معراج اور عقل

اللّٰہ تعالٰی نے ہمارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جن مُعجِزات سے مُشرّف فرمایا اُن میں سفرِ معراج نہایت عظیمُ الشّان ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے جسمانی وُجود کے ساتھ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کا سفر کیا، پھر وہاں سے آسمانوں اور اس سے بالا جنّت و عرش کی سیر کی اور خداوندِ قُدّوس کی بے شمار نشانیوں اور عجائبات کا مُشاہَدہ فرمایا، اور یہ ساری سیر اور مُشاہَدات رات کے بہت مختصر حصے میں کئے، حالانکہ سفر کی تفصیلات کے پیشِ نظر عام عقْل کے مطابق جسمِ انسانی کے ساتھ یہ چیزیں ممکن نہیں، اور ممکن مانیں بھی تو اِس سیر کی تکمیل کے لئے لاکھوں سال چاہئیں۔

لیکن یہ دونوں باتیں یعنی جسمِ انسانی کے ساتھ ایسی سیر اور چند لمحات میں لاکھوں بَرَس کی مَسافَت طے کرنا، صرف سطحی نظَر و ظاہری عقل کے اعتبار سے ناممکن محسوس ہوتے ہیں، ورنہ نظَرِ ایمانی کی بینائی سے دیکھیں اور عقلِ انسانی کی گہرائی سے غور کریں تو اس میں اِنکار کی کوئی وجہ نہیں۔ نگاہِ ایمانی کیلئے آیتِ معراج کے شروع کے چند الفاظ(سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو سیر کرائی۔(پ15،بنی اسرآءیل:1) )  ہی کافی ہیں کہ یہ سیر نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود نہیں کی بلکہ اُس ہستی نے آپ علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام کو یہ سیر کروائی جو ہر عیب، کمی، کوتاہی، نقْص اور کمزوری سے پاک ہے، جس نے چھ دنوں میں آسمان و زمین بنائے(اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ(پ8،الاعراف:54))۔ جو کسی شے کو وُجُود بخشنا چاہے تو صرف اتنا فرماتا ہے ”ہوجا“ تو وہ چیز ہوجاتی ہے (اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْــٴًـا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۸۲)(پ23،یٰسٓ:82))۔ جس کا حکم پَلَک جھپکنے کی مقدار میں نافذ ہوجاتا ہے (وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ(۵۰)(پ27،القمر:50))۔ سورج چاند جس کے حکم کے پابند ہیں،(مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖؕ (پ14،النحل :12) )۔  جس نے آسمان کو نظر آنے والے سُتونوں کے بغیر بلند کردیا،(رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا(پ13،الرعد :2))۔ جس نے اربوں کہکشاؤں اور کھربوں ستاروں کے جہان آباد کردئیے اور اِن سے آسمان کی وُسْعتیں سجادیں،(وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ(پ29،الملک:5) )۔ مومن کی نگاہ تو معجزہِ معراج کو اِس انداز میں دیکھتی ہے اور(یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ(پ1،البقرۃ:3)) پر عمل کرکے ہدایت و فلاح سے سرفراز ہوتی ہے۔

درحقیقت قدرتِ خداوندی ہی کی ایک صورت اِس معجزے کی بنیاد ہے جسے اِصطلاح میں”طَیِّ زمان(وقت سمٹ جانا) اور ”طَیِّ مکان(فاصلے سِمٹ جانا) کہا جاتا ہے، اور یہ دونوں چیزیں نقل و عقل سے ثابت ہیں۔ ” طَیِّ زمان“ یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں یا اس سے زائد سالوں کا زمانہ چند لمحات میں گزرجائے، اور ”طی مکان“ یہ ہے کہ ہزاروں، لاکھوں برس کی مَسافَت چند لمحوں میں طے ہوجائے۔ زمان و مکان کی وُسعتیں محدود وقت و مسافت میں سماجانے سے متعلق معجزات و کرامات قطعی آیات و روایات سے ثابت ہیں۔ دونوں کی ایک ایک مثال پیشِ خدمت ہے:

