم میں  سے تو کوئی نہیں  جانتا البتہ بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا ہے ،ہو سکتا ہے کہ وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر کے بارے میں  جانتی ہو کہ وہ کہاں  ہے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کے پاس آدمی بھیجا (جب وہ آ گئی تو اس سے) فرمایا: تجھے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر معلوم ہے ؟اس نے کہا:ہاں ۔ فرمایا:تو مجھے بتادے ۔اس نے عرض کی :خدا کی قسم میں  اس وقت تک نہ بتاؤں  گی جب تک آپ مجھے وہ عطا نہ فرما دیں  جو کچھ میں  آپ سے مانگوں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: تیری عرض قبول ہے ۔بڑھیانے عرض کی:میں  آپ سے یہ مانگتی ہوں  کہ جنت میں  آپ کے ساتھ اس درجے میں  رہوں  جس درجے میں  آپ ہوں  گے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: جنت مانگ لے۔ (یعنی تجھے یہی کافی ہے اتنا بڑا سوال نہ کر۔) بڑھیا نے کہا: خدا کی قسم میں  نہ مانوں  گی مگر یہی کہ آپ کے ساتھ ہوں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس سے یہی رد وبدل کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی:اے موسیٰ!وہ جو مانگ رہی ہے تم اسے وہی عطاکردو کہ اس میں  تمہارا کچھ نقصان نہیں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے جنت میں  اپنی رفاقت عطافرمادی اوراس نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر بتادی اورحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نعش مبارک کو ساتھ لے کر دریا پار کرگئے۔( معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۵ / ۴۰۷، الحدیث: ۷۷۶۷، مکارم الاخلاق للخرائطی، القسم الثانی، الجزء الخامس، باب ما جاء فی السخاء والکرم والبذل من الفضل، ص۱۴۰۷، الحدیث: ۱۵۴، ملتقطاً)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی تصنیف ’’الامن والعلیٰ‘‘ میں  یہ حدیث ِ پاک نقل کر کے اس کے تحت سات نِکات بیان فرمائے ہیں ،ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس ارشاد’’جو جی میں  آئے مانگ‘‘میں  صراحت کے ساتھ عموم موجود ہے کہ جو دل میں  آئے مانگ لے ہم سب کچھ عطا فرمانے کا اختیار رکھتے ہیں ۔صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے اَعرابی کو اختیار ملنے پر رشک فرمایا،اس سے معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہاتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے تمام خزانوں  اور دنیا و آخرت کی ہر نعمت پر پہنچتا ہے یہاں  تک کہ سب سے اعلیٰ نعمت یعنی جنت جسے چاہیں  بخش دیں ۔اختیارِ عام ملنے کے بعد اَعرابی نے جو مانگا اس پر حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا تعجب فرمانا اور بنی اسرائیل کی بڑھیاکی مثال دینااس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ جنت کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ مانگتا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہی اسے عطا فرما دیتے ۔بڑھیا کا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جنت میں  ان کی رفاقت کا سوا ل کرنا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ سوال سن کر غضب و جلال میں  نہ آنا بلکہ اس سے یہ کہنا کہ ہم سے جنت مانگ لو اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بڑھیا کی طلب کے مطابق عطا فرمانے کا حکم دینا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بڑھیا کو جنت میں  اپنی رفاقت عطا فرما دینا،یہ سب شواہد اس بات کی دلیل ہیں  اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو بے پناہ اختیارات عطا فرماتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے مخلوق میں  جنت اور اس کے درجات تک تقسیم فرماتے ہیں  ،اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مخلوق کا ان سے جنت اور اس کے اعلیٰ درجات مانگنا شرک ہر گز نہیں  ہے۔( فتاوی رضویہ، رسالہ: الامن والعلی لناعتی المصطفیٰ بدافع البلاء، ۳۰ / ۶۰۰-۶۰۴، ملخصاً)

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links