اجارہ کے وقت میں کوئی اور کام کرنا/تقریر کی اجرت لینا

اِجارہ کے وقت میں کوئی اور کام کرنا

کیا فرماتے ہیں عُلَمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مَحکَمہ میں مسجد کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا، مکمّل کام ٹھیکے پر کروایا جارہا تھا، مسجد کے دوسرے فلور پر جانے کے لیے سیڑھی بنائی گئی، ٹھیکیدار نے سیڑھی کو پانی نہیں لگوایا، جب وہاں کے ذمّہ دار نے سیڑھی کو دیکھا تو اس نے ٹھیکیدار کو کہا کہ ”اس سیڑھی کو پانی لگوائیں ورنہ یہ خراب ہوجائے گی“ تو ٹھیکیدار نے جواباً کہا:’’ آپ کسی سے پانی لگوالیں، میں ایک ہزار روپے اجرت دے دوں گا‘‘،پھر ٹھیکیدار نے اس مَحکمہ کے خادم سے اس کے اجارہ ٹائم میں پانی لگوایا اور اسے ایک ہزار روپے اجرت دیدی، حالانکہ اس خادم کا مَحکمہ میں جس کام پر اجارہ تھا وہ موجود تھا اس کو چھوڑ کر اس نے پانی لگایا۔ شرعی رہنمائی درکار ہے کہ(1)خادم کا وقتِ اجارہ میں سیڑھی کو پانی لگانے کا کام کرنا اور ہزار روپے اجرت لینا کیسا تھا؟ (2)اگر وہ اجرت کا حقدار نہیں ہے تو کیا یہ رقم خادم سے لے کر ٹھیکیدار کو واپس دی جائے یا مسجد کے فنڈ میں ڈال دیں؟ (3)خادم نے جتنا وقت سیڑھی کو پانی لگانے کا کام کیا اس کی اتنے وقت کی کٹوتی ہوگی یا نہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

(1تا3)صورتِ مسئولہ میں اس مَحکمہ کا خادم اجیرِِ خاص ہے۔ اس کے لیے دورانِ اجارہ ٹھیکیدار سے سیڑھی کو پانی لگانے کا اجارہ کرنا، ناجائز و حرام تھا، البتّہ جب اس نے پانی لگادیا تو وہ اجرت کا مستحِق ہوگیا، لہٰذا جو اجرت ٹھیکیدار نے اسے دی وہ اسی کا حق ہے، وہ نہ تو ٹھیکیدار کو واپس دی جائے گی اور نہ ہی مسجد فنڈ میں ڈالی جائے گی، نیز خادم کے لیے لازم ہے کہ اس گناہ سے توبہ کرے اور جتنا وقت دورانِ اجارہ سیڑھی کو پانی لگایا اتنے وقت کا صحیح تعیّن کرکے اپنی اجرت سے کٹوتی کروائے۔

اس میں تفصیل یہ ہے کہ اجیرِ خاص (یعنی جو شخص خاص وقت میں خاص شخص کا اجیر ہو اس) پر لازم ہوتاہے کہ وہ وقتِ اجارہ میں مُستاجِر (جس کا ملازم ہے اس) کے ساتھ کئے گئے معاہَدے کے مطابق اچّھے طریقے سے کام سرانجام دے، اس دوران وہ اپنا ذاتی یا کسی اور کا کام یا دوسری جگہ اجارہ نہ کرے، اگر وہ کرے گا تو گنہگار ہوگا، اگر اس دوران وہ دوسری جگہ اجارہ کرے تو پہلے مقرّرہ کام میں سے جتنا وقت کام ترک کیا اتنے وقت کی کٹوتی کروانا بھی لازم ہوگا، البتّہ اس صورت میں دوسری جگہ جو کام کیا، اس کی اجرت کا اجیر مستحِق ہوجاتا ہے۔

اجیرِ خاص کی تعریف کے متعلّق درّ مختار مع رد المحتار میں ہے: ترجمہ: اجیرِِ خاص کا دوسرا نام اکیلے شخص کا اجیر ہے، اور اس سے مراد وہ شخص ہے جو وقت ِخاص میں کسی ایک کا کام کرے، اور یہ مدّتِ اجارہ میں تسلیمِ نفس کے ساتھ اجرت کا حق دار ہوگا اگرچہ (مستاجر کی طرف سے کام نہ ملنے کی صورت میں) کام نہ کرے، مثلاً کسی کو ایک ماہ تک خدمت یا بکریاں چرانے کے لیے معیّن اجرت کے بدلے میں اجیر رکھنا۔ (در مختار،9/117)

