کسی کی وفات ہونے پر رونا

رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:اَلَا تَسْمَعُوْنَ اِنَّ اللَّہَ لَایُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَیْنِ، وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ، وَلَکِنْ یُعَذِّبُ بِہَذَا- وَاَشَارَ اِلٰی لِسَانِہٖ- اَوْ یَرْحَمُ، وَاِنَّ الْمَیِّتَ یُعَذَّبُ بِبُکَاءِ اَہْلِہِ عَلَیْہِ ترجمہ:کیا تم سنتے نہیں ہو بیشک اللہ نہ آنسوؤں سے رونے پر عذاب کرتا ہے اور نہ دل کے غم پر (اور زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) ہاں اس کے سبب عذاب فرمائے گا یا رحم فرمائے گا اور بیشک مُردے پر عذاب ہوتا ہے اس کے گھر والوں کے اس پر نَوحہ کرنے سے۔(بخاری، 1/441،حدیث:1304)

شرحِ حدیث

اس حدیثِ پاک میں تین چیزوں کا بیان ہے:

(1)آنسوؤں سے رونے اور دل کے غم پر پکڑ نہیں، بلکہ ان دونوں پر ثواب ملے گا اگر رَحمت کی جِہَت (یعنی رَحمت کی وجہ) سے ہو جیسا کہ ”مِرقاۃ“میں علامہ علی قاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی نے بیان فرمایا۔(مرقاۃ المفاتیح، 4/207، تحت الحدیث:1724)

(2)البتّہ زبان سے اگر قابلِ گرفت بات کی تو اس پر عذاب کا استحقاق ہے جیسا کہ میّت پر نَوحہ کرنا (یعنی چِلّا کررونا اور جَزَع فَزَع کرنا)، اور اگر اچّھی بات کی تو ثواب ملے گا۔

(3)گھر والوں کے نَوحہ کرنے سے میّت کو عذاب ہوتا ہے، اس کے متعدد معانی شارحین نے بیان کئے ہیں:

(1)یہ وعید (یعنی عذاب کا وعدہ) اس کے حق میں ہے جس نے وصیت کی ہو کہ اس کے مرنے کے بعد اس پر نَوحہ کیا جائے، پس اس کی وصیت کو نافذ کرتے ہوئے گھر والوں نے نَوحہ کیا تو میّت کو اس کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ اور اگر اس کی وصیت کے بغیر گھر والے نَوحہ کرتے ہیں تو میّت کو اس کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ) وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ ( ترجمۂ کنزُ الایمان:اور کوئی بوجھ اُٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گی۔ (پ8، الانعام: 164)(مرقاۃ المفاتیح،4/208،تحت الحدیث: 1724)

(2)عذاب سے مراد وہ دُکھ اور تکلیف ہے جو میّت کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب گھر والوں کا چِلّا کر رونا سنتی ہے۔(مرقاۃ المفاتیح، 4/224،تحت الحدیث:1741) یہ بات فتاویٰ رضویہ میں بھی مِرقاۃ وغیرہ کے حوالے سے لکھی ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 24/481) مزید فتاویٰ رضویہ میں ہے:چِلاّ کے رونے سے مُردے کو ضَرور تکلیف ہوتی ہے.....چلّا کے رونے سے زندے پریشان ہوجاتے ہیں اِیذا پاتے ہیں نہ کہ مُردہ (یعنی مردہ اس سے بدرجہ اَولیٰ ایذا پاتا ہے کہ) جس پر ابھی ایسی سخت تکلیف چلّانے کی گزرچکی ہے اس کی پریشانی اس کی ایذا (تکلیف)، بیان سے باہَر ہے۔ پھر وہ تو دارِ حق میں گیا اب اسے ہرمصیبت رنج دیتی اور ہر حَسَنَہ (نیکی) سُرُور بخشتی ہے یہ امر اس کے لئے صدگونہ ایذا (یعنی بہت زیادہ تکلیف) کا باعث ہوتا ہے، بچّہ ہو یا جوان اس میں سب یکساں ہیں۔(فتاویٰ رضویہ، 24/480)

(3)ایک قول یہ ہے کہ یہاں میّت سے مراد قریبُ الموت شخص ہے کہ گھر والوں کے اس کے پاس رونے، چِلّانے کی وجہ سے اس کا معاملہ شدّت اختیار کرجاتا ہے۔(مرقاۃ المفاتیح، 4/208،تحت الحدیث:1724)


آنسوؤں سے رونے اور دل کے غم پر عذاب کیوں نہیں؟

علّامہ عبدالرّحمٰن ابنِ جوزی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (سالِ وفات: 597ھ) فرماتے ہیں: آنسوؤں سے رونے اور دل کے غم پر عذاب نہ ہونے کی تین وجوہات ہیں:(1)ان دونوں باتوں میں کوئی عیب نہیں کیونکہ یہ خلافِ مشروع نہیں (2)یہ دونوں رقّتِ قلب کا اثر ہیں اور یہ چیز طبیعتوں میں رکھی گئی ہے (3)ان دونوں کا رَدّ (یعنی ترک) کرنا ممکن نہیں لہٰذا ان دونوں پر مؤاخذہ نہیں۔(کشف المشکل، 2/563)

نَوحہ کسے کہتے ہیں؟ اور اس کا حکم

صدرُالشّریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: نوحہ یعنی میّت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کرکے آواز سے رونا جس کو بَین کہتے ہیں بِالاجماع حرام ہے۔ یوہیں وَاوَیْلا وَامُصِیْبَتَا (ہائے مصیبت) کہہ کے چلّانا۔ گریبان پھاڑنا، مونھ (منہ) نوچنا، بال کھولنا، سر پر خاک ڈالنا، سینہ کوٹنا، ران پر ہاتھ مارنا یہ سب جاہلیت کے کام ہیں اور حرام (ہیں)۔(بہارِ شریعت،1/854)

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: میّت پر چِلّا کررونا جَزَع فَزَع کرنا حرام سخت حرام ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 24/482) تحریمِ نوحہ میں احادیثِ متواترہ موجود ہیں۔(فتاویٰ رضویہ، 24/486)

نَوحہ کی حرمت پر پانچ فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(1)لوگوں میں دو کُفر (کی علامات) ہیں کسی کے نسب پر طعنہ اور میّت پر نوحہ۔(مسلم،ص55،حدیث:227)(2)دو آوازوں پر دنیا و آخِرت میں لعنت ہے، نعمت کے وقت باجا اور مصیبت کے وقت چلّانا۔(کشف الاستار،1/377،حدیث:795) (3)چِلاّکر رونے والی جب اپنی موت سے قبل توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن کھڑی کی جائے گی یوں کہ اس کے بدن پر گَندَھک کا کُرتا ہوگا اور کھجلی کا دوپٹہ۔(مسلم،ص362،حدیث:2160) (4)یہ نَوحہ کرنے والِیاں قِیامت کے دن جہنّم میں دوصفیں کی جائیں گی دوزخیوں کے دائیں بائیں وہاں ایسے بھونکیں گی جیسے کُتیاں بھونکتی ہیں۔ (معجم الاوسط، 4/66، حدیث:5229) (5)میں بیزار ہوں اس سے جو بَھدْرا کرے (یعنی سر، مونچھ یا داڑھی وغیرہ مونڈے) اور چلّا کر روئے اور گریبان چاک کرے۔(مسلم،ص65،حدیث:288)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 

Share

Articles

Comments


Security Code