وہ بزرگانِ دین جن کا یومِ وصال /عرس جُمادَی الاُخریٰ میں ہے

جُمادَی الاُخریٰ اسلامی سال کا چھٹا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عُظَّام اور عُلَمائے اسلام کا یومِ وصال یا عرس ہے، ان میں سے34کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ جُمادَی الاُخریٰ1438اور1439ہجری کے شماروں میں کیا گیا تھا مزید15 کا تعارُف ملاحَظہ فرمائیے:صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان (1)صاحبِ دارِ اَرقم حضرت سیِّدُنا اَرقَم بن ابی ارقم مخزومی قُریشی رضی اللہ تعالٰی عنہ قدیمُ الاسلام صحابی، جلیلُ القدر شخصیت کے مالک، تمام غزوات میں شرکت کرنے والے مجاہد، کاتبِ وحی، راویِ احادیث اور اوّلین مہاجرین سے ہیں، کوہِ صَفا کے نیچے واقع اسلام کا پہلا مرکز دارِاَرقَم آپ کا ہی گھر تھا۔ آپ کا وصال 55ھ یا 22جُمادَی الاُخریٰ 13ھ کو مدینۂ منوّرہ میں ہوا اور جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے۔(اسد الغابہ، 1/95، المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، 5/279) (2)رسولُ اللہ کے غلام حضرت سیّدُنا ابوکَبشَہ سُلَیم اَنمارِی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ولادت سَرزمینِ دَوس میں ہوئی اور22جُمادَی الاُخریٰ13ھ کو وصال فرمایا۔ آپ بَدری صحابی، مہاجر اور تمام غزوات میں شرکت کرنے والے مجاہد تھے۔ (المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، 4/152) (3)امیرِمکّہ حضرت سیّدُنا عَتّاب بن اَسِید اُمَوِی قرشی رضی اللہ تعالٰی عنہ خاندانِ اُمَوِی کے چشم و چراغ، صالح و متقی، مؤمنین پر رحیم، منافقین پر شدید، عالم و فاضل اور راویِ حدیث تھے، فتحِ مکّہ کے دن ایمان لائے، رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں امیرِ مکّہ کے عہدے سے نوازا، آخری عمر تک امیرِ مکّہ رہے۔ آپ کا وصال 22جُمادَی الاُخریٰ13ھ کو مکّۂ مکرمہ میں ہوا۔(اسد الغابہ، 3/575، الوافی بالوفیات، 19/289) اولیائے کرام رحمہمُ اللہ السَّلام (4)مفتیِ عراق، ضیائے دین حضرت شیخ ابونجیب عبدالقاہر صدیقی سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَویکی پیدائش 490ھ کو سہرورد (صوبہ زنجان) ایران میں ہوئی اور وصال بغداد عراق میں 17جُمادَی الاُخریٰ563ھ کو ہوا۔ آپ فاضل و مدرس جامعہ نظامیہ بغداد، فقیہِ شافعی، صوفیِ باصَفا اور آدابُ المریدین سمیت کئی کتب کے مصنف تھے۔ بانیِ سلسلۂ سہروردیہ حضرت شیخ شہابُ الدّین عمر سہروردی آپ کے بھتیجے، شاگرد اور جانشین ہیں۔(وفیات الاعیان، 3/175، نفحات سہروردیہ، ص61تا75) (5)شیخُ المشائخ حضرت امام عفیفُ الدّین عبداللہ بن اسعد یافعی سہروردی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت678ھ کو یمن میں ہوئی اور 20 جُمادَی الاُخریٰ768ھ کو مکّۃُ المکرّمہ میں وصال فرمایا آپ جامعِ علومِ عقلیہ و نقلیہ، عارف بِاللہ، زاہد، شیخُ الصّوفیہ، کاتب، صوفی، شاعر اور کثیر کتب کے مصنف ہیں۔ مراٰۃُ الجنان اور رَوضُ الرِّیاحین آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔(بزمِ اولیا، ص15، الدرر الکامنہ، 2/247، 249) (6)شیخِ طریقت حضرت خواجہ محمد بابا سِمّاسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت سِمّاس (نزدرامیتن ولایت بخارا) از بکستان میں ہوئی۔ آپ سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم شیخِ طریقت تھے اور بانیِ سلسلۂ نقشبند حضرت خواجہ بہاؤالدّین نقشبند آپ کے بھی زیرِ تربیت رہے۔ 10جُمادَی الاُخریٰ755ھ کو وصال فرمایا مزار مبارک مقامِ پیدائش میں ہے۔(تاریخ مشائخ نقشبندیہ، ص314تا318) (7)برادرِ داتائے سرحد شیخ جنید پشاوری حضرت پیر سیّد ابوالمکارم محمد فاضل قادری گیلانی کشمیری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت ٹھٹھہ شریف (بابُ الاسلام سندھ) میں1049ھ کو ہوئی اور وصال 19جُمادَی الاُخریٰ 1117ھ کو سرینگر کشمیر میں فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، چشم و چراغِ خاندانِ غوثِ اعظم، مبلغِ کشمیر، شیخِ طریقت اور بانیِ زیارت پیر دستگیر صاحب خانیار سرینگر ہیں۔(تذکرہ مشائخِ قادریہ، ص177تا178) (8)تاجُ العارفین حضرت مخدوم شاہ محمد مجیبُ اللہقادری پھلواریعلیہ رحمۃ اللہ القَویکی ولادت 1095ھ میں پھلواری شریف میں ہوئی۔ جامعِ معقولات و منقولات، شیخِ طریقت اور بانیِ خانقاہ عمادیہ و خانقاہ مجیبیہ تھے۔ 20جُمادَی الاُخریٰ 1191ھ کو وصال فرمایا، مزار خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف (ضلع پٹنہ، صوبہ بہار) ہند میں ہے۔(تذکرۃ الصالحین، ص108) علمائے اسلام رحمہمُ اللہ السَّلام (9)سیّد القُرّاء حضرت امام ابومحمد قاسم بن فِیرُّہ شاطبی شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ولادت 538ھ شاطبہ (Xàtiva) اندلس میں ہوئی اور 28جُمادَی الاُخریٰ 590ھ کو وصال فرمایا، مَقْبَرہ قاضی عبدالرّحیم بیسانی قرافہ قاہرہ مصر میں دفن کئے گئے۔ آپ فقہ، حدیث، لغت، علم الرّؤیا اور علمِ قراءَت میں کامل، کئی کتب کے مصنّف، مدرسۃُ الفاضلیۃ قاہرہ کے استاذ، قراءَت کے امام اور ولیِ کامل تھے۔ چھ تصانیف میں مَتَنُ الشَّاطبِیَۃ کو عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ (طبقات شافعیہ، 7/270، وفیات الاعیان، 3/498،500) (10)شمسُ العلماء حضرت علّامہ ظہور الحسین مجددی رامپوری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1274ھ میں ہوئی اور وصال22جُمادَی الاُخریٰ 1342ھ کو رامپور (یوپی، ضلع لکھنؤ) ہند میں ہوا۔ آپ علومِ عقلیہ و نقلیہ میں ماہر، صدر مدرس دارُالعلوم منظراسلام بریلی شریف، بشمول مفتیِ اعظم ہند سینکڑوں علما کے استاذ اور کئی دَرسی کتب کے مُحَشِّی ہیں۔(ممتاز علمائے فرنگی محل، ص417تا419) (11)مُحِبِّ اعلیٰ حضرت، علّامہ حافظ محمد عبدالرّحمٰن محبیّٰ صدیقی نظامی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1272ھ پوکھریرا (ضلع سیتا مڑھی، بہار) ہند میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل، مناظرِ اسلام، شیخِ طریقت، مصنّفِ کتب، استاذُالعلما، مدرسہ نورُالہدیٰ، انجمن نورُالاسلام اور رسالہ نورُالہدیٰ کے بانی تھے۔ 31تصانیف میں رسالہ اِثباتِ تقلیدِشرعی بھی ہے۔ 18جُمادَی الاُخریٰ 1351ھ کو وصال فرمایا مزار پوکھریرا میں ہے۔(تذکرہ علماءِ اہلِ سنّت سیتا مڑھی، 328تا335) (12)عالمِ باعمل، حضرت مولانا مفتی محمد امین الدّین بدایونی نعیمی چشتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1332ھ کو موضع ندائل (تحصیل سہسوان ضلع بدایون یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال27جُمادَی الاُخریٰ 1381ھ کو کامونکی منڈی (ضلع گوجرانوالہ) پاکستان میں ہوا۔ آپ استاذُ العلماء، تلمیذِ صدرُالافاضل، بہترین واعظ اور عاشقِ کتب تھے۔ (تذکرہ اکابرِاہلِ سنّت،ص105) (13)معینُ الملّت حضرت علّامہ مفتی حکیم غلام معینُ الدّین نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1342ھ کو مراد آباد (یوپی) ہند میں ہوئی اور وصال12جُمادَی الاُخریٰ 1391ھ کو مرکزُالاولیاءلاہور میں فرمایا۔ تدفین میانی صاحب قبرستان )برلبِ بہاولپور روڈ) مرکزالاولیاء لاہور میں ہوئی۔ آپ جید عالمِ دین، تلمیذ و مریدِ صدرُالافاضل، بانیِ ہفت روزہ سوادِ اعظم، 50 کے قریب عربی کتب کے مُتَرْجِم اور فَعّال شخصیت کے مالک تھے۔ (تذکرہ اکابرِ اہلِ سنّت، ص361) (14)سیّدُالعلماء حضرت علّامہ پیر سیّد آلِ مصطفیٰ اولادِ حیدر مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی شاگردِ صدرُ الشّریعہ، خلیفہ تاجُ العلماء، حاذق طبیب، مفتیِ اسلام، صاحبِ طرز خطیب، نعت گو شاعر، قومی و ملی رہنما، بانیِ سنّی جمیعۃ العلماء اور سلسلۂ قادریہ برکاتیہ کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کی ولادت1333ھ کو مارہرہ مطہرہ (ضلع ایٹہ یوپی) ہند میں ہوئی، 11جُمادَی الاُخریٰ 1394ھ کو بمبئی میں وصال فرمایا اور مارہرہ مطہرہ میں دفن کئے گئے۔(ممبئی عظمیٰ کی مختصر تاریخ، ص181تا211) (15)خطیبُ البراہین حضرت مولانا صوفی محمد نظامُ الدّین مصباحی برکاتی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1346ھ موضع ”اگیا“ (چھاتا، ضلع سنت کبیر نگر، یوپی) ہند میں ہوئی۔ فاضل الجامعۃُ الاشرفیہ، شیخُ الحدیث، مصنّفِ کتب، بہترین خطیب اور شیخِ طریقت تھے۔ یکم جُمادَی الاُخریٰ1434ھ کو وصال فرمایا، مزار شریف موضع ”اگیا“ میں ہے۔

(ماہنامہ کنزالایمان ہند،مارچ 2014، ص37 وغیرہ)

Share

Comments


Security Code