حضرت سیّدَتُنا رُبَیّع بنتِ مُعَوَّذ انصاریہ رضی اللہ تعالٰی عنہا

جن خوش قسمت اور حوصلہ مند خواتین نے شجرِ اسلام کی آبیاری کے لئے بے مثال قربانیاں پیش کیں، مَصائب برداشت  کئے، مشکل حالات میں بھی ثابت قَدَمی کا مُظاہرہ کیا، ان بلند ہمت خواتین میں ایک حضرت سیِّدَتُنا رُبَیِّع رضی اللہ تعالٰی عنہابھی ہیں۔تعارف آپ کا نام رُبَیِّع بنتِ مُعَوَّذ بن عَفْراء انصاریہ ہے اور والدہ کا نام اُمِّ یزید بنتِ قَیْس ہے۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنی نَجّار سے ہے۔ (الاصابۃ ، 7/132)آپ کے والد حضرت سیِّدُنا مُعَوَّذ رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ بدری صحابی ہیں جنہوں نے دشمنِ اسلام ابو جہل کو جہنم واصل کرنے میں حصّہ لیا نیز غزوۂ بدر ہی میں جام ِشہادت نوش کیا۔ (سیر اعلام النبلاء،2/359) تقریبِِ نکاح آپرضی اللہ تعالٰی عنھاکو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ کی شادی کی تقریب میں خاتَم الانبیاء، محبوبِِ خدا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم خود تشریف لائے۔ (الاستیعاب، 4/396) آپ کا نکاح جلیلُ القدر بدری صحابی حضرت سیِّدُنا اِیاس بن بُکَیْر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہوا۔ان سے آپ کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام محمد بن اِیاس ہے۔ (طبقات ابنِ سعد، 8/329) کتبِ سِیَرت و تاریخ میں حضرت سیِّدُتنا رُبیّع بنتِ مُعَوَّذرضی اللہ تعالٰی عنہما کے فضائل و کمالات بیان کئے گئے ہیں چنانچہ بیعتِ رضوان کی سعادت جن خوش نصیبوں نے بیعتِ رضوان کی سعادت پائی اور زبانِ رسالت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے جہنم سے آزادی کی بشارت پائی۔ (مسند احمد، 5/123، حدیث: 14784ماخوذاً) ان میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنھا کا اسمِ گرامی بھی شامل ہے۔ مجاہدین کی خدمت آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہمراہ کئی غزوات میں شرکت کی ، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ خود فرماتی ہیں کہ ہم رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہمراہ غزوات میں مجاہدین کو پانی پلانے اور زخمیوں کے علاج مُعالَجے کی خدمات سرانجام دیتے۔ (بخاری، 2/276، حدیث: 2882ملخصاً) سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کرم نوازی ایک بار آپ نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں کچھ ہدیہ بھیجا تو آپ علیہ الصلٰوۃ والسَّلام نے اسے قبول فرمایا اور بدلے میں آپ کو مُٹھی بَھر سونا عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس کا زیور بنوا لینا۔(الاستیعاب، 4/396) نعتِ رسولِ پاک کا دلنشین انداز ایک بار آپ سے کسی نے کہا: نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اوصاف بیان کیجئے تو آپ نے نہایت خوبصورت انداز میں حسنِ مصطفےٰ کا نقشہ یوں کھینچا: لَوْ رَاَيْتَهٗ لَرَاَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةً اگر تم سرکار کی زیارت کرتے تو گویا طلوع ہوتے ہوئے سورج کو دیکھتے۔ (الاصابۃ ، 7/133) وصالِ مبارک آپ کا وصالِ مبارَک عبدالمِلک کے دورِ حکومت میں ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء، 3/198) ایک قول کے مطابق آپ حضرت سیِّدُنا امیرِ مُعاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کےدورِ حکومت تک زندہ رہیں۔(اعلام للزرکلی،3/15)

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Share

حضرت سیّدَتُنا رُبَیّع بنتِ مُعَوَّذ انصاریہ رضی اللہ تعالٰی عنہا

طالبات کا ایامِ مخصوصہ میں اپناسبق یادکرنے کی نیت سے قرآنِ عظیم پڑھنا

سوال:کیا فرماتے ہیں عُلَمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مدرسۃُ المدینہ للبَنات کے حفظِ قرآن کی بالغات طالبات ایّامِ مخصوصہ میں اپنا سبق یاد کرنے کی نیّت سے قرآنِ عظیم پڑھ سکتی ہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ایّامِ مخصوصہ میں سبق یادکرنے کی نیت سے بھی قرآنِ عظیم نہیں پڑھ سکتیں کہ ان دنوں میں قرآنِ عظیم کی تلاوت کرنا حرام ہے البتّہ قرآن دیکھ اور سُن سکتی ہیں،لہٰذا عذر کے دنوں میں اپنی منزل کو دیکھ لیا کریں یا کسی سے سُن لیا کریں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

عورت کا خالویا نابالغ بھائی کے ساتھ سفر کرنا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ(1)کیابالغہ عورت اپنے نابالغ بھائی جس کی عمردس سال ہےاوروہ سمجھ داربھی ہےاس کے ساتھ سفرِ شرعی کر سکتی ہے؟ (2)کیاعورت اپنے خالوکے ساتھ سفرِ شرعی کر سکتی ہے جبکہ خالوسے مزیدکوئی نسبی یارضاعی رشتہ نہ ہو؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

(1)شریعتِ مُطہّرہ کے اصولوں کی روشنی میں عورت کے لئےتین دن (یعنی92کلو میٹر) کی راہ کےسفرمیں شوہر یا عاقل بالغ یاکم ازکم مُراہِق (قریبُ البلوغ) مَحرَم، قابلِ اعتماد غیرِ فاسق کا ساتھ ہونا ضروری ہے اس کے بغیر سفر کرنا ناجائز و حرام و سخت گناہ ہے لہٰذا صورتِ مسئولہ(پوچھی گئی صورت) میں اس عورت کا اپنے دس سالہ بھائی کے ساتھ سفرِشرعی کرنا ناجائز ہے کہ دس سالہ بچّہ نابالغ ہے مُراہق بھی نہیں کہ مراہق کے لئے عُلَمائےکرام نے بارہ سال عمر بیان فرمائی ہے۔(2)شریعتِ مطہّرہ میں خالو کا حکم مثلِ اجنبی ہے لہٰذا عورت اس کے ساتھ سفر نہیں کرسکتی۔وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Share

Articles

Comments


Security Code