وقت کیسے ضائع ہوتا ہے ؟

کئی سال کے بعد میں اپنے دوست سے ملنے اس کے آفس گیا۔ اس نے مجھے کرسی پیش کی اور ایک فائل پر کچھ دیر غور کرنے کے بعد اپنا نوٹ لکھا، پھر خود اُٹھا اور وہ فائل دوسرے کمرے میں اپنے ایک جونیئر کو دے آیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ جونئیر کو یہیں بلا کر فائل کیوں نہ دے دی؟ کہنے لگا: اپنا وقت بچانے کے لئے! کیونکہ میں خود گیا تو ایک آدھ منٹ لگا لیکن اگر اسے بُلاتا تو وہ آتا میری مرضی سے اور جاتا اپنی مرضی سے، جس سے میرا کافی وقت ضائع ہوجاتا۔

پیارے اسلامی بھائیو!اس فرضی حکایت سے وقت کی اہمیت معلوم ہوئی۔ وقت کی دولت امیر غریب، سُست چُست سب کو یکساں ملتی ہے، کسی کا منٹ 70 سیکنڈ یا گھنٹا 65 منٹ کا نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کے لئے ایک منٹ 60 سیکنڈ، ایک گھنٹا 60منٹ اور ایک دن 24 گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ کوئی کم وقت میں زیادہ کام کرلیتا ہے اور دوسرا وقت کی کمی کا رونا روتا رہتا ہے! فرق اتنا ہے کہ جو شخص اپنے سیکنڈز ضائع کرتا ہے اس کے منٹ بے کار ہونے لگتے ہیں اور جو ایک منٹ کی قدر نہیں کرتا روزانہ کی بنیاد پر کئی گھنٹے ضائع کر بیٹھتا ہے، اس کے برعکس جو اپنا ایک ایک منٹ بچاتا ہے اس کا وقت ضائع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یوں وہ زیادہ کام کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وقت کس طرح ضائع ہوتا ہے؟ موبائل فون کا کثرت سے استعمال ایک وقت تھا کہ موبائل فون مہنگا تھا اور اس کی سِم(Sim) بھی! اور کال سننے کے بھی پیسے لگتے تھے تو لوگوں کا وقت کم ضا ئع ہوتا تھا۔ اب موبائل سستا، سِم تقریباً فری اور ہزاروں منٹ کے پیکج کم ترین ریٹ پر دستیاب ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے اب ضروری فون کالز کے ساتھ ساتھ گھنٹوں لمبی لمبی گفتگو بھی کی جاتی ہے، فون کرنے والا سمجھتا ہے کہ مجھے یہ گفتگو بہت سستی پڑی لیکن اس طرف توجہ نہیں جاتی کہ کتنا قیمتی وقت ضائع ہوگیا۔ پھر یہ گفتگو کتنی فضول، کتنی گناہوں (مثلاً غیبت وتہمت اور چغلی) پر مشتمل اور کتنی جائز ہوتی ہے! اس کا اندازہ بھی وہی کرسکتا ہے جو علمِ دین سے مالا مال ہونے کے ساتھ ساتھ حَسّاس (Sensitive) بھی ہو۔ یاد رکھئے کہ فون کال سستی ہویا مہنگی! آپ کا وقت انمول ہے کیونکہ جو لمحہ گزر گیا وہ لاکھوں روپے دے کر بھی واپس نہیں لیا جاسکتا۔ گپ شپ ملازمت یا تجارت سے فارغ ہوکر فریش ہونے کے نام پر گپ شپ کی محفلیں سجانا اکثر لوگوں کے معمولات (Routine) میں شامل ہوتا ہے، جس میں امیر ہونے کے ناقابلِ یقین طریقے بیان ہوتے ہیں، سیاسی تبصرے ہوتے ہیں، مختلف ذائقوں کے خیالی پلاؤ پکتے ہیں پھر شُرَکا خالی ہاتھ جھاڑ کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتے ہیں۔ اگر روزانہ ایک گھنٹا بھی گپ شپ ہو تو ہفتے میں سات،مہینے میں 30 اور سال میں کم وبیش 365گھنٹے بنتے ہیں۔ ہوٹلنگ گھر پر کھانا پکانے کی سہولت ہونے کے باوجود فیملی یا دوستوں کے ساتھ چھٹی کے دن ہوٹل میں کھانا کھانے کی عادت بھی بعضوں میں ہوتی ہے۔گھر پر کھانے میں شاید آدھا گھنٹا لگتا ہولیکن ہوٹلنگ میں دو سے اڑھائی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ پھر گھر میں پکا ہوا کھانا تحفظِ صحّت کے پیشِ نظر اچھے آئل، ستھری پیاز اور لہسن اور معیاری مرچ وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ ہوٹلوں میں پکنے والا کھانا چٹ پٹا اور مزیدار تو ہوتا ہے لیکن اس میں شامل چیزیں کتنی معیاری یا غیرمعیاری ہوتی ہیں! کبھی غور کریں تو پتا چلے، پھر ہوٹل والوں کو تو اپنا کھانا بیچنے سے مطلب ہوتا ہے آپ کی صحت کی پرواہ تھوڑی ہوتی ہے! 30سال سے اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھایا امام بخاری وامام مسلم رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہما کے استاذِ محترم حضرت سیّدُنا عبید بن یعیش رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا بیان ہے :30 سال تک میری یہ حالت رہی کہ میں رات کا کھانا اپنے ہاتھ سے نہیں کھاتا تھا بلکہ میری ہمشیرہ مجھے اپنے ہاتھوں سے لقمے کھلاتی تھیں اور میں اس دوران لکھتا رہتا تھا۔(سیر اعلام النبلاء،9/614) انٹرنیٹ وقت تب بھی ضائع ہوتا تھا جب انٹرنیٹ نہیں تھا، اب جس کے پاس نیٹ کی جتنی اسپیڈ ہوتی ہے اتنی تیزی سے اس کا وقت ضائع ہونے کا چانس بڑھ جاتا ہے،کافی لوگوں کو اس کا تجربہ ہوگا کہ ایک چیز کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرنے کے لئے نیٹ کھولا تو تَہہ درتَہہ اُترتے چلے گئے اور گھنٹوں گزر گئے مگر وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا، جب ہوش آیا تو پتا چلا کہ ہمارا کام تو دو تین منٹ کا تھا۔ شوقیہ شاپنگ غریب آدمی تو روزانہ یا ماہانہ کی بنیاد پر کماتا، خریدتا اور کھاتا ہے، لیکن جس کے پاس پیسے زیادہ ہوتے ہیں وہ آئے دن شاپنگ کے نام پر خریداری کو بھی تفریح بنالیتا ہے، اس کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ مجھے کیا کیا خریدنا ہے اور نہ یہ پرواہ کہ کتنی رقم خرچ ہوگی، ایسے لوگ کسی بڑے سپر اسٹور میں داخل ہوتے ہیں اور جو پسند آیا اسے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، اسٹور والے بھی سیانے ہوتے ہیں وہ شروع شروع میں دلچسپ آئٹم رکھتے ہیں تاکہ گاہکی بڑھے، گھریلو راشن کہیں کونے کھانچے یا تہہ خانے میں ہوتا ہے۔ اگر گھر سے ہی اشیائے ضرورت کی لسٹ بنا لی جائے اور اس کی پابندی کی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ رقم بھی بچ سکتی ہے۔ علّامہ ابن الحاج مکی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں:ضروریاتِ زندگی کے سامان کی خریداری کے لئے جانے سے قبل گھر میں تھوڑا ٹھہرنا چاہئے تاکہ ”اس کے گھر والے“اچھی طرح سوچ لیں کہ کن کن چیزوں کی ضرورت ہے اور ایک ہی دفعہ بازار جاکر وہ چیزیں خرید لی جائیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ گھر والے بعد میں مزید ضروری سامان کا مطالبہ کریں اور اسے بار بار بازار کے چکر لگانے پڑیں کیونکہ اس طرح یہ حصولِ علم (کی مجلس میں شرکت) وغیرہ نیک اعمال جو کہ بازار کے چکر لگانے سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ان سے محروم ہوجائے گا۔ (المدخل، 1/292) دعوتوں میں شرکت جن کا حلقۂ احباب(فرینڈ سرکل) وسیع ہوتا ہے، انہیں شادی، ولیمے وغیرہ کی دعوتوں میں زیادہ شرکت کرنا پڑتی ہے۔ دعوت بتائے گئے وقت پر شروع ہوجائے یہ بہت کم ہوتا ہے، دس بجے کا وقت دیا گیا ہے تو بارہ بجے شروع ہوگی، پھر ختم ہوتے ہوتے دو بج جاتے ہیں، کب شُرَکا گھر پہنچیں گے؟ کب سوئیں گے؟ نمازِ فجر کا کیا ہوگا؟ اگلے دن نوکری یا کاروبار سے چھٹی ہوجائے گی! ان سب باتوں کی پرواہ میزبان کوہونا دشوار ہے، حیرت اس پر ہے کہ شرکا کی توجہ بھی اس جانب نہیں ہوتی انہیں تو اس وقت دعوت کے سوا کچھ دکھائی نہیں پڑتا۔ اس طرح کی ایک دعوت چار سے پانچ گھنٹے صَرف کروا دیتی ہے، حالانکہ اصل مقصد آدھے گھنٹے میں پورا ہوجاتا ہے۔ ملاقاتیں ہم معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتے لیکن ہر ملاقات ضروری نہیں ہوتی، اگر ہم اپنی غیرضروری ملاقاتوں پر قابو پالیں تو بھی ماہانہ کئی گھنٹے بچ سکتے ہیں۔ تفسىر، حدىث، تارىخ اور دىگر علوم و فنون پر سىنکڑوں کتابیں لکھنے والے بزرگ امام ابنِ جوزی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگرمیں لوگوں سے بالکل الگ تھلگ رہوں تو بھى مناسب نہىں کہ اس سے اُنس و محبت کا تعلق بالکل ختم ہوجاتا ہے، اور اگر اُن سے لَاىعنى ملاقاتوں کا سلسلہ قائم رکھوں تو اس مىں وقت کا ضىاع اور نقصان ہے، اس لئے مىں نے ىہ طرىقہ اپنا لىا ہے کہ اوّلاً تو ملاقاتوں سے بچنے کى اپنى سى کوشش کرتا ہوں اور اگر کسى کى ملاقات کے بغىر چارانہ ہو تو بات نہاىت ہى مختصر کرتا ہوں، مزىدىہ کہ اىسے وقت کے لئے اس قسم کے کام چھوڑ رکھتا ہوں جن مىں زىادہ توجہ کى ضرورت نہىں ہوتى جىسے قلم کی نوک بنانا، کاغذ کاٹنا اور دىگر اس قسم کے ہلکے پھلکے کام ملاقات کے وقت کرلیتا ہوں، اس طرح ملاقات بھى ہوجاتى ہے، اور ىہ کام بھى مکمل ہوجاتے ہىں، یوں زندگی کى قىمتى گھڑیاں صر ف گفتگو مىں ضائع نہىں ہوتىں۔(قیمۃ الزمن عندالعلماء ص58)

پیارے اسلامی بھائیو!اس کے علاوہ سیروتفریح،کم اہم کام میں مصروفیت، بستر پر بے کار پڑے رہنا، درجنوں ایسی باتیں ہیں جو وقت کو ضائع کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ جو وقت گزر گیا اسے ہم واپس نہیں لاسکتے، جو وقت موجود ہے اسے بچالیجئے تو آنے والا وقت بہتر گزرے گا،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ہم کیسے نادان ہیں کہ اگر کوئی ہمارا مال چھین لے تو ہمیں غصّہ بھی آئے، افسوس بھی ہولیکن کوئی ہمارا وقت بے کار میں لے جائے تو ہمیں نقصان کا احساس بھی نہ ہو حالانکہ وقت مال سے کہیں زیادہ قیمتی ہے کیونکہ مال جانے کے بعد مل سکتا ہے وقت چلا گیا تو ہاتھ نہیں آئے گا۔اللہ پاک ہمیں وقت کا قدر دان بنائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Share