صَحابہ جب جنازہ حضرتِ صدّیق کا لائے

جُمادَی الاُخریٰ خلیفۂ اوّل حضرت سیّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یومِ وصال ہے، اس مناسبت سے مدَّاحُ الحبیب مولانا جمیلُ الرّحمٰن قادری رضوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کے نعتیہ دیوان ”قبالۂ بخشش“ کے دو اَشعار مع شرح ملاحظہ فرمائیے:

صَحابہ جب جنازہ حضرتِ صدّیق کا لائے

”چلے آؤ مِرے پیارے!“ ندا آئی یہ اندر سے

شرح صَحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان جب عاشقِ اکبر، حضرت سیّدُنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا جنازہ لے کر روضۂ انور پر حاضر ہوئے تو اندر سے آواز آئی کہ میرے پیارے کو اندر لے آؤ۔

اس شعر میں ایک حکایت کی طرف اشارہ ہے: حضرت سیّدُنا ابوبکر صِدّیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے مرضِ وفات میں وصیّت فرمائی کہ میری وفات کے بعد جب تم لوگ میرے غسل و کفن سے فارغ ہوجاؤ تو میری میّت اٹھا کر روضۂ انور کے دروازے پر حاضر ہوکر یہ عرض کرنا:”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو، یہ ابوبکر ہیں جو اجازت طلب کررہے ہیں۔“ اگر اجازت مل جائے اور دروازہ کھل جائے تو اندر جاکر مجھے وہاں دفنا دینا، ورنہ میری تدفین جنّتُ البقیع میں کرنا۔ بعدِ وصال لوگ اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے جنازۂ مبارکہ لے کر روضۂ انور کے دروازے پر حاضر ہوئے تو مبارک دروازے کا تالا شریف خود بخود کُھل گیا اور اندر سے یہ آواز آئی: اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ فَاِنَّ الْحَبِيْبَ اِلَى الْحَبِيْبِ مُشْتَاقٌ یعنی حبیب کو حبیب کے دربار میں داخِل کردو کیونکہحبیب اپنے حبیب سے ملنے کا مشتاق (یعنی شوق رکھنے والا) ہے۔(تفسیر کبیر،7/433،سیرتِ حلبیہ، 517/3)

ابوبکر کی شان و عزت تو دیکھو

رہی بعدِ رِحلت بھی قُربت نبی کی

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تنہائی سے خائِف ہوئے جب شاہ تو رب نے

تسکین دی صِدّیق کی آواز سنا کر

الفاظ و معانی خائف: (مرادی معنی) پریشان۔ شاہ: بادشاہ، مراد نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔ تسکین:تسلّی۔

شرح شبِ معراج جب ایک مقام پر حضرت سیِّدُنا جبرائیل علیہ السَّلام بھی پیچھے رہ گئے اور سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تنہائی محسوس ہوئی تو اللہ کریم نے حضرت سیّدُنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آواز سنا کر آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تسکین کا سامان فرمایا۔

منقول ہے کہ معراج کی رات جب ایک مقام پر حضرت سیّدُنا جبریلِ امین علیہ الصَّلٰوۃ والتَّسیلم بھی پیچھے رہ گئے تو اللہ کے حبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تنہائی محسوس ہوئی۔ حضرت سیّدُنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ جوکہ عام طور پر سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہم نشین تھے اور آپ ان سے اُنس پاتے تھے، اس موقع پر اللہ کریم نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ان کی آواز سے ملتی جلتی آواز سنائی جس سے تنہائی کا اِحساس جاتا رہا۔(روح البیان،417/7، لوا قح الانوار القدسیۃ،ص490)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Share

Articles

Comments


Security Code