Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

جواب : دَجّال مسیح کذّاب کا نام ہے  ۔اس کی ایک آنکھ ہوگی اور ایک سے  کانا ہو گا اور اس کی پیشانی پر ’’ک  ا  ف  ر‘‘(یعنی کافر) لکھا ہوگا۔ہر مسلمان اس کو پڑھے  گا ، کافر کو نظر نہ آئے  گا ۔وہ چالیس دن میں تمام زمین میں پھرے  گا مگر مکّہ شریف اور مدینہ شریف میں داخل نہ ہو سکے  گا ۔ان چالیس دن میں پہلا دن ایک سال کے  برابر ہوگا، دوسرا ایک مہینہ کے  برابر، تیسرا ایک ہفتہ کے  برابر اور باقی دن عام دنوں کے  برابر ہوں گے  ۔دَجّال خُدائی کا دعویٰ کرے  گا اور اسکے  ساتھ ایک باغ اور ایک آگ ہوگی، جس کا نام وہ جنّت و دوزخ رکھے  گا ۔جو اس پر ایمان لائے  گا اس کو وہ اپنی جنت میں ڈالے  گا، جو حقیقت میں آگ ہوگی اور جو اس کا انکار کرے  گا اس کو اپنی جہنم میں داخل کرے  گا جو واقع میں آسائش کی جگہ ہوگی ۔بہت سے  عجائب یعنی حیرت انگیز چیزیں دکھائے  گا، زمین سے  سبزہ اُگائے  گا ، آسمان سے  بارش برسائے  گا، مُردے  زندہ کرے  گا، ایک مومن صالح اس طرف متوجہ ہوں گے  اور ان سے  دَجّال کے  سپاہی کہیں گے  کیا تم ہمارے  ربّ پر ایمان نہیں لاتے ؟ وہ کہیں گے  ۔میرے ربّ کے  دلائل چھپے  ہوئے  نہیں ہیں ۔پھر وہ ان کو پکڑ کر دَجّال کے  پاس لے  جائیں گے  ۔یہ دَجّال کو دیکھ کر فرمائیں گے  اے  لوگو! یہ وہی دَجّال ہے  جس کا رسولِ کریمصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمنے  ذکر فرمایا ہے  ۔دَجّال کے  حکم سے  ان کو زدوکوب کیا یعنی مارا جائے  گا ۔پھر دَجّال کہے  گا : کیا تم میرے  اوپر ایمان نہیں لاتے  ؟وہ فرمائیں گے  تو مسیح کَذَّا ب ہے  ، دَجّال کے  حکم سے  ان کا جسم مبارک سَر سے  پاؤں تک چیر کے  دوحصّے  کر دیا جائے  گا اور ان دونوں حصّوں کے  درمیان دَجّال چلے  گا ۔پھر کہے  گا اُٹھ!تو وہ تندرست ہو کر اُٹھ کھڑے  ہوں گے  ۔تب دَجّال اُن سے  کہے  گا تم مجھ پر ایمان لاتے  ہو ؟وہ فرمائیں گے  میری بصیرت اور زیادہ ہو گئی ۔اے  لوگو!یہ دَجّال اب میرے  بعد کسی کے  ساتھ پھر ایسا نہیں کر سکتا ۔پھر دَجّال انہیں پکڑ کر ذبح کرنا چاہے  گا اور اس پر قادر نہ ہو سکے  گا، پھر ان کے  دَسْت وپاسے  پکڑ کر اپنی جہنم میں ڈالے  گا، لوگ گمان کریں گے  کہ ان کو آگ میں ڈالا ۔مگر درحقیقت وہ آسائش کی جگہ ہوں گے ۔

سوال : دَا  بَّۃُ الارض کیا چیز ہے ؟

جواب :  دَا  بَّۃُ الارض ایک عجیب شکل کا جانور ہے  جو کوہِ صفا سے  ظاہر ہو کر تمام شہروں میں نہایت جلد پھرے  گا، فصاحت کے  ساتھ کلام کرے  گا ۔ہر شخص پر ایک نشانی لگائے  گا، ایمانداروں کی پیشانی پر عصائے  موسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام سے  ایک نورانی خَط کھینچے  گا  ۔کافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی اَنگُشتَری یعنی انگوٹھی سے  کالی مُہر کرے  گا۔

