DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah An Nahl Ayat 77 Translation Tafseer

رکوعاتہا 16
سورۃ ﰇ
اٰیاتہا 128

Tarteeb e Nuzool:(70) Tarteeb e Tilawat:(16) Mushtamil e Para:(14) Total Aayaat:(128)
Total Ruku:(16) Total Words:(2082) Total Letters:(7745)
77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۷۷)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم اللہ ہی کو ہے اور قیامت کا معاملہ صرف ایک پلک جھپکنے کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے ۔بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:اورآسمانوں  اور زمین کی چھپی چیزوں  کا علم اللّٰہ ہی کے لیے ہے۔} اس آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کے کمال کا بیان ہے ۔علم کے کمال کا بیان آیت کے اس حصے میں  ہے’’وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘‘ یعنی اللّٰہ تعالیٰ ہی تمام غیبوں  کا جاننے والا ہے اور اس پر کوئی چیزپوشیدہ نہیں  رہ سکتی ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد قیامت کا علم ہے ۔ قدرت کے کمال کابیان آیت کے اس حصے میں  ہے ’’ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ‘‘یعنی قیامت قائم کرنے کا معاملہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت میں صرف ایک پلک جھپکنے کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے کیونکہ پلک مارنا بھی زمانہ چاہتا ہے جس میں  پلک کی حرکت حاصل ہو اور اللّٰہ تعالیٰ جس چیز کا ہونا چاہے وہ کُنْ فرماتے ہی ہوجاتی ہے۔( تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۷۷، ۷ / ۲۴۹-۲۵۰، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۷۷، ۳ / ۱۳۶، ملتقطاً)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links