چھٹیوں کی تنخواہ لینے کا حکم؟/ کیا شراکت میں ہر فرد کا کام کرنا ضروری ہے؟/ زمین ٹھیکے پردے کر گندم کو اُجرت  مُقَرَّر کرنا کیسا؟/ وارنٹی کی کیا شرعی حیثیت ہے؟ حضرت سیّدنا آدم علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کا ذریعۂ معاش

چھٹیوں کی تنخواہ لینے کا حکم؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک ملازم ہوں اگر میں دس دن نوکری پر نہیں جاتا تومیرے لئے ان دس دنوں کی تنخواہ لینا حلال ہےیا حرام؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:پوچھی گئی صورت میں اگر چھٹی کر کے یہ ظاہر  کیا گیا کہ میں حاضر تھا اور ان دنوں کی حاضری لگا دی گئی تو ان دنوں کی تنخواہ لینا حلال نہیں اور اگر یہ ظاہر کیا  کہ میں غیر حاضر تھا تو اس صور ت میں کمپنی اور ملازم کے درمیان ہونے والا معاہدہ دیکھا جائے گا کہ وہ کیا تھا؟اپنے ملازمین کے ساتھ معاہدہ کرنے کے کمپنیوں میں مختلف طریقے ہیں اور چھٹیوں کی بھی مختلف صورتیں ہیں، کمپنیاں ماہانہ چند چھٹیوں کی گنجائش رکھتی ہیں کچھ سالانہ چھٹیوں کی گنجائش رکھتی ہیں کچھ کمپنیوں کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ اتنی اتنی چھٹیوں میں تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں ہوں گی اور اس سے زیادہ میں بغیر تنخواہ کے۔  الغرض کمپنی اور ملازم کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہی ان مسائل کی  اصل بنیاد ہے ۔  وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کیا شراکت میں ہر فرد کا کام کرنا ضروری ہے؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو شخصوں نے ایک ایک لاکھ روپے ملا کر شراکت کی ان میں سے ایک کہتا ہے کہ میں مہینے کے آخر میں نفع لے لوں گا اور کام نہیں کروں گاکیا اس طرح کی شرکت جائز ہے کہ ایک کام کرے اور دوسرا کام نہ کرے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: جب دو یادو سے زیادہ افراد پیسے ملا کر کام کریں تو اس کو شراکت کہتے ہیں۔ شراکت میں ہرایک شریک کے پیسے برابر ہوں یہ ضروری نہیں بلکہ کم یا زیادہ بھی ہو سکتے ہیں شراکت میں دونوں یا تمام پارٹنرز کا کام کرناضروری نہیں بلکہ اس بات کی گنجائش ہے کہ ایک کام کرے اور دوسرا کام نہ کرے۔ البتہ نفع کا پَرْسنٹیج(Percentage) سے مقرر ہونا ضروری ہے مثلاً دونوں نے طے کیا کہ پچاس پچاس فیصد نفع دونوں کا ہوگا تو اب اسی تناسب سے نفع دونوں میں تقسیم ہوگا۔ ہر کام کی نوعیت ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں مہینے کے آخر میں ہی نفع کا حساب نکل آئے اور نفع تقسیم ہو جائے اگر کوئی سوفیصد حساب کتاب نکال کر نفع تقسیم کرتا ہے تو حرج نہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ ہمارے  معاشرے میں کثیر مواقع پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ  کاروبار میں شراکت کے نام پر دوسرے کو شامل کیا جاتا ہے لیکن کوئی باقاعدہ حساب کتاب رکھنے یا پرسنٹیج میں نفع مقرر کرنے کے بجائے  اسے ہر ماہ کے آخر میں ایک خاص فیگر ذہن میں رکھتے ہوئے نفع دے دیتے ہیں یہ کاروبار پر نفع نہیں کہلائے گا بلکہ یہ سودی نفع کہلائے گا۔  کاروبار پر نفع اسی وقت کہلائے گا جب آپ اپنے کاروبار کو زیرِ بحث مسئلہ میں شراکت کے شرعی اُصولوں کے مطابق چلائیں۔ دارُالاِفتاء اہلِ سنّت ایپلیکیشن میں تجارت کورس موجود ہے اس میں شراکت کے ضروری اُصول  و ضَوابِط پر بھی بات کی گئی ہے، وہاں سے متعلّقہ بیانات ضرور سُنیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

