عمامہ باندھنے کا طریقہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضور نبیّ رَحْمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی سنّتوں میں سے ایک بہت ہی پیاری اور محبوب ترین سنّت عِمامہ شریف بھی ہے۔عمامہ شریف باندھنے سے پہلے اچّھی اچّھی نیّتیں کر لیجئے، اگرعمامہ باندھتے وقت ایک بھی اچّھی نیّت نہ ہوئی تو ثواب نہیں ملے گالہٰذا کم ازکم  یہ نیّت ضرور کر لیجئے  کہ رِضائے الٰہی کیلئے بطورِ سنّت عِمامہ باندھ رہا  ہوں۔ عمامہ باندھنے کے مدنی پھول٭خَاتَمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: عمامہ باطہارت اور قبلہ رُو کھڑےہو کر باندھے اور جب کھولے تو پیچ پیچ کر کے کھولے یکبارگی نہ اُتارے،جیسے باندھنے میں پیچ پر پیچ دیا تھا اسی طریقے سے کھولے ، عمامہ باندھنے کے بعد آئینہ یا پانی یا اس کی مثل کسی (عکس دار) چیز میں دیکھ کر اس کو دُرُسْت کرے اور عمامہ شِملہ کے ساتھ باندھے۔)(کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص38) (مناسِب یہ ہے کہ عمامہ کا پہلا پیچ سر کی داہنی (سیدھی) جانب جائے۔(فتاوٰی رضویہ،ج22،ص199) ٭ (عمامے کے) شِملے کی اَقَل)یعنی کم ازکم، Minimum) مقدار چار اَنْگُشْت (اُنگل) اور ٭زیادہ سے زیادہ (Maximum) ایک ہاتھ(یعنی آدھی پیٹھ تک) (فتاوٰی رضویہ،ج22،ص182) ٭عمامہ میں سنّت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو، نہ چھ گز سے  زیادہ۔(فتاوٰی رضویہ،ج22،ص186)

عمامہ شریف کے فضائل و مسائل تفصیل سے جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کتاب”عمامہ کے فضائل“ پڑھئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ ناظم المدینۃ العلمیہ ، باب المدینہ کراچی

Share