DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Hijr Ayat 87 Translation Tafseer

رکوعاتہا 6
سورۃ ﰆ
اٰیاتہا 99

Tarteeb e Nuzool:(54) Tarteeb e Tilawat:(15) Mushtamil e Para:(13-14) Total Aayaat:(99)
Total Ruku:(6) Total Words:(730) Total Letters:(2827)
87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ(۸۷)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور بیشک ہم نے تمہیں سات آیتیں دیں جو بار بار دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن(دیا)۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ:اور بیشک ہم نے تمہیں  سات آیتیں  دیں  جو بار بار دہرائی جاتی ہیں  ۔} اس سے پہلی آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی اَذِیَّتوں  پر صبر کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے ان عظیم نعمتوں  کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے صرف اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو عطا فرمائیں  کیونکہ انسان جب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہوئی کثیر نعمتوں  کویاد کرتا ہے تو اس کے لئے اذیتیں  پہنچانے والوں  سے درگزر کرنا اور سختیوں  پرصبر کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ (تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۷، ۷ / ۱۵۸)

سَبع مَثانی سے کیا مراد ہے؟

            اس آیت میں  سات آیتوں  سے مراد سورۂ فاتحہ ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی اُس حدیث میں  ہے جوحضرت سعید بن معلیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ،(یعنی سورہ فاتحہ) ہی سبع مثانی اور قرآنِ عظیم (کے تمام علوم کی جامع) ہے جو مجھے عطا فرمایا گیا۔( بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الفاتحۃ، باب ما جاء فی فاتحۃ الکتاب، ۳ / ۱۶۳، الحدیث: ۴۴۷۴)اور سنن ترمذی کی اُس حدیث میں  ہے جو حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰه (یعنی سورہ فاتحہ) اُمُّ القرآن، اُمُّ الکتاب اور سبع مثانی ہے۔ (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الحجر، ۵ / ۸۶، الحدیث: ۳۱۳۵)

 سورۂ فاتحہ کو مثانی کہنے کی وجوہات:

             سورۂ فاتحہ کو مثانی یعنی بار بار دہرائے جانے والی کہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ سورہ فاتحہ نماز کی ہر رکعت میں  پڑھی جاتی ہے ا س لئے اسے مثانی فرمایا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ اللّٰہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان تقسیم کی گئی ہے، اس کے پہلے نصف میں  اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے اور دوسرے نصف میں  دعا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی، پہلی بار مکہ میں  اور دوسری بار مدینہ میں ، اس لئے اسے مثانی یعنی بار بار نازل ہونے والی فرمایا گیا۔ (جلالین مع صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۷،۳ / ۱۰۵۰-۱۰۵۱)

شفا اور قوتِ حافظہ کا وظیفہ:

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں  ’’خواص القرآن میں  یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جب سورۂ فاتحہ کو پاک برتن میں  لکھا جائے اور پاک پانی سے اس لکھے ہوئے کو مٹایا جائے اور اس پانی سے مریض کا چہرہ دھویا جائے تو اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے اسے شفا مل جائے گی۔ اور جب سورۂ فاتحہ کو شیشے کے برتن میں  مشک سے لکھا جائے اور عرقِ گلاب سے اس لکھے ہوئے کو مٹایا جائے اور وہ پانی ایسے کُند ذہن کو سات دن تک پلایا جائے جسے کچھ یاد نہ رہتا ہو تو اس کی کند ذہنی ختم ہو جائے گی اور جو سنے گا وہ اسے یاد ہو جائے گا۔ (روح البیان، الحجر، تحت الآیۃ: ۸۷،۴ / ۴۸۸)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links