خصائصِ مصطفےٰ (قسط:02)

ایمان کی جان سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحَبّت و الفت ایمان کی جان ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى اَكُونَ اََحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَّالِدِهٖ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِِ اَجْمَعِينَ یعنی تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل )مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والدین،اولاداورتمام انسانوں سےزیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔ (بخاری، 1/17،حدیث:15)

بحکمِ احادیث ایمان یہ ہے

کہ ہو سب سے بڑھ کر مَحبت نبی کی

عشقِ رسول میں اضافے کا نسخہ اگرچہ ہر مسلمان کے دل میں فطری طور پر رحمتِ عالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحبّت موجود ہوتی ہے لیکن کوشش کرکے اس مَحبت میں اضافہ کرنا بہت بڑی سعادت مندی ہے۔مَحبت و عشقِ رسول کی لازوال دولت پانے اور بڑھانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ کے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فضائل و کمالات اور خصائص کی معرِفت حاصل کی جائے ۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے دل میں عشقِ مصطفےٰ کی ایسی لازوال شمع روشن ہوگی جس کی روشنی ہماری دنیا کے ساتھ ساتھ قبر و آخرت کو بھی جگمگادے گی۔

عشقِِ سرکار کی اِک شمع جلالو دل میں

بعد مرنے کے لحد میں بھی اجالا ہوگا

آئیے!اپنے دل میں عشقِ رسول کی شمع جلانے کی نیت سے اپنے پیارے نبی، مکّی مَدَنی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فضائل و خصائل کا مطالعہ کیجئے لیکن ٹھہرئیے!اس سے پہلے ایک مرتبہ درود شریف پڑھ لیجئے:

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خصائصِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(1)سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوتمام نبیوں سے پہلے پیدا کیاگیا اور سب کے بعد دنیا میں بھیجاگیا۔

(مواہب لدنیہ ، 1/33)

فتحِ ِ بابِ نُبوّت پہ بے حد درود

ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

(2)غیر معمولی رعب و دبدبہ ،فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ یعنی یک مہینے کی مَسافت تک رعب و دبدبے کے ذریعے میری مددکی گئی۔ (بخاری، 133/1، حدیث: 335) یعنی جو دشمن مجھ سے جنگ کرنے آئیں ابھی وہ ایک ماہ کے راستہ پر مجھ سے دور ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں میری ہیبت چھا جاتی ہے، اگرچہ وہ جنگ کریں مگر مرعوب ہوکر،یہ معجزہ کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ (مراٰۃ المناجیح،9/8)

جس کے آگے کِھنچی گردنیں جھک گئیں

اُس خداداد شوکت پہ لاکھوں سلام

(3)کثیرُالاَسْماء(یعنی بہت زیادہ ناموں والا)ہونا۔کسی کے ناموں کا زیادہ ہونا اس کے شَرَف و فضیلت کی دلیل ہوتا ہے۔ (خصائص کبریٰ،132/1)امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:اللہ عزّوجلّ کے ناموں کا شمُار نہیں کہ اس کی شانیں غیر مَحدود ہیں۔رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے اسمائے پاک بھی بکثرت ہیں کہ کثرتِ اَسماشرفِ مُسَمّٰی سے ناشِی ہے (یعنی کسی کے ناموں کا زیادہ ہونا اس کی بزرگی اور فضیلت کی وجہ سے ہوتا ہے) ، آٹھ سو سے زائدمَواہب وشرحِ مَواہب (یعنی علّامہ احمد بن محمد خطیب قَسْطلّانی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی کی کتاب اَلْمَوَاہِبُ اللَّدُنِّیَّۃ بِالْمِنَحِ الْمُحَمَّدِیَّہ(36/1)اور علّامہ محمد بن عبدُالباقی زُرقانی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی کی تحریر کردہ اس کی شرح (171/4)) میں ہیں، اورفقیر(یعنی امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ) نے تقریبًاچودہ سو پائے،اورحَصْر(احاطہ یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے تمام ناموں کو شمار کرنا) ناممکن۔(فتاویٰ رضویہ،365/28)

