حضرت سیّدنا مُغِیرہ بن شُعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ

ذہین فطین، باہمّت، فصیحُ البیان، بُلندپایہ حاکم، تجرِبہ کار جرنیل، نظْم ونَسَق کے ماہر، عشقِ رسول میں بےقرار رہنے والے،”مُغِیرۃُ الرَّأی“ کا لقَب پانے والے صحابیِ رسول حضرت سیّدنامُغیرہ بن  شُعبہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی کُنْیت ابو عیسیٰ ہے جبکہ بعض روایتوں میں ابو محمد اور ابو عبداللہ بھی لکھی ہے آپ کاتعلّق قبیلہ ثَقِیْف سے تھا۔(تاریخ ابن عساکر،ج 60، ص13، 15)

 پیدائش و قبول اسلام آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی پیدائش شہرِ طائف میں ہوئی ۔ 5 ہجری میں دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔(اعلام للزرکلی،ج7،ص277)

عظْمتِ رسول کا پاس اسلام لاتے ہی محبّتِ رسول کے دریا میں ایسے غوطہ زَن ہوئے کہ عظمتِ رسول کے سامنے کسی کو خاطر میں نہ لاتے چنانچہ سن 6ہجری صلح ِحُدَیبِیہ کے موقع پر قریش کی جانب سے آنے والے نمائندے عُروہ بن مسعود ثَقَفی نے(ایمان لانے سے پہلے) دورانِ گفتگو بار بار اپنا ہاتھ حضور نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی داڑھی مبارکہ تک بڑھایا تو آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے تلوار کا دَستہ اس کے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: اپنے ہاتھ کورسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی داڑھی اقدس سے دور رکھ۔(بخاری،ج2،ص 225، حدیث: 2731)

صُحبتِ رسول آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ سفر و حَضر میں پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے ساتھ رہتے اور سرکار صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کا وُضو  کا برتن ساتھ رکھتے تھے۔(معرفۃ الصحابۃ،ج4،ص273) نیز بارگاہِ رسالت میں گزارے ہوئے لمحات کو خوب یاد رکھتے تھے چنانچہ فرماتے ہیں: ایک موقع پر میری مونچھیں لمبی تھیں، نبی کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے مسواک رکھ کر میری مونچھوں کو  تراش دیا۔(ابو داؤد،ج1،ص96،حدیث: 188)

نرالی محبت جب پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے جسدِ اَطہر کو لَحْد مبارکہ میں رکھ کر حضرت سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم قبرِمُنَوَّر سے باہر تشریف لائے تو آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے اپنی انگوٹھی قبر مبارک میں گرا دی پھر حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم سے عرض کی توانہوں نے فرمایا: اندر اُتر کر اسے اٹھالو، چنانچہ آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ اَدَب واحترام کے ساتھ قبرِ اَنور میں اُترے اور عشقِ رسول میں ڈُوب کر محبت بھرے انداز میں اپنا ہاتھ لحدِ مبارَکہ پر رکھادوسری روایت میں ہےکہ پاکیزہ کفن پر اپنا ہاتھ پھیرا جبکہ تیسری کے مطابق اینٹ مبارک ہٹاکراپنی انگوٹھی اٹھائی اور دونوں مُقدّس آنکھوں کے درمیان بوسہ لے کر باہر آگئے۔(تاریخ ابن عساکر،ج60،ص29،سیراعلام النبلاء، ج4،ص220، المبسوط،ج1،ص118،جز:2)

ذِہانت تابِعی بزرگ حضرت قَبِیصہ بن جابر علیہ رحمۃ اللہ القادر فرماتے ہیں کہ میں حضرت مُغیرہ بن شُعبہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے پاس کچھ عرصہ رہا ہوں اگر کسی شہرکے8 دروازے ہوں اور کوئی ترکیب لڑائے بغیران سے نکلنا ممکن نہ ہوتو حضرت مغیرہ بن شعبہ اپنی خُداداد صلاحیّتوں کو برُوئے کار لاتے ہوئے آٹھوں دروازوں سے باری باری نکل جائیں گے۔( تاریخ ابن عساکر،ج60،ص50)

شکریہ ادا کیا کرو! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے فرامین اُمّت ِمُسلِمہ کے لئے کسی انمول خزانے سے کم نہیں، حُصولِ برَکت کے لئے ایک فرمان مُلاحَظہ کیجئے:  تمہیں کوئی تحفہ دے تو اس کا شکریہ ادا کرو اور جو تمہارا شکریہ ادا کرے اسے بھی کوئی تحفہ دو کیونکہ ناشکری کی وجہ سے نعمت زائِل ہوجاتی ہے اور شکر ادا کرنے کی وجہ سے نعمت باقی رہتی ہے۔( تاریخ ابن عساکر،ج60،ص53)