زمین ٹھیکے پردے کر گندم کو اُجرت  مُقَرَّر کرنا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زمین کو ٹھیکے پردیا تو کیا رقم کی جگہ گند م کواُجرت مُقَرَّر کیا جاسکتاہے؟اور سال کے آخر میں گندم کے ریٹ کم یا زیادہ ہو گئے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: خرید وفروخت کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز خریدی یا بیچی جائے تو اس کا مُتَعَیَّن ہونا ضروری ہےمثلاً دال خریدی تو یہ طے ہوناضروری ہے کہ دال کس قسم اورکوالٹی کی ہوگی، کتنے کلو ہوگی، پہنچ  کس کے ذمے ہوگی تاکہ بعد میں کسی قسم کاتَنازَعَہ وجھگڑا نہ ہواسی طرح قیمت جس کو فقہاءِکرام رَحمہُمُ اللہ کی اصطلاح میں ثَمَن کہتے ہیں اس کا بھی طے اور مُتَعَیَّن ہونا ضروری ہے اور قیمت میں رقم کا ہونا ضروری نہیں بلکہ گندم، جَو، چاول وغیر ہ بھی ہوسکتے ہیں۔ جس طرح خریدوفروخت میں رقم کی بجائے گندم ثَمَن ہوسکتی ہے اسی طرح ٹھیکے میں اُجرت رقم کی بجائے گندم بھی مقرر ہو سکتی ہے۔سال کے آخر میں گندم کا ریٹ کم ہو یا زیادہ اس کااعتبار نہیں بہرحال جو گندم طے ہوئی وہی دینا ہوگی۔اور گندم مکمل تفصیل کے ساتھ طے کی جائے کہ اس جنس کی، نئی یا پرانی، بار دانے کے ساتھ یا بغیر باردانے کے، پہنچاکر دی جائے گی یا وصول کرنا ہوگی، ان تمام جُزْئِیات کو طے کر کے گندم کو اُجرت میں مُقَرَّر کیا جائے۔وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

وارنٹی کی کیا شرعی حیثیت ہے؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل بعض چیزوں کو بیچتے وقت دکاندار کسٹمر کوایک دوسال کی وارنٹی دیتا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟اور جن چیزوں کی وارنٹی دی گئی اگر اس کے علاوہ کوئی اور خرابی ہوجائے اور کسٹمر دکاندار کے پاس وہ چیز واپس کرنے کے لئے لے آئے تو کیااس صور ت میں بھی دکاندار کو وہ چیز واپس کرنا ہوگی؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: وارنٹی دورِ جدید کی پیداوار ہےپرانے زمانے میں نہ مشین ہوتی تھی اور  نہ ہی  وارنٹی۔ دورِ جدید میں مشین آئی تو وارنٹی بھی آئی اور وارنٹی ایک طرح  کا احسان ہےجوآج کل معاہدے کاایک حصہ بن چکی ہے فقہاء کرامرَحمہُمُ اللہ نے عرصۂ دراز  سے  اس کا اعتبار کیا ہےاور اس شرط کو جائز کہا ہے جیسا کہ بہار شریعت جو کہ تقریباً 70سال پہلے لکھی جانے والی کتاب ہے اس میں وارنٹی کے متعلق لکھا ہے: (اگر) شرط ایسی ہےجس پر مسلمانوں کا عام طور پر عمل درآمد ہے جیسے آج کل گھڑیوں میں گارنٹی سال دو سال کی ہوا کرتی ہےکہ اس مدّت میں خراب ہو گی تو دُرُستی کاذمّہ دار بائع  ہے ایسی شرط بھی جائز ہے۔(بہار شریعت،ج2،ص701 ،مکتبۃ المدینہ)

 وارنٹی میں جو شرائط بیان کی جائیں گی اور جن چیزوں کی وارنٹی دی جائےگی ان کااعتبار ہوگااور انہی شرائط کے ساتھ چیز کوواپس کیاجائے گاان کے علاوہ کوئی اور خارجی سبب پایا گیا تو چیز کو واپس نہیں کیا جاسکتامثلاً کمپنی نے ایک موبائل بیچا اور یہ کہا کہ یہ موبائل واٹر پروف نہیں ہے اور نہ ہی اس کی وارنٹی ہے اگر خریدنے والا اس موبائل کو پانی میں گِرادے پھر کمپنی کے پاس لے آئے تواس کو یہی کہا جائے گا کہ مثلاً موبائل کی مشین کی وارنٹی تھی کہ یہ جلے گی نہیں یونہی اس کی اسکرین کی وارنٹی تھی کہ آف نہیں ہوگی اس بات کی وارنٹی نہیں تھی کہ یہ واٹر پروف ہے اس لئے اس موبائل کو واپس نہیں کیا جائے گا اور وارنٹی کلیم (Claim)کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ دار الافتا اہلِ سنّت نورالعرفان ، کھارادر، باب المدینہ کراچی