سوال : یاجوج ماجوج کون ہیں؟

جواب : یہ یافِث بن نوح عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی اولادمیں سے  فسادی گروہ ہیں، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے  ۔وہ زمین میں فساد کرتے  تھے ، ایّامِ رَبیع یعنی فصل پکنے  کے  ز مانے  میں نکلتے  ، سبزہ ذرا نہ چھوڑتے  ، آدمیوں کو کھالیتے  اور جنگل کے  درندوں، وَحشی جانوروں، سانپوں، بچھوؤں کو کھا جاتے  تھے ، حضرت سکندر ذوالقرنین نے  لوہے  کی دیوار کھینچ کر ان کی آمد بند کردی ۔حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کے  نُزول کے  بعد جب آپ دَجّال کو قتل کر کے  بحکمِ الٰہی مسلمانوں کو کوہِ طور لے  جائیں گے  اس وقت وہ دیوار توڑ کرنکلیں گے  اور زمین میں فسادکریں گے ، قتل و غارت کریں گے  ۔اللّٰہ تعالیٰ انہیں حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی دُعا سے  ہلاک کرے  گا۔

سوال : حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ حال بیان فرمائیے ؟

جواب : حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ خلیفۃُ اللّٰہہیں۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی آل میں سے  حَسَنی سیّد ہوں گے ، جب دنیا میں کُفر پھیل جائے  گا اور اسلام حَرَمین شریفین یعنی مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ کی طرف سمٹ جائے  گا، اولیاء و ابدال وہاں کو ہجرت کر جائیں گے  ۔ماہِ رمضان میں اَبدال کعبہ شریف کے  طواف میں مشغول ہوں گے  وہاں اولیاء حضرت مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہچان کر ان سے  بیعت کی درخواست کریں گے  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ انکار فرمائیں گے ، غیب سے  ندا آئے  گی ھٰذَاخَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَھْدِیُّ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْہٗ’’یہ اللّٰہ تعالیٰ کے  خلیفہ مہدی ہیں ان کا حکم سنو اور اطاعت کرو‘‘ ۔لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے  دستِ مبارک پر بیعت کریں گے  وہاں سے  مسلمانوں کو ساتھ لے  کر شام تشریف لے  جائیں گے  ۔آپ کا زمانہ بڑی خیرو برکت کا ہوگا، زمین عدل و انصاف سے  بھر جائے  گی۔

    سوال : حضرت مسیح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے  نُزول کا مختصر حال بیان کیجئے ؟

جواب : جب دَجّال کا فتنہ انتہا کو پہنچ چکے  گا اور وہ ملعون تمام دنیا میں پھرکر ملکِ شام میں جائے  گا اس وقت حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام دِمَشْق کی جامع مسجد کے  شَرقی مَنارہ پر نزول فرمائیں گے ۔آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی نظر جہاں تک جائے  گی وہاں تک خوشبو پہنچے  گی اور آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی خوشبو سے  دَجّال پگھلنے  لگے  گا اور بھاگے  گا ۔آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام دَجّال کو بیتُ المقدس کے  قریب مقامِ لُد میں قتل کریں گے  ۔ان کا زمانہ بڑی خیر و برکت کا ہوگا، مال کی کثرت ہوگی ۔زمین اپنے  خزانے  نکال کر باہر کرے  گی ۔لوگوں کو مال سے  رَغبت نہ رہے  گی، یہودیت ، نصرانیت اور تمام باطل دینوں کو آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام مٹا ڈالیں گے  ۔آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کے  عہد مبارک میں ایک دین ہوگا، اسلام ۔تمام کافر ایمان لے  آئیں گے  اور ساری دنیا اہلِ سنّت ہوگی ۔امن وامان کا یہ عالَم ہو گا کہ شیر بکری ایک ساتھ چریں گے  ۔بچے  سانپوں سے  کھیلیں گے۔بغض وحسدکا نام و نشان نہ رہے  گا ۔جس وقت آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کا نُزول ہوگا فجر کی جماعت کھڑی ہوتی ہوگی ۔حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ



Total Pages: 50

Go To