باپ کو کیسا ہونا چاہئے؟ (قسط:1)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! باپ اپنے بچوں کا سربراہ و حاکم ہوتاہے اور حاکم سے اس کی رِعایا کے بارے میں سُوال ہوگا، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے:”اَلرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْؤُوْلٌ عَنْھُمْ یعنی مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس سے ان کے مُتعَلِّق سُوال ہوگا۔(بخاری،ج2،ص159، حدیث: 2554)

مفسّرِِ قراٰن حکیم الامّت مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں:” مرد سے سوال ہوگا کہ تُو نے اپنی بیوی بچّوں کے شرعی حُقوق ادا کیے یا نہیں،جن کا خرچہ تیرے ذمہ تھا انہیں خرچ دیا یا نہیں اور جن کی تعلیم تجھ پر لازم تھی انہیں تعلیم دی یا نہیں۔“(مراٰۃ المناجیح، ج5،ص352)تفسیرِ صراطُ الجنان میں ہے: جہاں  مسلمان پر اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے وہیں  اہلِ خانہ کی اسلامی تعلیم و تربیت کرنابھی اس پر لازم ہے،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے بیوی بچوں  اور گھر میں  جو افراد اس کے ماتَحْت ہیں ان سب کو اسلامی احکامات کی تعلیم دے یادلوائے یونہی اسلامی تعلیمات کے سائے میں  ان کی تربیت کرے تاکہ یہ بھی جَہنّم کی آگ سے محفوظ رہیں ۔(صراط الجنان،ج10،ص221)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اولاد اللہ کریم کی بڑی عظیم نعمت ہے، اس نعمت کی قَدْر یہ ہے کہ اس کی اچھی تربیت کی جائے تبھی یہ نعمت نعمت ہوگی، وگرنہ کتنے ہی ایسے لوگ  ہیں جو اولاد کی صحیح تربیت نہیں کرتے نتیجۃً ایک وقت آتا ہے کہ اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں دکھ اور تکالیف اٹھاتے ہیں۔  یادرکھئے!بچے کی پرورش میں باپ کا کردارانتہا ئی اہم ہے۔ اللہ کریم نے باپ کو جنّت کے درمیانی دروازے کا مقام عطا فرمایا ہے۔(سنن ابنِ ماجہ،ج4،ص186،حدیث :3663) ہر صاحبِ اولادمسلمان پر باپ ہونے کے ناطے بہت سی ذمہ داریاں (Responsibilities) بھی لازم ہوتی ہیں۔ اسے اپنے بچے کو زمانے کے سَرد وگَرْم راستوں پر چلنے کا ڈھنگ سکھانے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت پر بھی توجُّہ کرنی ہوتی ہے۔ ایک باپ کو اولاد کی تعلیم و تربیت اور دُرُست پرورش کے مُعامَلے میں  ”کیسا ہونا چاہئے؟“ اس کے بارے میں ذیل کے مدنی پھول ملاحظہ کیجئے!

٭بیج(Seed) کتنا ہی اچھا و عمدہ ہو گلشن کی رونق اِسی صورت میں بنتا ہے جب زمین بھی  زرخیز ہو۔ ماں بچے کے لئے زمین کی حیثیت رکھتی ہے،لہٰذا باپ کو چاہئے کہ نیک سیرت، صالحہ، اچھی عادات والی اور نیک خاندان کی  عورت کا انتخاب کرے کیونکہ ماں اور اس کے خاندان کی  اچھی یا بُری عادات کل اولاد میں بھی منتقل(Transfer) ہوں گی۔رسولِ کریم، رؤف رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”عورَتوں سے ان کے حُسْن کی وجہ سے نکاح نہ کرواور نہ ہی ان کے مال کی وجہ سے نکاح کرو،کہيں ایسا نہ ہو کہ ان کا حُسن اور مال انہيں سَرکشی اور نافرمانی ميں مبتلا کر دے ،بلکہ ان کی دينداری کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کروکيونکہ چپٹی ناک،اور سياہ رنگ والی کنيز دين دارہو تو بہتر ہے۔“(سنن ابن ماجہ،ج2،ص415 ، حديث:1859)ایک اور حدیثِ پاک میں ہے:”عورَتيں اپنے ہی بہن بھائیوں کے مُشابِہ بچے پيد اکرتی ہيں۔“(الکامل فی ضعفاء الرجال،ج6،ص423) ٭یادرکھئے! بچے کے  سامنے جو بھی  کیا یا بولا جاتاہے، بچہ ویسا ہی کرنے کی کوشش کرتاہے، ایسے بھی واقعات ہیں کہ بچہ ماں کے پیٹ میں بھی سیکھتاہے لہٰذا بچہ خواہ ایک دن ہی کا ہو، باپ کو چاہئے کہ بچے کے سامنے ہمیشہ اچھی بات اور اچھا کام کرنے کا اِلْتِزام کرے، بچے کے سامنے تُوتکار، اَبے تَبے نہ کرے ، یہاں تک کہ بچوں کی امّی اور دیگر افراد کو بھی  مُہذَّب انداز سے بلائے اور شفقت و مہربانی اور عزّت افزائی کے الفاظ استعمال کرے۔ ایک اسلامی بھائی  اپنے بچوں کے سامنے دوسرے بچوں کو بھی بھائی جان کہہ کر بلاتے تھے چنانچہ بچے بھی اس کوبھائی جان کہتےتھے، ایک دن نام لے کر پکارا تو بچے بھی نام لینے لگے۔ ٭باپ اور اولاد کا رشتہ بڑا عظیم رشتہ ہے۔ جو بچے اپنے باپ سے قریب ہوتے ہیں وہ زندگی کی کئی دُشواریوں (Difficulties) سے بچے رہتے ہیں۔ باپ کو نَرْم مزاج (Polite) ہونا چاہئے ، اگر باپ شفیق اور تعاون کرنے والا  ہو تو بچہ بھی مُثْبَت(Positive) اثر لے گا۔ جن بچوں کو باپ سے شفقت،مَحبَّت اور تَحفُّظ کا احساس ملتا ہے تو وہ بچے زندگی میں کامیاب رہتے ہیں۔ باپ سے بچے کا یہ تعلق بچے کو اس بات کا احساس دلاتاہے کہ کوئی اس پر نظر رکھتا ہے اور اس کا خیال بھی رکھتا ہے، اگر باپ غصے والا،بے جا پابندی لگانے اور رعب جمانے والا ہوگا تو بچہ بھی انہی رویّوں کو اپنائے گا۔ لہٰذاایک باپ کا مزاج ایسا ہو نا چاہیے کہ بچہ کھل کر اپنے دل کی بات کر سکے اور بڑھتی عُمْر میں پیش آنے والے  مسائل اور پریشانیوں کے بارے میں کھل کر اظہارِ خیال کر سکے۔ ٭باپ کو چاہئے کہ بچوں کی بچپن ہی سے اچھے انداز میں تربیت کرے،اولاد کی نافرمانی کا سبب اکثر یہ ہوتا ہے کہ بچپن میں ان کی دُرُست تربیت نہیں ہوتی،یہی وجہ ہے کہ ایک شخص نے اپنے باپ سے کہا:تم نے میرے بچپن میں مجھے ضائع کیا، اب تمہارے بڑھاپے میں میں تمہیں ضائع کروں گا۔(فیض القدیر،ج1،ص292،تحت الحدیث :311)

بقیہ آئندہ ماہ کے شمارے میں۔۔۔۔۔۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ ناظم ماہنامہ فیضان مدینہ، باب المدینہ کراچی

Share