مجاہِدانہ کارنامے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ 5ہجری کے بعدہونے والےتمام غزوات میں سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب و سینہ  صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کےساتھ شریک ہوئے، حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے زمانۂ خلافت میں فتنۂ اِرْتِداد نے سر اٹھایا تو لشکرِ اسلام کے ساتھ مل کر جنگِ یمامہ میں مُسَیْلِمہ کذّاب کی فوج کے دانت کھٹّے کئے، دورِ فاروقی میں فُتوحاتِ شام کا سلسلہ پھیلاتو اسلامی لشکر کا حصہ بن کر تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوایا، جنگِ یَرْموک میں دشمنوں کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑے ہوئے۔ اسی دوران آنکھ میں ایک تیر لگا جس کی وجہ سے اس آنکھ کی بینائی جاتی رہی، مقام ِ قادِسِیّہ میں لڑائی کا میدان گرم ہوا تو سرہتھیلی پہ رکھ کر میدانِ جنگ میں کُود پڑے۔ معرِکۂ نَہاوَند میں حضرت سیّدنا عمرفاروق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی جانب سے یہ حکم تھا کہ مَیْسَرہ (بائیں حصے)کے سپہ سالار حضرت نعمان بن مُقَرِّن ہوں گے اگر یہ شہید ہوجائیں توحضرت حُذیفہ اور ان کے بعد حضرت مغیرہ بن شعبہ لشکر ِ اسلام کی قِیادت سنبھالیں گے۔

سیاسی بصیرت و کارنامے جنگِ قادسیہ میں  حضرت سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے اپنا سفیر بنا کر روانہ فرمایاتو حق ِ سِفارت خوب خوب ادا کیا اور ایرانی سپہ سالار رُسْتُم کے سامنے عَلَی الْاِعلان دعوتِ اسلام پیش کی۔ آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں  نے بصرہ میں ایک دفتر قائم کرکے اس میں لوگوں کے اَحوال جمع کئے تاکہ اس کے مطابق اہلِ بصرہ میں وظائف تقسیم ہوسکیں۔ حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے آپ کو یمن کے علاقے نُجَیْر کی جانب روانہ فرمایا،(تاریخ ابن عساکر،ج60،ص16، 15) حضرت سیّدنا عمر فاروقرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے آپ کو پہلے بحرین کا پھر 15سے 17 ہجری تک بصرہ  کی مَسندِ گورنری کا اِعزاز بخشا(تاریخ ابن عساکر،ج60،ص31) اس کے بعد آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کو کُوفہ کا حاکم مقرر کردیا، حضرت سیّدنا عثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے زمانۂ خلافت میں آپ کچھ عرصے تک اسی عہدے پر برقرار رہے۔ حضرت عثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ ملکی مُعامَلات سے علیحدہ ہوگئے۔ 41ہجری میں حضرت سیّدنا امیرِ معاویہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے تمام ممالک ِ اسلامیہ کی باگ ڈور سنبھالی تو آپ کی خدمات لئے بغیر نہ رہ سکے اور آپ کو دوبارہ کُوفہ کی گورنری پر فائز کردیا۔آپ مسلسل نو سال تک اس عہدے پر رونق افروز رہے۔(الاصابۃ،ج6،ص157)

وفات و مزار مبارک آخر کار 70 سال کی عمر پاکرشعبانُ المعظم سن 50 ہجری میں پَیامِ اَجَل پر لبیک کہا،آپ کے مزار مبارک کا اِعزاز بھی سَرزمینِ کُوفہ کو حاصل ہے۔(تاریخ ابن عساکر،ج60،ص62)

 روایات کی تعداد حضرت مغیرہ بن شعبہرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربُلندی اور ترویج و اِشاعت میں گزاری آپ سے 136 احادیث مروی ہیں، 9احادیث مُتَّفَق علیہ (یعنی بخاری و مسلم دونوں میں) ہیں جبکہ ایک حدیث بخاری میں اور 2 حدیثیں مسلم میں اِنفِرادی طور پر ہیں۔(تہذیب الاسماء،ج2،ص412) آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی مَرْوِیَّات میں مَسْح عَلَی الْخُفَّیْن اور وضو میں چوتھائی سر کے مسح کی احادیث شہرت کو پہنچی ہوئی ہیں۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور انکے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

سب صَحابہ سے ہمیں تو پیار ہے

اِنْ شاءَ  اللہ     اپنا   بیڑا  پار ہے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ مُدَرِّس مرکزی   جامعۃ المدینہ،عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code