طَیِّ زمان “ کی دلیل یہ ہے کہ قرآن پاک میں سورۃ البقرۃ آیت 259میں ایک واقعہ بیان ہوا جس کا آیات و تفاسیر کی روشنی میں خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عُزَیر علیہ السَّلام ایک گدھے پر سُوار، اپنے ساتھ کچھ پھل پانی رکھے ایک بستی کے پاس سے گزرے جو چھتوں کے بل گری پڑی تھی۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السَّلام نے کہا کہ اللہ ان لوگوں کو اِن کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟ اللّٰہ تعالٰی نے حضرت عزیر علیہ السَّلام کو سو سال موت کی حالت میں رکھا، پھر انہیں زندہ کیا، ان کے پھل پانی سب سلامت تھے، جبکہ گدھے کی ہڈیاں تک سلامت نہ تھیں۔ اللّٰہ تعالٰی نے حضرت عُزَیر علیہ السَّلام سے پوچھا کہ تم یہاں کتنا عرصہ ٹھہرے ہو؟ انہوں نے عرض کی: میں ایک دن یا اس سے بھی کم وقت ٹھہرا ہوں گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم یہاں ایک سو سال ٹھہرے ہو۔ اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اب تک بدبودار نہیں ہوا، اور اپنے گدھے کو دیکھو جس کی ہڈّیاں تک سلامت نہ رہیں۔ یہ سب اس لئے کیا گیا ہے تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنادیں۔ اب ہماری قدرت کا نظّارہ کرنے کیلئے یہ ہڈیاں دیکھو کہ ہم کیسے انہیں زندہ کرتے ہیں۔ چنانچہ چند لمحوں میں وہ گدھا دوبارہ صحیح سالِم زندہ ہوگیا۔ اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ گدھے پر تو سو سال کا عرصہ گزرگیا جبکہ حضرت عزیر علیہ السَّلام اور پھل پانی پر ایک دن کے قریب کا وقت گزرا۔ یہی طَیِّ زمان کی صورت ہے کہ ایک طویل عرصہ کسی پر تھوڑی سی دیر میں گزر جائے۔

طَیِّ مکان“ یعنی فاصِلوں کا سمٹ جانا، قرآن پاک کے ایک دوسرے واقعے سے ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں سورۃُ النَّمْل آیت 38تا 40میں مذکور کلام کا خلاصہ و تفسیر یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السَّلام نے ملِکہ بلقیس کے تخت کے مُتعَلِّق سنا جو دوسرے ملک میں سینکڑوں میل کے فاصلے پر تھا۔ آپ علیہ السَّلام نے مِلکہ کو اسلام کی دعوت دینے کے مقصد سے اپنے درباریوں سے فرمایا کہ وہ تخت کون لائے گا؟ ایک طاقتور جن نے کہا کہ میں آپ کا دربار برخاست ہونے سے پہلے وہ تخت حاضر کردوں گا۔ لیکن اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السَّلام کے وزیر، اسمِ اعظم کا علم رکھنے والے حضرت آصف بن برخیا علیہ الرحمۃ نے عرض کی کہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے وہ تخت حاضر کردوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پلک جھپکنے میں وہ تخت سامنے موجود تھا۔ اس طرح کی دیگر آیات و احادیث بھی موجود ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی قادر، قدیر، مُقْتَدِر اور خالق ہے، وہ اپنی قدرت وشانِ تخلیق کا جیسے چاہے اظہار فرمائے، یہ اُس کی شان ہے۔

