DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Muminun Ayat 113 Urdu Translation Tafseer

رکوعاتہا 6
سورۃ ﰔ
اٰیاتہا 118

Tarteeb e Nuzool:(74) Tarteeb e Tilawat:(23) Mushtamil e Para:(18) Total Aayaat:(118)
Total Ruku:(6) Total Words:(1162) Total Letters:(4401)
112-114

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ(۱۱۲)قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْــٴَـلِ الْعَآدِّیْنَ(۱۱۳)قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۱۱۴)
ترجمہ: کنزالایمان
فرمایا تم زمین میں کتنا ٹھہرے برسوں کی گنتی سےبولے ہم ایک دن رہے یا دن کا حصّہ تو گننے والوں سے دریافت فرما فرمایا تم نہ ٹھہرے مگر تھوڑا اگر تمہیں علم ہوتا


تفسیر: ‎صراط الجنان

{قٰلَ: فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دوآیات کاخلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار سے فرمائے گا کہ تم دنیا میں  اور قبر میں  سالوں  کی گنتی کے اعتبار سے کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ کفار اس سوال کے جواب میں  کہیں  گے: ہم ایک دن رہے یاایک دن کا بھی کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ۔ کفار یہ جواب اس وجہ سے دیں  گے کہ اس دن کی دہشت اور عذاب کی ہَیبت سے انہیں  اپنے دنیا میں  رہنے کی مدت یاد نہ رہے گی اور انہیں  شک ہوجائے گا، اسی لئے کہیں  گے: اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تواُن فرشتوں  سے دریافت فرما جنہیں  تو نے بندوں  کی عمریں  اور ان کے اعمال لکھنے پر مامور کیا ہے۔  اللہ تعالیٰ کفار کو جواب دے گا کہ اگر تمہیں  دنیا میں  رہنے کی مدت معلوم ہوتی تو تم جان لیتے کہ آخرت کے مقابلے میں  دنیا میں  بہت ہی تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہو۔( خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۱۱۲-۱۱۴، ۳ / ۳۳۳)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links