حضور جانتے ہیں!(قسط:02)

قراٰنِ پاک کی کئی  آیاتِ مبارَکہ میں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارَک علمِ غیب کا بیان موجود ہے چند آیات مُلاحَظہ فرمائیے اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیجئے: (1)ہمارا پیارا رب ارشاد فرماتا ہے: ) وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪- فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۷۹)( ترجَمۂ کنزالایمان:اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے۔4،اٰل عمرٰن:179)

شانِ نُزُول

امام شہابُ الدّین احمد بن علی المعروف ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نقل فرماتے ہیں:نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابَۂ کرام سے فرمایا: میری اُمّت مجھ پر ایسے پیش کی گئی جیسے حضرتِ آدم علیہ السَّلام پر پیش کی گئی تھی تو میں نے جان لیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا۔ یہ بات جب منافقین تک پہنچی تو انہوں نے کہا: مَعَاذَاللہ محمد(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) گمان کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کون ان پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرےگا حالانکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں جانتے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔(العجاب فی بیان الاسباب ،2/798) امام بَغَوی (سالِ وفات:510ھ)،امام سراجُ الدّین عمر حنبلی (سالِ وفات:775ھ)، امام محمد بن احمد شِربِینی (سالِ وفات: 977ھ) اور امام علاءُ الدّین علی بن محمد خازن رضوان اللہ تعالٰی علیہم اَجْمعین (سالِ وفات: 741ھ)نے کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ مزید یوں بیان فرمایا ہے کہ:منافقوں کا اعتراض سُن کر ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کریم کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:ان لوگوں کا کیا حال ہے جو میرے علم پر اعتراض کرتے ہیں: لَا تَسْألُونِي عَن شَيءٍ فِيما بَينَكُم وَبَينَ السَّاعَةِ اِلّا نَبَّاْ تُكُم بِهٖ یعنی تمہارے اور قیامت کے درمیان جو کچھ بھی ہے تم مجھ سے ان میں سے جس کسی چیز کے بارے میں سُوال کرو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرتِ سیّدُنا عبد اللہ بن حُذَافہ سَہمی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: مَنْ اَبِيْ يَا رَسُولَ اللّٰه؟ یعنی يارسولَ اللّٰه! میرا والد کون ہے ؟ ارشاد فرمایا: حُذافہ، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی: يا رسولَ اللّٰه! صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، ہم اللہ پاک کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے، قراٰن کے امام و پیشوا ہونے اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے ہمیں معاف فرما دیجئے۔نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دو مرتبہ فرمایا: فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ تو کیا تم باز آئے ،تو کیا تم باز آئے ، پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے اس پر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی۔(خازن،پ4، اٰل عمرٰن، تحت الآیۃ:179،1/328)


(2)ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان قراٰنِ پاک کے پارہ پانچ میں یوں ہے:) وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳) ( ترجَمۂ کنزالایمان: اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ5، النساء:113)

یہ آیتِ مبارَکہ ہمارے پیارے نبیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظیم مدح اور تعریف پر مشتمل ہے۔ اللہ کریم نے اپنے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور آپ کو دین کے اُمور ، شریعت کے احکام اور غیب کے وہ تمام عُلوم عطا فرما دئیے جو آپ نہ جانتے تھے چنانچہ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں امام ابوجعفر محمد بن جریر طَبَری علیہ رحمۃ اللہ القَوی لکھتے ہیں: مِنْ خَبَرِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِيْنَ، وَمَا كَانَ وَمَا هُوَ كَائِنٌ، فَكُلُّ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِِ اللّٰه عَلَيْك یعنی اللہ پاک نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اوّلین و آخِرین کی خبریں دیں اور جو کچھ ہو چکا اور جو ہو گا اس سب کا علم عطا فرمادیا اور یہ سب کچھ آپ پر آپ کے ربّ کا فضل ہے۔(تفسیر طبری،4/275)

یاد رہے

’’ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ ‘‘ میں وہ سب کچھ داخل ہے جو ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پہلےنہ جانتے تھے۔ اسی آیتِ کریمہ کے تحت تفسیر البحر المحیط، 3/362، زاد المسیر فی علم التفسیر، جزثانی، 1/118، اور روح المعانی، 3/187 میں اس کی تصریح اور وضاحت ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

(3)اللہ ربّ العزّت ارشاد فرماتا ہے:) اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴) (ترجمۂ کنزالایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا۔ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان اُنہیں سکھایا۔27، الرحمٰن:1تا4)

اس آیت میں ’’انسان‘‘ اور’’بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں مفسّرین کے مختلف قول ہیں،تفسیرِ خازن میں ایک قول اس طرح ہے: اَرَادَ بِالإنسانِ مُحَمَّدًا صلّى اللّٰهُ عَلَيه وَسَلَّم یہاں انسان سے مراد محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں عَلَّمَهُ الْبَيَان يَعني بَيَان مَا يَكُونُ وَمَا كَان لِأَنّه صلّى اللّٰه عَلَيهِ وَسَلَّم يُنبِئُ عَن خَبْرِ الأوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَعَن يَومِ الدِّين یعنی ”بیان“سے’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبِیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَوّلین و آخِرین اور قیامت کے دن کی خبریں دیتے تھے۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ:3-4،4/208)

امام حسین بن مسعود بَغَوی (سالِ وفات: 510ھ) نے تفسیر ِمعالمُ التنزیل،4/243 پر، امام عبدالرّحمٰن ابنِ جوزی (سالِ وفات:597ھ) نے تفسیر ِزاد المسیر،جز اوّل، 4/304 پر ،علامہ ثناء اللہ نقشبندی (سالِ وفات: 1225ھ) نے تفسیرِ مَظہری، 9/123 پر ، علامہ احمد صاوی(سالِ وفات: 1241ھ) نےتفسیرِ صاوی،6/2074 پر اسی آیت کے تحت ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے علمِ ما کان و ما یکون کا قول ذکر فرمایا ہے۔

(4) اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:) عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(۲۷)( ترجَمۂ کنزالایمان: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرّر کر دیتا ہے۔ (پ 29، الجن:26-27)

(5) اللہ پاک فرماتا ہے:) وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ(۲۴) (ترجَمۂ کنزالایمان:اوریہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔ (پ 30، التکویر:24)

اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں دُرُود

احادیثِ مبارَکہ کی روشنی میں رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علمِ غیب کا بیان اگلے ماہ کے شمارے میں ملاحظہ کیجئے۔

Share

Articles

Comments


Security Code