حُور و غِلماں و جِناں کیوں نہ ہوں میرے مُشتاق

ہے وظیفہ مِرا اَسمائے رسول ِعربی([1])

(4)اللہپاک کےحبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیِّدُناجبرائیل علیہ الصّلوٰۃ و السَّلام کو ان کی اصل صورت میں ملاحظہ فرمایا۔ (اُنموذج اللبیب فی خصائص الحبیب مع شرح،ص30)

فرشتوں میں افضل کیا یوں خدا نے

کہ کرتے تھے جبریل خدمت نبی کی

(5) مختصر الفاظ میں طویل مضامین کا بیان۔ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے:اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمیعنی مجھے جَوَامِعُ الْکَلِم عطا کئے گئے۔ (مسلم، ص210، حدیث:1167) جَوَامِعُ الْکَلِم اس کلام کو کہتے ہیں جس کی عبارت مختصر اور معانی میں بہت تفصیل ہو۔اللہ پاک نے سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے ایک یا دو جملوں میں ان مَضامینِ کثیرہ کو جمع فرما دیاجو آپ سے پہلے متعددآسمانی کتابوں میں لکھے ہوئے تھے۔ (عمدۃ القاری ، 294/10)

میں نِثار تیرے کلام پر ،ملی یوں تو کس کو زباں نہیں

وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو،وہ بَیاں ہے جس کا بیاں نہیں

(6)دیگر انبیائے کرام علیہم السَّلام کی بِعثت خاص کسی ایک قوم کی طرف ہوئی لیکن حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام مخلوق انسان وجِنَّات بلکہ فرشتوں، حیوانات اور جَمادات (یعنی بے جان چیزوں) سب کی طرف مَبْعُوث ہوئے۔ جس طرح انسان کے ذمّہ حضور( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی اِطاعت فرض ہے یوں ہی ہر مخلوق پر حضور ( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی فرمانبرداری ضروری ہے ۔ (بہارِ شریعت، 61/1بتغیرٍ)

اللہپاک نےارشادفرمایا:وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ترجمۂ کنزالعرفان:اور اے محبوب!ہم نے آپ کو تمام لوگوں کیلئے خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ 22، سبا:28)فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہے:اُرْسِلْتُ اِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً یعنی مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا۔(مسلم، ص210، حدیث:1167)

جس کے گھیرے میں ہیں انبیا و مَلَک

اس جہانگیر بِعثت پہ لاکھوں سلام

(7)نیند کی حالت میں مبارک آنکھیں سوجاتیں لیکن مقدّس دل بیداررہتا۔(خصائص کبریٰ،1/118)

دلِ پاک بیدار اور چَشْم خُفْتَہ

نرالا تھا عالَم میں سونا تمہارا([2])

(8)رحمتِ عالَم،نورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمجب گفتگو فرماتے تو مبارک دانتوں کی کھڑکیوں سے نور کی شُعائیں برآمد ہوتیں۔(مشکوٰۃ المصابیح،2/362،حدیث:5797)یہ نور دن میں بھی دیکھا جاتا تھامگر رات میں تو دانتوں کے اس نور سےسُوئی تلاش کرلی جاتی تھی۔(مراٰۃ المناجیح،8/62)

ہے چمک تیرے دُرِّ دَنْدَاں میں جیسی یانبی

موتیوں میں کب ہے ایسی آبداری یا رسول([3])



[1] غِلماں:جنتیوں کے نوعمر خادم۔ جِناں: جنّتیں۔مُشتاق:طلب گار۔

[2] دیگرانبیائےکرامعلیہم الصّلوٰۃوالسّلامکابھی یہی معامَلہ تھا۔(بخاری،2 / 492، حدیث :3570) چَشْم خُفْتَہ:آنکھ سوئی ہوئی۔

[3] دُرِّ دنداں :موتیوں جیسے دانت۔آب داری:چمک دمک۔

Share