موجودہ سائنسی دور میں معجزہِ معراج کا سمجھنا اور ماننا مزید آسان ہوچکا ہے۔ کیونکہ پہلے لوگ کائنات میں موجود قوانینِ خداوندی سے واقف نہیں تھے تو عقل میں نہ آنے والی چیزوں کا اِنکار کردیتے تھے۔ جیسے اگر کوئی شخص آج سے ہزار سال پہلے دعویٰ کرتا کہ لاکھوں ٹن وزنی لوہے کا بنا ہوا محل ہوا میں اُڑسکتا ہے تو لوگ مذاق اڑاتے۔ لیکن آج ہوائی جہاز کو سب تسلیم کرتے ہیں۔ یونہی پانچ سو سال پہلے اگر کوئی شخص کہتا کہ ایک بٹن دبانے سے لاکھوں پنکھے، مشینیں اور چیزیں حرَکت میں آ سکتی اور کروڑوں بلب روشن ہوسکتے ہیں اور ایک بٹن دبانے سے سب کچھ بند ہوسکتا ہے، تو سننے والے اِنکار کردیتے۔ لیکن آج پاور ہاؤس کا ایک بٹن دبانے سے یہ سب حقیقی دنیا میں ہورہا ہے اور سب اِسے مانتے ہیں۔ جب انسانی علم و قدرت کا کرشمہ ایسا حیرت انگیز ہے تو قدرتِ خداوندی کا آپ خود ہی تصور کرلیں۔ صرف سمجھانے کیلئے عرض ہے کہ اگر شبِ معراج میں معنَوی بٹن آف کرکے سارا زمینی نظام روک کر معراج کرائی گئی ہو اور وہاں سے واپَسی پر دوبارہ نظام مُتحرِّک کردیا ہو تو خدا کی قدرت سے کیا بعید ہے۔ اب تو سائنسدان برملا اِعتراف کررہے ہیں کہ ہم اب تک کائنات کے رازوں کا بہت معمولی سا حصہ دریافت کرسکے ہیں۔ چنانچہ ماضی قریب کا سب سے بڑا سائنس دان ”آئن اسٹائن“ کہہ گیا ہے: ”میں نے ریڈیو دُور بِین کے ذریعے ایک ایسا کہکشاں تو دیکھ لیا ہے، جو زمین سے دو کروڑ نوری سال دور ہے، یعنی روشنی جو فی سیکنڈ ایک کروڑ چھیاسی ہزار میل طے کرتی ہے، وہاں دو کروڑ سال میں پہنچے گی، مگر جہاں تک کائنات کی سرحدیں معلوم کرنے کا تعلق ہے، اگر میری عمر ایک ملین یعنی دس لاکھ برس بھی ہوجائے تب بھی دریافت نہیں کرسکتا۔“

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید                                   کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُنْ فَیَکُون

ہماری آنکھوں کے سامنے ناممکن اُمور، ممکِنات میں بدل رہے ہیں:موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے چند لمحوں میں ہماری آوازیں، پیغامات، ای میلز ہزاروں میل دور پہنچ جاتے ہیں۔ یونہی کسی جگہ ہونے والا واقعہ چند سیکنڈ میں تمام دنیا میں ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے قابلِ مُشاہَدہ ہوجاتا ہے۔ کار سے جہاز کی رفتار تیز ہے اور خلائی شٹل کی اُس سے زیادہ تیز اور مریخ جانے والی گاڑی کی رفتار تمام سابِقہ گاڑیوں سے تیز تر ہے۔ ہوا سے تیز رفتار، آواز ہے اور آواز سے تیز تر روشنی ہے۔ یونہی کائنات میں ستاروں کی گردش ناقابلِ یقین حد تک تیز ہے۔ الغرض ابھی تو کائناتی حقائق ظاہر ہونے کی ابتدا ہے۔                   آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

اِن سب حقائق کے ہوتے ہوئے غور کرلیں کہ اِن تمام رفتاروں کا خالق، کائنات کا مالک اگر اپنے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو چند لمحوں میں لاکھوں میل کی سیر اور کروڑوں مُشاہَدات کروادیتا ہے تو اس میں کون سی بات ناممکن و خلافِ عقل ہے؟

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ دار الافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ ، باب المدینہ کراچی

Share