اجیرِ خاص کا بوقتِ اجارہ کسی دوسرے کا کام کرنے کے متعلّق درّمختار میں ہے: ترجمہ: اجیرِ خاص کو جائز نہیں کہ دوسروں کا کام کرے اگر اس نے ایسا کیا تو اتنی رقم اس کی تنخواہ سے کاٹ لی جائے گی۔ (درمختار،9/119)

محیطِ برہانی میں ہے:ترجمہ: جو شخص من کل ّالوجوہ اجیرِِ ِخاص ہو یعنی خاص مدّت تک اس سے عقد ِاجارہ کیا گیا اور اس نے اسی مدّت میں دوسرے سے بھی ایسے کام پر اجارہ کر لیا کہ دونوں کام ایک ساتھ کرنا ممکن نہیں مثلاً کسی دن ایک درہم کے بدلے میں کھیتی کی کٹائی یا خدمت کرنے پر اجارہ کیا پھر جس سے اجارہ کیا تھا اس کے علاوہ کسی کے لیے کچھ وقت کھیتی کی کٹائی یا خدمت کرنے میں وقت صرف کیا تو پہلی جگہ سے پوری تنخواہ کا مستحِق نہیں ہو گا (بلکہ جتنا ٹائم دوسری جگہ صرف کیا پہلی جگہ سے اتنی کٹوتی کروانی ہوگی) اور گناہ گار بھی ہوگا۔(محیط برہانی ،9/331)

امامِ اہلِ سنّت سیّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: اجیرِ خاص پر وقتِ مقرّرہ معہود میں تسلیمِ نفس لازم ہے، اور اسی سے وہ اجرت کا مستحق ہوتا ہے اگرچہ کام نہ ہو ۔۔۔۔ بہرحال جس قدر تسلیمِ نفس میں کمی کی ہے اتنی تنخواہ وضع ہوگی۔(فتاویٰ رضویہ،19/506)

بہارِشریعت میں ہے: اجیرِ خاص نے اگر دوسرے کا کام کیا تو جتنا کام کیا ہے اُسی حساب سے اُس کی اُجرت کم کردی جائے گی۔(بہارشریعت،حصہ:14،3/161)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

تقریر کی اجرت لینا

کیا فرماتے ہیں عُلَماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ جو مقرِّر پیسے طے کر کے آئے اور پیسے نہ ملنے پر نہ آئے کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ ایسے مقرّر کا وعظ و نصیحت سننا چاہئے کہ نہیں؟ ایسے مقرّر کا وعظ سننا جائز ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

فی زمانہ مقرّر کا تقریر و بیان کی اجرت لینا جائز ہے اور جو مقرّر طے کرکے اجرت لیتا ہے اس کا وعظ و بیان سننا جائز ہے بشرطیکہ صحیح العقیدہ سنّی ہو۔ امامِ اہلسنّت مجدّدِ دین و ملّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: ’’اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔ درّمختار میں اسے یہود و نصاریٰ کی ضلالتوں میں سے گِنا مگر ’’کم مّن احکام یختلف باختلاف الزّمان، کما فی العٰلمگیریۃ‘‘ (بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔) کلیہ غیرِِ مخصوصہ کہ طاعات پر اُجرت لینا ناجائز ہے ائمہ نے حالاتِ زمانہ دیکھ کر اس میں سے چند چیزیں بضرورت مستثنٰی کیں: امامت، اذان، تعلیمِ قرآنِ مجید، تعلیمِ فقہ، کہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیں، مجمع البحرین وغیرہ میں ان کا پانچواں وعظ گنا و بس۔ فقیہ ابواللیث سمرقندی فرماتے ہیں، میں چند چیزوں پر فتوٰی دیتا تھا، اب ان سے رجوع کیا، ازانجملہ میں فتوٰی دیتا تھا کہ عالم کو جائز نہیں کہ دیہات میں دورہ کرے اور وعظ کے عوض تحصیل کرے مگر اب اجازت دیتا ہوں، لہٰذا یہ ایسی بات نہیں جس پر نکیر لازم ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔‘‘(فتاویٰ رضویہ،19/538)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ’’بعض عُلَماء نے وعظ کو بھی ان امورِ مستثنیٰ میں داخل کیا جن پر اس زمانہ میں اخذِ اجرت (اجرت لینا) مشائخِ متاخرین نے بحکم ِضرورت جائز رکھا‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ،19/435)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Share

Comments


Security Code