Share

چھٹیوں کی تنخواہ لینے کا حکم؟/ کیا شراکت میں ہر فرد کا کام کرنا ضروری ہے؟/ زمین ٹھیکے پردے کر گندم کو اُجرت  مُقَرَّر کرنا کیسا؟/ وارنٹی کی کیا شرعی حیثیت ہے؟ حضرت سیّدنا آدم علیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کا ذریعۂ معاش

حکایت حضرتِ سیّدنا آدم صَفِیُّ اللہ علٰی نَبِیِّنَاوعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام جب جنّت سے  زمین پر تشریف لائےتوآپ  کی مَشقّت کا آغاز اس طرح ہوا کہ حضرت جبریل علیہ السَّلام جنّت سے  غلّے کے چند دانے لے کر آپ کے پاس آئے اور کہا: اے آدم! ان کی کاشت کیجئے، چنانچہ آپ علیہ السَّلام نے ان دانوں کو زمین میں بویا،ان کی کاشت کی۔ جب فصل تیار ہوگئی تو اس کو کاٹا، اس میں سے دانے نکالے،انہیں صاف کرکے پِیسا اورآٹا گوندھ کر اس کی روٹی پکائی  پھراس مشقت کے بعد روٹی کھانے کے لئے بیٹھے تو روٹی آپ کے ہاتھ سے پھسل کر پہاڑ سےنیچے گرگئی۔ حضرت آدم علیہ السَّلام اس کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ تھک گئے اور آپ کی پیشانی پر پسینہ نمودار ہوگیا۔ آپ سے کہا گیا کہ اے آدم! اب آپ کو اسی طرح مشقت اور تھکاوٹ سے رزْق حاصل ہوگا اور آپ کے بعد آپ کی اولاد کو اسی طرح مشقت اور تھکاوٹ سے رزق حاصل ہوگا جب تک وہ دنیا میں رہیں گے۔(تفسیر قرطبی،پ16،طہ، تحت الآیۃ: 117،ج6،ص135)

سُرخ رنگ کا بیل حضرتِ سیّدنا سعید بن جُبَیْر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: حضرتِ سیّدنا آدم علیہ السَّلام کی طرف سرخ رنگ کا بیل اتارا گیا، آپ علیہ السَّلام اس کے ذریعے ہل چلاتے اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے تھے۔(تفسیر قرطبی، پ16،طہ، تحت الآیۃ:117،ج6،ص135)

کپڑا بھی بُنا تفسیر ِنعیمی میں ہے: سب سے اوّل  کپڑا بننے کا کام آدم علیہ السَّلام نے کیا  اور بعد میں کھیتی باڑی  کے کام میں مشغول رہے۔(تفسیرنعیمی،پ1،البقرۃ،تحت الایۃ:36،ج1،ص260)

ہریالی کی وجہ حضرتِ سیّدنا مولا علی(رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ ہندوستان کی زمین اس لئے ہری بھری ہے اور عُود اور قَرَنْفُل(یعنی لونگ) وغیرہ خوشبوئیں اس لئے وہاں  پیدا ہوتی ہیں کہ آدم علیہ السَّلام جب اس زمین پر آئے تو ان کے جسم میں جنتی درخت کے پتّے تھے اور پتّے ہوا سے اُڑ کر جس درخت پر پہنچےوہ ہمیشہ کے لئے خوشبو دار ہوگیا۔(تفسیرنعیمی،ج1،ص259، 260ملخصاً)

 

عطاؔر کا پیارا

مبلّغ ِدعوتِ اسلامی،بلبلِ روضۂ رسول، الحاج قاری محمد مشتاق عطاری علیہ رحمۃ البارِی کی ولادت غالباً 18رمضانُ المبارک 1386 ہجری کو بنّوں (KPK، پاکستان) میں ہوئی، کچھ عرصہ سردارآباد (فیصل آباد،  پاکستان) میں قیام فرمایا اور پھر بعد میں باب المدینہ کراچی میں مستقل سکونت اختِیار فرمالی تھی۔ اکتوبر 2000ء میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران کے منصب پر مُتَمَکِّن ہوئے۔ وفات29شعبانُ المعظم1423 ہجری صبح سوا آٹھ اور ساڑھے آٹھ  کے دوران خالقِ حقیقی سے جاملے، مزارِ مبارک صحرائے مدینہ (ٹول پلازہ بابُ المدینہ کراچی) میں ہے۔ (ماخوذ از فیضانِ سنّت، ج1،ص629تا 635)آپ کی سیرت کے متعلق تفصیلاً جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”عطّار کا پیارا پڑھئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ ماہنامہ فیضان مدینہ،باب المدینہ کراچی

Share